وزیر اعلی پنجاب شہباز شریف کی جوڈیشل اکیڈمی میں جے آئی ٹی کے سامنے پیشی کے بعد رکن قومی اسمبلی حمزہ شہباز شریف کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو

اسلام آباد ۔ 17 جون (اے پی پی) وزیراعلی پنجاب محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ ہمارا پانچویں بار احتساب ہو رہا ہے تاہم کوئی سرکاری خورد برد اور کرپشن کا ہم پر کیس نہیں ہے، ہم نے پہلے بھی اپنے آپ کو احتساب کیلئے پیش کیا اوراب بھی پیش کر رہے ہیں،اس دھرتی سے ہمیں بے حد پیار ہے اور یہ مٹی ہماری ہے، جے آئی ٹی نے …

اسلام آباد ۔ 17 جون (اے پی پی) وزیراعلی پنجاب محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ ہمارا پانچویں بار احتساب ہو رہا ہے تاہم کوئی سرکاری خورد برد اور کرپشن کا ہم پر کیس نہیں ہے، ہم نے پہلے بھی اپنے آپ کو احتساب کیلئے پیش کیا اوراب بھی پیش کر رہے ہیں،اس دھرتی سے ہمیں بے حد پیار ہے اور یہ مٹی ہماری ہے، جے آئی ٹی نے جو سوال کئے میں نے اپنے علم کے مطابق ان کو جواب دیئے، 70 سالہ تاریخ میں پہلی بار منتخب وزیراعظم اور اب منتخب وزیراعلی کے طور پر جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہو کر ہم نے ثابت کیا ہے کہ منتخب لوگ آئین و قانون کا احترام کرتے ہیں، میں نے کمر درد کا بہانہ کر کے جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہونے سے انکار نہیں کیا اور نہ ہی جا کے ہسپتال داخل ہو گیا، ہمیں فخر ہے کہ ہم ایسے باپ کے بیٹے ہیں کہ جن کی امانت و دیانت کا لوگ اعتراف کرتے ہیں، بینک آنکھیں بند کر کے انہیں قرض دیتے تھے، اتفاق فاﺅنڈری کے قومیائے جانے کے بعد ہم نے پونے چھ ارب روپے کے قرضے واپس لوٹائے۔ ہفتہ کو جوڈیشل اکیڈمی میں جے آئی ٹی کے سامنے پیشی کے بعد رکن قومی اسمبلی حمزہ شہباز شریف کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شہباز شریف نے کہا کہ عدالت عظمی کی طرف سے تشکیل دی گئی جے آئی ٹی نے مجھے نوٹس بھجوایا کہ ان کے سامنے پیش ہو کر پانامہ کے معاملہ پر سوالوں کا جواب دوں، اس حوالہ سے میں نے کمیشن کے سامنے پیش ہو کر اپنا سارا بیان ریکارڈ کرا دیا ہے، اس سے قبل وزیراعظم پاکستان بھی جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہوئے تھے، پاکستان کی 70 سالہ تاریخ میں پہلی بار یہ نیا باب رقم ہوا ہے کہ ایک منتخب وزیراعظم نے جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہو کر اپنا بیان ریکارڈ کرایا اور آج ایک اور تاریخ رقم ہوئی ہے کہ جب ایک صوبہ کا خادم جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہوا، یہ قانون کی حکمرانی کی اعلی مثال ہے، اس سے ثابت ہوا کہ منتخب لوگوں کے دلوں میں آئین و قانون کا کتنا احترام ہے۔

Leave a Reply