اسلام آباد ۔ 15 نومبر (اے پی پی) وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ سے وفاقی وزیر برائے سیفران و نارکوٹکس شہر یارآفریدی نے جمعہ کو کراچی میں ملاقات کی۔ ملاقات میں چیف سیکرٹری سندھ ممتاز شاہ، صوبائی وزیر نارکوٹکس مکیش کمار چاولہ ، وزیراعلیٰ سندھ کے مشیر مرتضیٰ وہاب، ڈی جی پاکستان میری ٹائم سکیورٹی ریئر ایڈمرل ذکر الرحمان، واصف میمن چیف کلکٹر کسٹمز، ڈپٹی ڈی جی کوسٹ …
وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ سے وفاقی وزیر برائے سیفران و نارکوٹکس شہر یارآفریدی کی ملاقات، منشیات کی سمگلنگ کی روک تھام پر تبادلہ خیال

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 15 نومبر (اے پی پی) وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ سے وفاقی وزیر برائے سیفران و نارکوٹکس شہر یارآفریدی نے جمعہ کو کراچی میں ملاقات کی۔ ملاقات میں چیف سیکرٹری سندھ ممتاز شاہ، صوبائی وزیر نارکوٹکس مکیش کمار چاولہ ، وزیراعلیٰ سندھ کے مشیر مرتضیٰ وہاب، ڈی جی پاکستان میری ٹائم سکیورٹی ریئر ایڈمرل ذکر الرحمان، واصف میمن چیف کلکٹر کسٹمز، ڈپٹی ڈی جی کوسٹ گارڈ کول مظفر حسین ، قرة العین اور دیگر شریک تھے۔ آئی جی سندھ ڈاکٹر کلیم امام ، وزیراعلیٰ سندھ کے پرنسپل سیکرٹر ی ساجد جمال ابڑو ،سیکرٹری داخلہ عثمان چاچڑ، کمشنر کراچی افتخار شہلوانی ، ایڈیشنل آئی جی کراچی غلام نبی میمن ، سیکریٹری ایکسائز اینڈ نارکوٹکس حلیم شیخ اور بریگیڈیئر بشارت ڈپٹی ڈی جی رینجرز و دیگر شریک تھے۔ جمعہ کو وزارت سیفران کی طرف سے جاری بیان کے مطابق اجلاس میں وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا کہ ہر قسم کی نارکوٹکس کو کنٹرول کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ حکومت سندھ نے گٹکے پر پابندی لگائی ہے ، ہر قسم کی نارکوٹکس کی فروخت کے خلاف سخت اقدام اٹھایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئس ڈرگ کو مکمل طورپر کنٹرول کیا گیا ہے۔ آئس ڈرگ سکولوں تک پہنچ گئی تھی جوکہ خطرناک تھا۔ اس سلسلہ میں بہت سی گرفتاریاں بھی عمل میں لائی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم اپنے مستقبل کے معماروں کو منشیات سے محفوظ رکھنا چاہتے ہیں ۔ اس موقع پر وفاقی وزیر نے کہا کہ نارکوٹکس کے کاروبار کے مکمل خاتمے پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ منشیات کے عادی لوگوں کی بحالی کے کام کو مزید بہتر کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ شہر یار آفریدی نے کہا کہ منسٹری آف نارکوٹکس سندھ حکومت کے ساتھ ہر قسم کا تعاون کرے گی۔ سکھر اور کراچی میں منسٹری آف نارکوٹکس کے سینٹرز ہیں۔ اس موقع پر چیف سیکرٹری نے کہا کہ منشیات ملک میں نہیں بن رہیں، باہر سے آ رہی ہے، ہمیں ان کی سمگلنگ کو سرحدوں پر روکنا ہے۔








