وزیرِ داخلہ سے جمعیت علماءاسلام کے 25 رکنی وفد کی ملاقات سوشل میڈیا پر گستاخانہ مواد کی تشہیرکی روک تھام کے سلسلہ میں حکومتی اقدامات پر بات چیت اسلام آباد ۔ 04 اپریل (اے پی پی) وزیرِ داخلہ چوہدری نثار علی خان سے جمعیت علماءاسلام کے 25 رکنی وفد نے منگل کو یہاں ملاقات کی جس میں سوشل میڈیا کے ذریعے گستاخانہ مواد کی تشہیر اور اس کی روک تھام …
وزیرِ داخلہ سے جمعیت علماءاسلام کے 25 رکنی وفد کی ملاقات

مزید خبریں
وزیرِ داخلہ سے جمعیت علماءاسلام کے 25 رکنی وفد کی ملاقات
سوشل میڈیا پر گستاخانہ مواد کی تشہیرکی روک تھام کے سلسلہ میں حکومتی اقدامات پر بات چیت
اسلام آباد ۔ 04 اپریل (اے پی پی) وزیرِ داخلہ چوہدری نثار علی خان سے جمعیت علماءاسلام کے 25 رکنی وفد نے منگل کو یہاں ملاقات کی جس میں سوشل میڈیا کے ذریعے گستاخانہ مواد کی تشہیر اور اس کی روک تھام کے سلسلہ میں حکومتی اقدامات پر بات چیت کی گئی۔ وزارت داخلہ کی طرف سے جاری بیان کے مطابق علماءکے وفد نے وزیرِ داخلہ کی جانب سے مسلم ممالک کے سفیروں کا اجلاس بلانے اور گستاخانہ مواد کا مسئلہ او آئی سی، عرب لیگ اور اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم پر اٹھانے کے فیصلے جیسے اقدامات پر خراجِ تحسین پیش کیا۔ وفد نے کہا کہ جس انداز میں سوشل میڈیا کو گستاخانہ مواد کی تشہیر کا ذریعہ بنایا گیا ہے اس پر تمام مسلمانوں کے مذہبی جذبات مجروح ہوئے ہیں، اس نا قابل قبول روش کی روک تھام کے سلسلہ میں حکومتی اور عدالتی اقدامات قابل تعریف ہیں۔ وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے اس موقع پر کہا کہ ناموس رسول کا تحفظ نہ صرف ہماری ذمہ داری ہے بلکہ ہمار ا مذہبی فریضہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ آزادی اظہار کی آڑ میں نہ تو اپنی مذہبی شخصیات کی بے حرمتی برداشت کریں گے اور نہ سوشل میڈیا کے غلط استعمال کی اجازت دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ دنیا بھر کے مسلمانوں کا مشترکہ مسئلہ ہونے کے ناطے ہماری پوری کوشش ہے کہ پوری امت مسلمہ یک زبان ہو کر اس ایشو پر آواز بلند کرے تاہم پاکستان اس سلسلہ میں ہر فورم پر آواز اٹھانے اور اس مسئلہ کو منطقی انجام تک پہنچانے کےلئے پرعزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ آزادی اظہار کا احترام اپنی جگہ لیکن اس ضمن میں کوئی دوہرا معیار قبول نہیں۔








