لاہور۔8 اکتوبر(اے پی پی )وزیر اعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ جن کو عوام مسترد کر چکے ہیں حکومت ان سے کیوں پریشان ہوگی‘ کٹھ پتلیوں کو ہلانے والے جیلوں کے اندر بیٹھے ہیں اور ان کے آلہ کار باہر ہیں پہلے بیرونی اشاروں پر انہیں ریلیف مل جاتا تھا لیکن اب وزیر اعظم کے مصمم ارادوں کے بعد وہ …
وزیر اعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کی ریڈیو پاکستان میں پریس کانفرنس

مزید خبریں
لاہور۔8 اکتوبر(اے پی پی )وزیر اعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ جن کو عوام مسترد کر چکے ہیں حکومت ان سے کیوں پریشان ہوگی‘ کٹھ پتلیوں کو ہلانے والے جیلوں کے اندر بیٹھے ہیں اور ان کے آلہ کار باہر ہیں پہلے بیرونی اشاروں پر انہیں ریلیف مل جاتا تھا لیکن اب وزیر اعظم کے مصمم ارادوں کے بعد وہ لوگ مایوسی کا شکار ہوکر ملک میں بے چینی اور انتشار پھیلا کرحکومت کو عدم استحکام کا شکار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ‘ سپارہ پڑھنے والے بچوں کو ان کی بھینٹ نہیں چڑھنے نہیں دیں گے۔ وزیراعظم نے کشمیریوں کے حقیقی سفیر ہونے کا حق ادا کیا اور اقوام عالم کو بھارتی ظلم و ستم سے آگاہ کیا‘ بھارت کا بیانیہ تمام انوسٹمنٹ کے باوجود پوری دنیا میں پٹ کر رہ گیا جبکہ کشمیریوں کی آواز پوری دنیا میں ابھری اور آج ساری دنیا کشمیریوں کی آواز کی حمایت کر رہی ہے اور وہاں سے کرفیو کے اٹھانے کی بات کر رہی ہے اور یہی قومی بیانیے کی جیت ہے۔ریڈیو پاکستان ملکی تاریخ و تمدن کا امین رہا اور اسی ادارے کی کوکھ سے الیکٹرانک میڈیا نے جنم لیا‘ریڈیو پاکستان پورے ملک کی آواز بنتا رہا لیکن آج اس کی اپنی زبان میں لغزش ہے‘وزیراعظم کی ہدایت پر اس ادارے کو اصلاحات لا کر بہتر کیا جا رہا ہے‘ریڈیو پاکستان کی مالی صورتحال آج تشویشناک ہو چکی ہے‘اس ادارے میں بین الاقوامی معیار کی اصلاحات لائی جا رہی ہیں۔وہ منگل کے روز ریڈیو پاکستان کے نور جہاں آڈیٹوریم میں پریس کانفرنس سے خطاب کر رہی تھیں۔ ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ ریڈیو پاکستان کے ملازمین کی پنشن کی مد میں 7 سو ملین روپے کی رقم ریلیز کر دی گئی ہے جبکہ ریڈیو پاکستان کے آرٹسٹوں اور ملازمین کے میڈیکل بلوں کی 70، 70 ملین روپے کی رقم بھی جاری کی جا چکی ہے۔انہوں نے کہا کہ ریڈیو پاکستان کے ملازمین کو پروموشن بورڈ کی سفارشات اور کارکردگی کی بنا پر ایک ایک درجہ ترقی دی جا رہی ہے۔ادارے کے ملازمین کے مطالبات منظور ہونے پر یونین اور وزارت اب ایک پیج پر آ گئے ہیں۔








