اسلام آباد ۔ 13 مئی (اے پی پی) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کا خطہ ٹیکنالوجی، مادی، انسانی اور مالی وسائل سے مالامال ہے، ایس سی او درپیش چیلنج سے نمٹنے میں جامع تعاون استوار کرنے میں قائدانہ کردار ادا کر سکتی ہے، ترقی مزید ملکوں کو صحت سے بڑھ کر معاشی چیلنج بھی درپیش ہے، کورونا وباءسے مل کر …
وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا ایس سی او وزراءخارجہ کونسل کے غیرمعمولی ورچوئل اجلاس سے خطاب

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 13 مئی (اے پی پی) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کا خطہ ٹیکنالوجی، مادی، انسانی اور مالی وسائل سے مالامال ہے، ایس سی او درپیش چیلنج سے نمٹنے میں جامع تعاون استوار کرنے میں قائدانہ کردار ادا کر سکتی ہے، ترقی مزید ملکوں کو صحت سے بڑھ کر معاشی چیلنج بھی درپیش ہے، کورونا وباءسے مل کر مقابلہ کرنے اور آگے بڑھنے میں ایس سی او کا اشتراک عمل ناگزیر ہے، غیرقانونی قبضہ کے شکار عوام کے خلاف ریاستی دہشت گردی کا ارتکاب کرنے والوں کو بھی کٹہرے میں کھڑا کرنا چاہئے، ایس سی او کی سطح پر مشترکہ ورکنگ گروپ برائے انسداد غربت اور سینٹر آف ایکسیلنس تشکیل دیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کو ایس سی او وزراءخارجہ کونسل کے غیرمعمولی ورچوئل اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ آج دنیا نظر نہ آنے والے نامعلوم دشمن سے برسرپیکار ہے، ہفتوں کے اندر ہی کورونا وائرس جنگل کی آگ کی مانند تمام معاشروں اور صحت عامہ کے نظام میں پھیل چکا ہے اور پہلے ہی قلیل وسائل کو مزید ختم کر رہا ہے، قیمتی جانیں لے رہا ہے اور معیشت کو اپاہج اور دنیا بھر کے کاروبار کو مفلوج بنا رہا ہے، اس پیمانے پر کچھ بھی اس صدی میں نہیں دیکھاگیا۔ وزیر خارجہ دنیا بھر میں کورونا سے متاثرہ تمام خاندانوں سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا اور روس کی جانب سے بروقت اجلاس منعقد کرنے کے اقدام کو سراہتے ہوئے ان کی کاوشوں کا اعتراف کیا۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ کورونا وباءکی صورت میں اقوام متحدہ کو ان 75سال میں اپنی افادیت کے سب سے مشکل ترین امتحان کا سامنا ہے تاہم یہ امر باعث اطمینان ہے کہ ایس سی او نے اپنے قیام سے لے کر اب تک اقوام متحدہ کے منشور کو مقدم رکھا ہے اور کثیرالقومیتی مقصد کو آگے بڑھایا ہے۔ دنیا کی 40 فیصد آبادی کے مسکن اور اس کے چوتھائی جی ڈی پی کے طورپر ایس سی او خطہ ٹیکنالوجی، مادی، انسانی اور مالی وسائل سے مالامال ہے جن کی مدد سے کورونا جیسی سخت مشکل کے خلاف کوششوں میں کامیابی حاصل کی جا سکتی ہے۔ مشترکہ مفاد، باہمی اعتماد واحترام کے شنگھائی جذبے کا مظہر ایس سی او درپیش چیلنج سے نمٹنے میں جامع تعاون استوار کرنے میں قائدانہ کردار ادا کرسکتی ہے۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ عوامی جمہوریہ چین اس جنگ میں خاص طور پر ایک کامیاب، مو¿ثر اور قابل تقلید مثال ہے۔ پاکستان اس بحران سے نبردآزما ہونے میں چین کی انتہائی ذمہ دارانہ کاوشوں کو خراج تحسین پیش پیش کرتا ہے اور پاکستان سمیت دنیا بھر میں اس وباءکی روک تھام میں مدد کی فراہمی کو سراہتا ہے۔ انہو ں نے کہا کہ 26 فروری 2020ءکو پہلا کورونا کیس سامنے آنے کے بعد پاکستان وباءکی روک تھام کےلئے انتہائی احتیاط پر مبنی موثر حکمت عملی پر کاربند ہے۔ ٹیسٹ، ٹریس اور کوارنٹائن کی استعداد میں اضافہ کرتے ہوئے پاکستان نے سمارٹ لاک ڈاﺅن کو اختیار کیا۔ 8 ارب امریکی ڈالر کا معاشی امدادی پیکج دیاگیا ہے۔ ایک کروڑ 20 لاکھ خاندانوں نے ہمارے سماجی تحفظ کے پروگرام سے استفادہ کیا ہے۔ لاک ڈاﺅن اور طلب میں کمی کے باعث روزگار کے مسائل سے دوچار افراد کو10 ارب درخت (بلین ٹری سونامی منصوبہ) کے ذریعے روزگار فراہم کیا جا رہا ہے۔ مزدور پیشہ صنعتوں کے لئے مراعات کا پیکیج دیاگیا تاکہ معیشت کا پہیہ رواں رہے۔ صحت کے نظام کو استوار رکھنے کے لئے کورونا وباءسے نمٹنے اور اس کے موثر مقابلے کے لئے 595 ملین ڈالر مالیت کی حکمت عملی (پی۔پی۔آر۔پی) کا اجرا کیاگیا ہے۔ پاکستان میں اب تک کورونا کے مصدقہ مریضوں کی تعداد 30 ہزار سے زائد ہے جبکہ 659 افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں۔ یہ ابھی واضح نہیں کہ کورونا کا مرض پاکستان میں اپنی انتہاءکو پہنچ چکا ہے۔ ٹیسٹنگ کی استعداد میں اضافہ کے ساتھ اگرچہ متاثرہ افراد کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے لیکن ہم نے متاثرین کی مقدار میں بہت بڑی تعداد میں اضافہ نہیں دیکھا۔ اموات کی تعداد بھی محدود ہے۔ ہمیں احساس ہے کہ احتیاط کا دامن ہم نہیں چھوڑ سکتے۔ ہمیں خبردار رہنا ہے۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ غالباً صحت سے بڑھ کر معاشی چیلنج بھی درپیش ہے۔ ترقی پزیر ممالک کورونا وباءکے باعث سنگین مالی مشکلات سے دوچار ہیں۔ عالمی بینک، آئی ایم ایف اور جی 20 کی جانب سے قرض کی ازسرنوتشکیل کے اقدام کا پاکستان خیرمقدم کرتا ہے لیکن ہم سجھتے ہیں کہ اس ضمن میں مزید اقدامات کی ضرورت ہے۔وزیراعظم عمران خان کے ترقی پذیر ممالک کے ذمے واجب الادار قرضوں میں ریلیف کے عالمی اقدام کا مقصد ایک جامع منصوبہ کا اجراءہے تاکہ غریب ممالک کو قرض میں سہولت ملے اور وہ اپنے وسائل کورونا سے مقابلے اور اپنے لوگوں کی جان بچانے کے لئے بروئے کار لاسکیں اور اس کے ساتھ ساتھ اپنی معیشت کو سنبھالا دے کر شرح نمو کو مستحکم کرسکیں۔ کورونا وباءسے مل کر مقابلہ کرنے اور آگے بڑھنے میں ایس سی او کا اشتراک عمل ناگزیر ہے۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ کورونا وبائ کے خلاف جنگ لڑتے ہوئے ہمیں خطے کی سلامتی کو لاحق دیگر خطرات کو بھی پیش نظر رکھنا ہوگا۔ امریکہ اور طالبان میں امن معاہدہ ایک تاریخی پیش رفت ہے جس سے افغانستان میں امن اور استحکام کی بحالی کی امیدیں روشن ہوگئی ہیں جو دہائیوں سے جنگ کی لپیٹ میں ہے۔ افغان قیادت کے لئے موقع ہے کہ وہ اس تاریخی مرحلے سے فائدہ اٹھائیں اور اجتماعی وجامع تصفیہ کے لئے مل کر کام کریں۔ ایس سی او افغانستان رابطہ گروپ کے ذریعے ایس سی او اس اہم مرحلے پر امن واستحکام کے فروغ میں اپنا نہایت اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فسطائیت، عسکریت اور متشدد قومیت پسندی کے خلاف فتح کی 75 ویں سالگرہ مناتے ہوئے ہمیں یقینی بنانا ہوگا کہ دیگر قومیتوں سے بیزاری اور اسلام مخالف سوچ کو دنیا میں پنپنے نہ دیا جائے اور ان رجحانات کو دنیا مسترد کرے۔ ہم پختہ یقین رکھتے ہیں کہ دہشگت گردی اور انتہاءپسندی کی ہر شکل سے نمٹنا ہماری اولین ترجیح رہنی چاہئے۔ اس کے ساتھ ساتھ کسی کو یہ اجازت نہیں دینی چاہئے کہ دہشت گردی سے متعلق الزامات کو سیاسی ہتھیار کے طورپر کسی دوسرے ملک، قوم یا مذہب کو بدنام کرنے کے لئے استعمال کرے۔ غیرقانونی قبضہ کے شکار عوام کے خلاف ریاستی دہشت گردی کا ارتکاب کرنے والوں کو بھی کٹہرے میں کھڑا کرنا چاہئے اور ان کی مذمت کرنی چاہئے۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ہم ایس سی او کے وباوں کی روک تھام میں تعاون کے مجوزہ معاہدے اور عالمی ادارہ صحت اور ایس سی او کے درمیان مفاہمتی یادداشتوں کا خیرمقدم کرتے ہیں۔ ہم اس ضمن میں اجتماعی کوششوں میں شرکت کے پاکستان کے عزم کا اعادہ کرتے ہیں۔ وزیر خارجہ نے اس موقع پر چند سفارشات بھی پیش کیں۔اول یہ کہ ہمیں عالمی قانون اور اقوام متحدہ اور اس کے اداروں کی مرکزیت کو بنیادی اصول کے طورپر تسلیم کرنا ہوگا اور معیار بنانا ہوگا۔ کورونا وبا کے تناظر میں کسی طبقہ کے ساتھ مذہب، رنگ ونسل کی بنیاد پر امتیازی سلوک نہیں ہونا چاہئے اور نہ ہی کسی طبقہ کواس وباءکے لئے مورد الزام ٹھرایا یا نشانہ بنایاجائے۔ دوم، یہ کہ بہترین طریقوں کو اختیارکیاجائے اور ایک دوسرے کے تجربات سے سیکھنے کے لئے صحت کی وزارتوں میں رابطوں کو بڑھایا جائے۔ سوم، یہ کہ ہمیں ایک ایسا طریقہ کار وضع کرنا چاہئے جہاں کورونا وائرس پر مشترکہ تحقیق کے لئے ہم سائنسی اور تکنیکی صلاحیت کو جمع کرسکیں تاکہ کورونا وباءکے علاج کے لئے ویکسین کی تیاری یا کسی شفا کے حصول کی راہ ہموار ہوسکے۔ چہارم یہ کہ ایس سی او ممالک کو نادار طبقات اور معاشروں کی معاشی مدد کے پہلو سے تبادلہ خیال کرنا چاہئے۔ پاکستان کی اس ضمن میں تجویز ہوگی کہ ایس سی او کی سطح پر مشترکہ ورکنگ گروپ برائے انسداد غربت اور سینٹر آف ایکسیلنس تشکیل دیاجائے۔ وزیر خارجہ نے تجویز پیش کی کہ ہمیں اپنے ہسپتالوں اور لیبارٹریوں میں تعاون مزید بڑھانا چاہئے اور ایس سی او ہسپتال الائنس کی تشکیل کے لئے کام کرنا چاہئے۔ 75 برس قبل جیسے متشدد قومیت پسندی کی قوتوں کے خلاف دنیا نے فتح حاصل کی تھی، آج کورونا وباءکے خلاف دنیا کو اسی اتحاد اور مقصدیت پر آنا ہوگا تاکہ اس چیلنج کے خلاف دنیا فتح حاصل کرے۔ ایس سی او میں یہ کردکھانے کی بھرپور صلاحیت موجود ہے۔وزیر خارجہ نے کہا کہ سینٹ پٹرز برگ میں سربراہان مملک کی کونسل کے متوقع اجلاس کے حوالے سے ہم روسی پریذیڈنسی کی کامیابی کے لئے نیک تمناوں کا اظہار کرتے ہیں۔







