وزیرِ خزانہ کے مشیر کی بین الاقوامی فِن ٹیک سرمایہ کاروں کو پاکستان کی اصلاحات اور ڈیجیٹل ترقی پر بریفنگ

اسلام آباد۔20دسمبر (اے پی پی):وزیرِ خزانہ کے مشیر خرم شہزاد نے مشرقِ وسطیٰ سے تعلق رکھنے والے عالمی فِن ٹیک سرمایہ کاروں کے ایک اعلیٰ سطحی وفد کے ساتھ اسٹریٹجک ملاقات کی جس میں پاکستان کی بہتر ہوتا ہوا معاشی استحکام، اصلاحاتی رفتار اور ڈیجیٹل سرمایہ کاری کے بڑھتے ہوئے مواقع پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ہفتہ کو وزارت خزانہ کی طرف سے جاری بیان کے مطابقوفد کی قیادت ڈاکٹر جان …

اسلام آباد۔20دسمبر (اے پی پی):وزیرِ خزانہ کے مشیر خرم شہزاد نے مشرقِ وسطیٰ سے تعلق رکھنے والے عالمی فِن ٹیک سرمایہ کاروں کے ایک اعلیٰ سطحی وفد کے ساتھ اسٹریٹجک ملاقات کی جس میں پاکستان کی بہتر ہوتا ہوا معاشی استحکام، اصلاحاتی رفتار اور ڈیجیٹل سرمایہ کاری کے بڑھتے ہوئے مواقع پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ہفتہ کو وزارت خزانہ کی طرف سے جاری بیان کے مطابقوفد کی قیادت ڈاکٹر جان سفاکیاناکس، چیئرمین فنچ سلوشن ہولڈنگ نے کی، جو عالمی شہرت یافتہ ماہرِ معاشیات اور سرمایہ کاری کے اسٹریٹجسٹ ہیں، جبکہ وفد میں کرل اسمولن، چیف ایگزیکٹو آفیسربھی شامل تھے، جو ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اور فِن ٹیک کے ماہر ہیں۔

اس دورے کی سہولت ٹیک ایونیو پرائیویٹ لمیٹڈ نے فراہم کی، جس کی نمائندگی اس کے چیف ایگزیکٹو آفیسر عبید الحق اور بورڈ کے مشیر خرم راحت نے کی۔ یہ تمام اقدامات راست پاکستان کے فوری ادائیگی نظام کے ذریعے تقویت پا رہے ہیں، جو ملک بھر میں کم لاگت، باہم مربوط اور حقیقی وقت کی ڈیجیٹل ادائیگیوں کو ممکن بنا رہا ہے۔مالیاتی شعبے کی جدید کاری پر بریفنگ دیتے ہوئے خرم شہزاد نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے ریٹیل ڈیجیٹل بینکنگ اقدام کے تحت پیش رفت سے آگاہ کیا، جس کے ذریعے بین الاقوامی بہترین طریقۂ کار کے مطابق ایک مخصوص ریگولیٹری فریم ورک متعارف کرایا گیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ایزی پیسہ ڈیجیٹل بینک تقریباً ایک سال سے کامیابی سے کام کر رہا ہے، جبکہ مشرق ڈیجیٹل بینک نے بھی پاکستان میں آپریشنز کا آغاز کر دیا ہے، جو ملکی ریگولیٹری ماحول پر عالمی اعتماد کا مظہر ہے۔ اس کے علاوہ کئی دیگر ڈیجیٹل بینکس لانچ کے مراحل میں ہیں، جو ڈیجیٹل ایکو سسٹم کو مزید مضبوط بنائیں گے۔مشیرِ خزانہ نے بلاک چین، ویب 3.0 اور ورچوئل اثاثوں کے شعبوں میں پاکستان کے مستقبل بین اقدامات سے بھی آگاہ کیا، جن میں ذمہ دارانہ ریگولیٹری فریم ورک کی تیاری اور عالمی شہرت یافتہ پلیٹ فارمز کے ساتھ شراکت داری شامل ہے، تاکہ جدت کے ساتھ ساتھ تعمیل اور سرمایہ کاروں کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

بین الاقوامی سرمایہ کاروں نے اصلاحات اور پالیسی سمت کی وضاحت کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا میکرو اکنامک استحکام، ڈیجیٹل انفراسٹرکچر اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کا مربوط ماڈل طویل المدتی سرمایہ کاری اور اسٹریٹجک شراکت داری کے لیے پُرکشش مواقع فراہم کرتا ہے۔ملاقات میں بات پر اتفاق کیا گیا کہ آئندہ بھی روابط برقرار رکھے جائیں گے، جس سے پاکستان کی اصلاحات پر مبنی، جدت دوست اور مسابقتی سرمایہ کاری منزل کے طور پر حیثیت مزید مستحکم ہوتی ہے۔