وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے اوورسیز پاکستانیز و سیاحت سید ذوالفقار بخاری کا انٹرویو

اسلام آباد ۔ 29 اگست (اے پی پی) وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے اوورسیز پاکستانیز و سیاحت سید ذوالفقار بخاری نے کہا ہے کہ سیاحت کے شعبہ میں تیزی لانے کے لیے نیشنل کوآرڈینیشن کمیٹی برائے سیاحت تشکیل دی گئی ہے ۔ معاون خصوصی زلفی بخاری نے ایک انٹر ویو میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں سیاحت ایک ایسی صنعت ہے جس میں کئی شعبوں کے تعاون …

اسلام آباد ۔ 29 اگست (اے پی پی) وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے اوورسیز پاکستانیز و سیاحت سید ذوالفقار بخاری نے کہا ہے کہ سیاحت کے شعبہ میں تیزی لانے کے لیے نیشنل کوآرڈینیشن کمیٹی برائے سیاحت تشکیل دی گئی ہے ۔ معاون خصوصی زلفی بخاری نے ایک انٹر ویو میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں سیاحت ایک ایسی صنعت ہے جس میں کئی شعبوں کے تعاون کی ضرورت پڑتی ہے۔سیاحت ہماری اولین ترجیح ہے اور یہ ملک میں روزگار فراہم کرنے والی سب سے بڑی صنعتوں میں سے ایک ہے، لہٰذاوزیرِ اعظم سیاحت کے فروغ پر بھی اتنی ہی توجہ دے رہے ہیں جتنا کسی بھی اور شعبے کو دیتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ اسی لیے سیاحت کے فروغ میں تیزی لانے، مناسب طریقوں سے اجازت نامے لینے اور اس سلسلے میں ہر کام کی رفتار کو تیز تر بنانے کے لیے انہوں نے نیشنل کوآرڈینیشن کمیٹی برائے سیاحت تشکیل دینے کا سوچا ہے۔زلفی بخاری کا کہنا تھا کہ اس کمیٹی کو خاصے وسیع اختیارات دیے گئے ہیں۔ یہ کمیٹی ملکی سیاحتی مقامات کی جیو میپنگ کرے گی، اور صوبوں میں سیاحت کے مجاز افراد کو آگے لاکر اصلاحات پر عمل درآمد کروائے گی تاکہ اسے ایک ’ون ونڈو آپریشن‘ بنایا جا سکے۔ان کا کہنا تھا کہ ’بنیادی طور پر یہ کمیٹی ایک جامع نقطہ نظر سے کام کرے گی تاکہ تمام صوبے مل کر ایک ساتھ آگے بڑھ سکیں۔‘سیاحت کی قومی رابطہ کمیٹی کے کردار کے حوالے سے زلفی بخاری نے کہا کہ اس کے قیام کا مقصد سیاحت کے فروغ کے لیے سیمینارز وغیرہ منعقد کروانا نہیں بلکہ ’داخلی سطح پر سیاحت کے ایجنڈے کو آگے بڑھانا ہے۔‘ان کا کہنا تھا کہ این سی سی اس بات کو یقینی بنائے گی کہ قوانین سازی، نئے مقامات کی نشاندہی اور وہاں سیاحتی سہولیات کے حوالے سے تمام صوبے اسی رفتار سے آگے بڑھ رہے ہیں جس کی وزیر اعظم توقع کر رہے ہیں۔زلفی بخاری کا کہنا ہے کہ این سی سی کے لیے ایک اہم چیز یہ یقینی بنانا ہے کہ صوبے سیاحت کے لیے صحیح امکانات پیدا کریں، درست فزیبلٹی پیش کریں، پ±رکشش مقامات کی نشاندہی کرکے جامع سفارشات و پالیسیاں مرتب کریں۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ہم نے دس سال کی ٹورازم پالیسی بنائی ہے اور اس کے ساتھ پانچ سال کا ایکشن پلان بھی فراہم کیا ہے‘ اور اب ہر صوبے کو اپنی ڈیمو گرافکس اور ڈائینامکس کے حساب سے اس پلان پر عمل کرنے کی ضرورت ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ این سی سی ماحولیاتی نقطہ نظر، آب و ہوا کی تبدیلی، دیگر قواعد و ضوابط اور تمام ضروری پہلوو¿ں کو مدِنظر رکھتے ہوئے یہ یقینی بنائے گی کہ وہ (صوبے) جلد از جلد اس کام کو انجام دیں۔ زلفی بخاری کا کہنا تھا کہ سٹیٹ بنک کو اس لیے شامل کیا گیا ہے کہ مہمان نوازی کی صنعت سے وابستہ افراد (جن میں ہوٹل مالکان بھی شامل ہیں) کے لیے باآسانی قرضے فراہم کیے جا سکیں۔ان کا کہنا تھا کہ ویزوں اور ملک کے اندر نقل و حرکت کے لیے وزراتِ داخلہ کا کردار بہت اہمیت کا حامل ہے، اسی لیے این سی سی کی ہر میٹنگ میں وزارتِ داخلہ کی شمولیت ضروری ہے۔زلفی بخاری نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ وہ ملک میں مذہبی سیاحت کو مزید فروغ دینا چاہتے ہیں اور اس حوالے سے وزارتِ دفاع اور مذہبی امور مل کر کام کرتی ہیں اسی لیے انھیں بھی اس کمیٹی میں شامل کیا گیا ہے۔