اقوام متحدہ ۔ 25 جون (اے پی پی) پاکستان نے اقوام متحدہ میں دنیا بھر میں پر امن اور منصفانہ معاشروں کو فروغ دینے کے لئے نسل پرستی ، مذہبی منافرت بالخصوص اسلام فوبیا کے خاتمہ کے لئے 6 نکاتی منصوبہ تجویز کیا ہے۔ اقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب ڈاکٹر ملیحہ لودھی نے ایک بڑے فورم سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کی جانب سے اسلام فوبیا کے خاتمہ …
وزیر اعظم عمران خان نے مختلف فورمز پر اسلام فوبیا کے خاتمہ کے لئے فور ی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا ہے، ڈاکٹر ملیحہ لودھی

مزید خبریں
اقوام متحدہ ۔ 25 جون (اے پی پی) پاکستان نے اقوام متحدہ میں دنیا بھر میں پر امن اور منصفانہ معاشروں کو فروغ دینے کے لئے نسل پرستی ، مذہبی منافرت بالخصوص اسلام فوبیا کے خاتمہ کے لئے 6 نکاتی منصوبہ تجویز کیا ہے۔ اقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب ڈاکٹر ملیحہ لودھی نے ایک بڑے فورم سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کی جانب سے اسلام فوبیا کے خاتمہ کے لئے 6 نکاتی منصوبہ کی تجویز پیش کی ۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹرملیحہ لودھی نے کہا کہ اسلام فوبیا میں اضافہ خطرناک پیش رفت ہے، وزیر اعظم عمران خان نے مختلف فورمز پر اسلام فوبیا کے خاتمہ کے لئے فور ی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا ہے جبکہ اقوام متحدہ اور دیگر متعلقہ اداروں کو یہ مسئلہ حل کرنا چاہیے۔انھوں نے کہا کہ پاکستان نے منافرت انگیز تقاریر کے خلاف گزشتہ ہفتہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوئٹرس کی سٹریٹجی اور لائحہ عمل کے پیش نظر دہشت گردی اور مذہبی بنیاد پر تشدد کے دیگر واقعات کے خاتمہ کے لئے فورم پر اپنی آواز بلند کی ہے۔اجلاس کے دوران دیگر مقررین نے مذہی منافرت اور تشدد کے بڑھتے ہوئے رحجانات کے باعث درپیش چیلنجوں سے نمٹنے کے لئے موئثر اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔بعد ازاں ”اے پی پی “سے بات چیت کرتے ہوئے سفیر ملیحہ لودھی نے کہا کہ مذہبی بنیاد پر تشدد اور منافرت انگیز بیانیہ کے بڑھتے ہوئے رحجان کے پیش نظر فورم میں اس اہم مسئلہ پر بحث کی گئی جس سے مسئلہ کے حل میں مدد ملے گی ۔ پینل شرکاء میں ترکی اور ویٹیکن کے سفیر دہشت گردی کے خاتمہ سے متعلق ادارہ کے انڈر سیکرٹری جنرل ولادی میر وورنکوف قرطبہ ہاﺅس کے صدر امام فیصل عبدل رﺅف اور اقوام متحدہ کے مشیر برائے انسداد قتل وغارت ایڈاما ڈائینگ ، قطر، سعودی عرب، انڈونیشیا، صومالیہ، کرغیزستان اور ازبکستان کے سفیر شامل تھے۔ ملیحہ لودھی نے تشدد اور اسلام فوبیا کے خاتمہ کے لئے 6 نکات پیش کئے انہوں نے کہا کہ اس مسئلہ کے حل کے لئے حکومتوں کو قانون سازی کرنی چاہیے ، ٹیکنیکل کمپنیاں سوشل میڈیا کو اشتعال انگیز ،منفی اور منافرت انگیز مواد استعمال کرنے سے روکیں ایسے مقاصد میں ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز کا سد باب کریں ۔








