وزیر اعظم کی معاون خصوصی اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کی نجی ٹی وی چینل سے گفتگو

اسلام آباد ۔ 3 دسمبر (اے پی پی) وزیر اعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ پارلیمنٹ کا اصل کام قانون سازی کرنا ہے، پارلیمنٹ میں بیٹھی سیاسی جماعتوں کا فرض اور ذمہ داری بھی ہے کہ وہ قومی مفاد کی قانون سازی کو اپنے سیاسی ایجنڈے سے علیحدہ رکھیں، اپوزیشن اہم قانونی معاملے کو بارگیننگ چپ کے طور پر استعمال …

اسلام آباد ۔ 3 دسمبر (اے پی پی) وزیر اعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ پارلیمنٹ کا اصل کام قانون سازی کرنا ہے، پارلیمنٹ میں بیٹھی سیاسی جماعتوں کا فرض اور ذمہ داری بھی ہے کہ وہ قومی مفاد کی قانون سازی کو اپنے سیاسی ایجنڈے سے علیحدہ رکھیں، اپوزیشن اہم قانونی معاملے کو بارگیننگ چپ کے طور پر استعمال کرنا چاہتی ہے، اپوزیشن آرمی چیف سے متعلق قانون سازی کو لیکر حکومت پر دباﺅ ڈالنا چاہتی ہے ۔منگل کو نجی ٹی وی چینل سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے معاون خصوصی نے کہا کہ آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے حوالے سے سپریم کورٹ کا فیصلہ آنے کے بعد وزیراعظم نے کمیٹی بنائی ہے جس کو اس معاملے میں پیش رفت کا ٹاسک دیا گیا ہے ، کمیٹی معاملے کا جائزہ لے گی اور وزیر اعظم کو رپورٹ کرے گی ۔ انہوں نے کہا کہ ایکٹ آف پارلیمنٹ کے ذریعے قانون سازی کرنا کوئی مسئلہ اور چیلنج نہیں ہونا چاہیے لیکن اگر سینیٹ کے اندر کوئی قانونی پیچیدگی آتی ہے تو اس کو کم کرنے کیلئے کیا حکمت عملی ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ چیف آف آرمی سٹاف کی مدت ملازمت میں توسیع سیاسی نہیں قومی مسئلہ ہے، یہ قومی سلامی اور دفاع کے ساتھ جڑا ہوا معاملہ ہے، افواج پاکستان کسی جماعت کی فوج نہیں ہے بلکہ پورے پاکستان کی فوج ہے اور اس کا کام ملکی سلامتی اور تحفظ کو یقینی بنانا ہے، اپوزیشن کو اس قومی مسئلے پر سیاست نہیں کرنی چاہیے بلکہ قومی مسئلے پر اپوزیشن کو فرض سمجھ کر حکومت کا ساتھ دینا اور قانون کو پاس کرانا چاہیے۔ ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ آرمی ایکٹ میں ترمیم قومی ضرورت ہے، ماضی میں اس حوالے سے جو گیپ رہ گیا تھا اگر اب وقت آیا ہے کہ اسے پر کیا جانا چاہیے ، اس میں اپوزیشن کا بھی اتنا ہی فرض ہے جتنا حکومت کا ہے۔ معاون خصوصی نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان کبھی بھی کسی کی بلیک میلنگ میں نہیں آئے اور نہ ہی بدعنوان عناصر کے خلاف احتساب سے پیچھے ہٹیں گے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم ملک میں قانون کی حکمرانی پر یقین رکھتے ہیں، عدلیہ کی آزادی کیلئے بھی ان کا بڑا واضح موقف ہے۔ انہوں نے کہا کہ طاقتور مافیا کو قانون کے تابع ہونا چاہیے مگر انہوں نے قانون کو اپنے تابع کیا ہوا تھا۔ ان مافیا کا قومی کاز نہیں بلکہ ذاتی مفاد ہے، وزیر اعظم عمران خان نے مافیا کو ہر جگہ چیلنج کیا، پارلیمنٹ میں ثابت ہو جائے گا کہ کون اپنے مفاد اور کون قومی سلامتی کے ساتھ کھڑا ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہباز شریف اپنی جائیدادوں کی منی ٹریل دیں تو اس کے بعد قانونی طور پر اس پر عمل درآمد کیا جائے گا۔ معاون خصوصی نے کہا کہ بلاول بھٹو کو بتانا چاہتی ہوں کہ عوام نے پی ٹی آئی کو پانچ سال کا مینڈیٹ دیا ہے اور وہ اپنی آئینی مدت پورے کرے گی، عمران خان ملک کیلئے لازم و ملزوم ہیں۔ ان کے علاوہ کوئی آپشن نہیں ہے اور وہ آئندہ انتخابات میں بھی دوبارہ وزیر اعظم منتخب ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ شریف خاندان کے بچے پیدا ہوتے ہی اربوں روپے کے مالک بن جاتے ہیں ، قوم بھی جاننا چاہتی ہے کہ آخر ان کے پاس ایسی کیا چیز ہے کہ پیدا ہوتے ہی وہ جائیدادوں کے مالک بن جاتے ہیں، حقائق زیادہ دیر تک چھپ نہیں سکتے۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن بھی محب وطن ہے، امید ہے کہ وہ قومی مسئلے پر کوئی ایسا کام نہیں کریں گے جس سے ملک عدم استحکام کا شکار ہو۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی حکومت کی جامع اور دانشمندانہ پالیسیوں کی بدولت ملکی معیشت بہتری کی طرف گامزن ہے، آنے والے سال کے ابتدائی مہینے عوام کیلئے خوشخبری کا باعث بنیں گے، مہنگائی کو کم کرنے میں مدد ملے گی ،نیا سال تکلیفوں سے نجات کا سال ثابت ہو گا۔