اسلام آباد ۔ 3 مارچ (اے پی پی) وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت دریاﺅں اور نہروں میں سیوریج اور گندگی کی وجہ سے پیدا ہونے والی آبی آلودگی کی روک تھام کے حوالے سے منگل کو اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں وزیرِ برائے بحری امور سیّد علی حیدر زیدی، مشیر موسمیاتی تبدیلی ملک امین اسلم، معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان، وفاق …
وزیر اعظم عمران خان کی آبی آلودگی کی روک تھام کے حوالے سے اعلیٰ سطح کے اجلاس میں ہدایت

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 3 مارچ (اے پی پی) وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت دریاﺅں اور نہروں میں سیوریج اور گندگی کی وجہ سے پیدا ہونے والی آبی آلودگی کی روک تھام کے حوالے سے منگل کو اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں وزیرِ برائے بحری امور سیّد علی حیدر زیدی، مشیر موسمیاتی تبدیلی ملک امین اسلم، معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان، وفاق اور صوبہ پنجاب اور خیبرپختونخوا کے سینئر افسران نے شرکت کی۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ اس وقت ملک کا 93 فیصد پانی زرعی مقاصد، 5 فیصد صنعتی شعبہ اور 2 فیصد گھریلو مقاصد کےلئے استعمال ہو رہا ہے۔ زمینی سطح پر دریائے چناب، دریائے کابل اور دریائے سندھ آبی آلودگی کا شکار ہو رہے ہیں جبکہ ملک کی 6 کروڑ آبادی زمینی پانی کی آلودگی کا شکار ہو رہی ہے۔ وزیرِاعظم کو بتایا گیا کہ کراچی میں تقریباً 90 فیصد زیر زمین پانی آلودگی کا شکار ہے۔ میونسپل سطح پر مختلف شہروں میں محض 10 فیصد پانی کو جزوی طور پر ٹریٹ کیا جاتا ہے جبکہ صنعتی سطح پر محض ایک فیصد پانی کو صاف کیا جاتا ہے، زرعی شعبہ میں استعمال ہونے والے فرٹیلائزرز پانی کی آلودگی کا باعث بن رہے ہیں۔ وزیرِاعظم کو بتایا گیا کہ ورلڈ بینک کے ایک اندازے کے مطابق تقریباً 40 فیصد اموات پانی کی آلودگی کی وجہ سے پیدا ہونے والی بیماریوں سے ہو رہی ہیں جبکہ اس آلودگی سے آبی حیات بھی بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ سروے کے مطابق وزیرِاعظم عمران خان کی ذاتی کاوشوں سے اس وقت تقریباً 75 فیصد آبادی میں ماحولیاتی آلودگی کے نقصانات کے بارے میں شعور پایا جاتا ہے۔ اجلاس کے دوران چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا اور صوبہ پنجاب کے متعلقہ افسران نے صوبہ خیبرپختونخوا اور صوبہ پنجاب میں سیوریج اور گندگی کے نتیجے میں پھیلنے والی آبی آلودگی کی روک تھام کے حوالہ سے مختلف منصوبوں کے بارے میں آگاہ کیا۔ وزیرِاعظم کو بتایا گیا کہ صوبہ پنجاب میں سیوریج اور گندگی کے نتیجہ میں پھیلنے والی آبی اور ماحولیاتی آلودگی کی روک تھام کےلئے صوبہ بھر میں 36 منصوبے زیر غور ہیں۔ ان منصوبوں میں ایشیئن ڈویلپمنٹ بینک، ورلڈ بینک اور دیگر بین الاقوامی اداروں کی معاونت بھی شامل ہے۔ چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا نے آبی آلودگی کی روک تھام کے حوالہ سے مختلف منصوبوں پر وزیرِاعظم کو تفصیلی بریفنگ دی۔ اس حوالہ سے انہوں نے دریائے سوات، دریائے کابل میں آبی آلودگی کی روک تھام، پشاور، ایبٹ آباد، مردان جیسے خیبرپختونخوا کے بڑے شہروں میں سیوریج کو ٹھکانے لگانے کے منصوبوں، حطار اور پشاور انڈسٹریل اسٹیٹ میں واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹس کے قیام اور صوبہ پنجاب کی طرز پر ہسپتالوں کے فضلہ جات کو ٹھکانے لگانے کے حوالہ سے بریفنگ دی۔ وزیرِاعظم نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آبی آلودگی ایک نہایت سنجیدہ معاملہ ہے، آبی آلودگی کی وجہ سے عوام کی صحت اور معیشت پر منفی اثرات کو مدنظر رکھتے ہوئے اس مسئلہ پر فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ وزیرِاعظم نے مشیر موسمیاتی تبدیلی کو ہدایت کی کہ آبی آلودگی کی روک تھام کے حوالے سے صوبوں کی مشاورت سے جامع حکمت عملی اور ٹائم لائنز پر مبنی روڈ میپ آئندہ 15 دنوں میں مرتب کیا جائے تاکہ اس حوالہ سے عملی اقدامات کو حتمی شکل دے کر عملدرآمد کو یقینی بنایا جا سکے۔ وزیرِاعظم نے ہدایت کی کہ نئے قائم ہونے والی انڈسٹریل اسٹیٹس اور نجی ہاﺅسنگ سوسائٹیوں میں قانون کے مطابق واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹس کی موجودگی اور فعالی کو یقینی بنایا جائے۔







