اسلام آباد ۔ 22 فروری (اے پی پی) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ بھارت کی پاکستان کے خلاف طاقت کے استعمال کی دھمکی سے خطے میں سکیورٹی کی صورتحال بگڑرہی ہے،درپیش صورتحال عالمی امن وسلامتی کے لئے خطرہ کا باعث ہے،اقوام متحدہ کشیدگی کم کرنے کے لئے اپنا کردار ادا کرے۔ سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق کشمیریوں کو ان کا استصواب رائے کا حق دلایا …
وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے صدر انتونیو ندونگ مبا کے نام خط

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 22 فروری (اے پی پی) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ بھارت کی پاکستان کے خلاف طاقت کے استعمال کی دھمکی سے خطے میں سکیورٹی کی صورتحال بگڑرہی ہے،درپیش صورتحال عالمی امن وسلامتی کے لئے خطرہ کا باعث ہے،اقوام متحدہ کشیدگی کم کرنے کے لئے اپنا کردار ادا کرے۔ سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق کشمیریوں کو ان کا استصواب رائے کا حق دلایا جائے اورعالمی برادری بھارت کو جنگ کی آگ بھڑکانے سے باز رکھے۔جمعہ کو وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے صدر انتونیو ندونگ مبا کو اپنے ایک خط میں کہا ہے کہ بھارت کی پاکستان کے خلاف طاقت کے استعمال کی دھمکی سے خطے میں سکیورٹی کی صورتحال بگڑرہی ہے۔معاملے کی فوری نوعیت کے احساس کے ساتھ آپ کو خط لکھ رہا ہوں۔درپیش صورتحال عالمی امن وسلامتی کے لئے خطرہ کا باعث ہے۔وزیر خارجہ نے سلامتی کونسل کے صدر کو صورتحال سے آگاہ کرتے ہوئے خط میں کہا ہے کہ 14 فروری 2019ءکو مقبوضہ کشمیر میں پلوامہ واقعے کے فوری بعد بلاتحقیق بھارت نے پاکستان پر الزام تراشی شروع اور بلاثبوت وشواہد اس واقعہ پر پاکستان کوجوابی کارروائی کی دھمکیاں دینا شروع کردیں۔بھارتی بے بنیاد الزامات کا تمام تر انحصارمشکوک مواد کی حامل سوشل میڈیا پر جاری ہونے والی ایک وڈیو ہے۔وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ بھارت اپنی قیاس آرائیوں کو حقائق کا نام دینے کی کوشش کررہا ہے۔بھارت اپنی آپریشنل اور پالیسی ناکامیوں کا مبلہ پاکستان پر ڈالنے کی کوشش میں ہے۔بھارت اپنی داخلی سیاسی وجوہات کے لئے دانستہ پاکستان کے خلاف جارحانہ روایتی فتنہ پردازی کرکے ماحول خراب کررہا ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارتی وزیراعظم عوامی جذبات انگیخت کرنے اور ”بھرپور جواب“ کی دھمکی پر مبنی بیانات دے چکے ہیں۔خط میں کہا گیا ہے کہ بھارتی وزیراعظم نے ”عوام میں بہت غصہ ہے، لوگوں کا خون کھول رہا ہے، اگلا قدم ہماری فوج اٹھائے گی“ کے بیانات دیئے۔بھارتی وزیراعظم نے کہاکہ ”وقت اور مقام کیا ہونا چاہئے، کس شکل میں ہونا چاہئے، اس بارے میں فیصلے کی اجازت دے دی ہے۔اس کے علاوہ بھارتی حکومت کے اعلی حکام دریاو¿ں کے پانی روکنے کی دھمکیاں دے رہے ہیں جس سے دیرینہ قانونی طورپر طے شدہ سندھ طاس معاہدہ خطرات سے دوچار ہے۔وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ پاکستان نے پلوامہ حملے سے متعلق بھارتی الزامات کو پوری قوت سے مسترد کیا ہے۔پاکستان نے ٹھوس شواہد کی فراہم پر تحقیقات میں تعاون کی پیشکش کی ہے۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم پاکستان نے دہشت گردی اور دیگر تنازعات پر بھارت کو بات چیت کی دعوت دی ہے۔پاکستان نے بھارتی جارحیت کی صورت میں اپنے دفاع کے عزم کا اظہار کیا ہے۔بھارت کے پیدا کردہ ہیجان کے نتیجے میں مقبوضہ کشمیر کے عوام پر تشدد کی نئی لہر مسلط کردی گئی ہے۔مقبوضہ جموں وکشمیر کے عوام کو خودارادیت کے ناقابل تنسیخ حق کا مطالبہ کرنے پر ظلم وتشدد کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کی قراردادوں میں تنازعہ کشمیر کا حل جموں کشمیر کے عوام کو اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کے لئے استصواب رائے کا حق دینا ہے۔کشمیری عوام کو ان کے بنیادی حق سے محروم کرنے کے لئے بھارت طاقت کا بے رحمانہ استعمال کررہا ہے۔بھارت کشمیریوں کی تحریک آزادی کو کچلنے کے لئے ان کے حق خودارادیت کو ”دہشت گردی“ قراردینے کا پراپیگنڈہ کررہا ہے۔ بھارت کی جانب سے حقائق کو توڑ مروڑ کر دنیا کو گمراہ کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔کشمیری عوام کی قربانیاں اور جو مظالم انہوں نے اپنے حق کے لئے سہے ہیں وہ ان کی آزادی کی جدوجہد کا بذات خود ایک بڑا واضح ثبوت ہے۔مقبوضہ جموں وکشمیر کے عوام بین الاقوامی برادری کی طرف دیکھ رہے ہیں کہ وہ ان کی حالت زار کی طرف توجہ دے ۔وزیر خارجہ نے صدر سلامتی کونسل پر زور دیا کہکشمیریوں پر بہیمانہ بھارتی مظالم رکوانے کے لئے فوری اقدامات کئے جائیں۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق کشمیریوں کو ان کا استصواب رائے کا حق دلایا جائے اورعالمی برادری بھارت کو جنگ کی آگ بڑھکانے سے باز رکھے۔شاہ محمو قریشی کا کہنا ہے کہ بھارت کشیدگی کو ہوا دینے کے بجائے پاکستان اور کشمیریوں کے ساتھ بات چیت کا راستہ اپنائے تاکہ جنوبی ایشیاءمیں امن واستحکام کو یقینی بنایا جاسکے۔وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ میں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس کو بھی صورتحال کی سنگینی سے آگاہ کرچکا ہوں۔اقوام متحدہ کشیدگی کم کرنے کے لئے اپنا کردار ادا کرے ۔سلامتی کونسل کے ارکان کو وقوع پزیر صورتحال کے بارے میں آگاہ کرتے رہیں گے۔وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اپنے خط کے ہمراہ پلوامہ واقعے کے بارے میں وزیراعظم عمران خان کے قوم سے خطاب کے کلیدی نکات بھی منسلک کئے ہیں۔وزیر خارجہ نے سلامتی کونسل کے صدر کو اپنا خط کونسل کے ارکان کو ارسال کرنے کی بھی درخواست کی ہے۔







