اسلام آباد ۔ 10 جون (اے پی پی) وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر نے کہا ہے کہ شوگر سکینڈل سے متعلق کمیشن کی رپورٹ کی روشنی میں وزیراعظم نے ہر طرح کی قانونی کارروائی کی منظوری دیدی ہے، کمیشن کی سفارشات کے تحت 16 قسم کی کارروائی ہوگی، فوجداری مقدمات ہوں گے، گزشتہ پانچ سال میں 29 ارب روپے کی سبسڈی دی گئی، معاملات شفاف ہوں …
وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبرکی پریس کانفرنس سے خطاب
اسلام آباد ۔ 10 جون (اے پی پی) وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر نے کہا ہے کہ شوگر سکینڈل سے متعلق کمیشن کی رپورٹ کی روشنی میں وزیراعظم نے ہر طرح کی قانونی کارروائی کی منظوری دیدی ہے، کمیشن کی سفارشات کے تحت 16 قسم کی کارروائی ہوگی، فوجداری مقدمات ہوں گے، گزشتہ پانچ سال میں 29 ارب روپے کی سبسڈی دی گئی، معاملات شفاف ہوں تو سبسڈی دینا کوئی جرم نہیں، مگر اس دوران جو سبسڈی دی گئی اس میں ایک بنیادی چیز سامنے آئی کہ یہ سبسڈی بدنیتی پر فیصلے کے تحت دی گئی، اس سلسلے میں کوئی عدالتی فیصلہ نہیں تھا، مل مالک آ کر بتاتا تھا کہ ایکس مل ریٹ کیا ہے اور ہمیں یہ کس قیمت پر پڑتی ہے، دنیا بھر میں چینی سستی ہے ہمارے ہاں مہنگی ہے، اس چیز کو جواز بنا کر مل مالکان کہتے کہ چونکہ دنیا میں چینی سستی ہے اس لیے ہم ایکسپورٹ نہیں کرسکتے ا ور اس بناءپر سبسڈی دی جاتی۔ ساری دنیا کا کسان خوشحال ہے لیکن پاکستان کا کسان جو گنا سستا بیچتا ہے اس کی حالت بہتر نہیں ہے، فرانزیک رپورٹ میں یہ بات ثابت ہوگئی ہے کہ مل مالکان کسان کو 30 سے 35 فیصد حکومت کی مقرر کردہ قیمت سے کم ادائیگیاں کرتے ہیں۔ چینی سکینڈل میں ملوث افراد کے خلاف احتساب آرڈیننس کے سیکشن 9 کے تحت کارروائی کی جائے گی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کو پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ شوگر مافیا بہت مضبوط ہے ان کی پہنچ اداروں کے اندر تک ہے۔ انہوں نے کہا کہ احتساب آرڈیننس کے سکشن 9 کے تحت چینی سکینڈل میں نامزد افراد سے متعلق متعلقہ اداروں کو کہہ دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ شوگر مل مالکان کو بتانا چاہتا ہوں یہ ماضی کا دور نہیں، شوگر مل مالکان ایسوسی ایشن نے عدالت سے رجوع کیا ہے لیکن انہوں نے دیر سے درخواست دائر کی ہے کیونکہ کمیشن اپنا کام کر چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اعلان شدہ مقدار سے بہت زیادہ گنا کرش کیا جارہا ہے جس کا ٹیکس بھی نہیں دیا جارہا۔ چینی سکینڈل کے سلسلہ میں پینل ایکشن معاملہ کارروائی کیلئے صوبوں کو دیا جارہا ہے۔ چیئرمین نیب کو چینی سکینڈل سے متعلق پہلا ریفرنس بھیج دیا گیا ہے۔ چینی سکینڈل کے حوالے سے کچھ لوگوں کو نامزد کر دیا گیا ہے اور ان کے بارے کارروائی کیلئے متعلقہ اداروں کو واضح ہدایات جاری کر دی گئی ہیں کمیشن کی سفارشات کی روشنی میں ایک جامع ایکشن پلان تیار کر لیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چینی کی قیمتوں میں ہمارے ہاں واضح فرق ہے چینی کی قیمت کے تعین کیلئے وفاقی وزیر حماد اظہر کی سربراہی میں کمیٹی کام کرے گی۔









