وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا ایوان بالا میں پالیسی بیان

اسلام آباد ۔ 4 مارچ (اے پی پی) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ طالبان اور امریکہ کے درمیان مذاکرات میں پاکستان نے گارنٹر کا نہیں سہولت کار کا کردار ادا کیا، افغانستان کے اندر اور باہر سے بعض طاقتیں اپنے مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کر سکتی ہیں، پائیدار امن کے لئے جامع جنگ بندی ضروری ہے، یہ معاہدہ کاغذ کا ٹکڑا نہیں ہے، امریکہ نے …

اسلام آباد ۔ 4 مارچ (اے پی پی) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ طالبان اور امریکہ کے درمیان مذاکرات میں پاکستان نے گارنٹر کا نہیں سہولت کار کا کردار ادا کیا، افغانستان کے اندر اور باہر سے بعض طاقتیں اپنے مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کر سکتی ہیں، پائیدار امن کے لئے جامع جنگ بندی ضروری ہے، یہ معاہدہ کاغذ کا ٹکڑا نہیں ہے، امریکہ نے یقین دلایا ہے کہ 29 فروری کے معاہدے کی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے توثیق کرائی جائے گی، پاکستان پر امن و مستحکم افغانستان کا خواہاں ہے، افغانستان میں امن و امان قائم ہونے سے پاکستان پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوں گے، افغانستان میں بھارت کا کوئی سیکورٹی رول نہیں ہونا چاہیے، افغانستان میں تشدد میں اضافہ کے پاکستان پر اثرات مرتب ہوں گے، علاقائی روابط کو فروغ اور پاکستان کے وسط ایشیائی ممالک کے ساتھ تعلقات مزید بہتر ہوں گے۔ بدھ کو ایوان بالا میں پالیسی بیان دیتے ہوئے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ 29 فروری کو دوحہ اور کابل میں دو اجلاس ہوئے جس سے افغانستان میں جاری لڑائی کے خاتمہ کی امید پیدا ہوئی، یہ مثبت پہلا قدم ہے اور توقع ہے کہ اس سے افغانستان میں امن و استحکام پیدا ہو سکتا ہے، 19 سالہ طویل لڑائی بھی آسان نہ تھی اور امن کی جانب پہلا قدم بھی آسان راستہ نہیں۔ نشیب و فراز میں رکاوٹیں ہوں گی، کئی قوتیں اس راستے کو ترجیح نہیں دیتی، مختلف شراکت داروں کو اس نکتے پر متفق کرنا کہ افغان مسئلہ کا حل جنگ نہیں ہے، طاقت، وسائل، ٹیکنالوجی کو 19 سال آزما کر دیکھ لیا، کوئی فائدہ نہیں ہوا، پاکستان ہمیشہ باور کراتا رہا ہے کہ اس مسئلے کا واحد حل مذاکرات ہی ہیں، ایک ٹریلین سے زیادہ اخراجات ہوئے، ہزاروں جانیں ضائع ہوئیں، اب اس حوالے سے سوچ تبدیل ہوئی۔ طالبان اور ان کے مخالفین کے درمیان بڑی خلیج اور اعتماد کی کمی تھی، ان کو قائل کرنے سے مذاکرات کی میز پر مسئلہ کو حل کرنے میں پیش رفت ہوئی۔ مذاکرات کاروں کی اہلیت پر سوالات اٹھائے گئے اور بعد میں اعتماد سازی پیدا ہوئی۔ امریکہ اور افغانستان میں بعض عناصر کی یہ رائے کہ اس پر آگے نہیں بڑھ سکتے ہیں، یہ بے سود ہو گا۔ ایک طبقہ یہ بھی کہتا ہے کہ طویل عرصہ سے جاری راستہ کو چھوڑ کر نئی راہ اپنائی جائے۔ افغانستان کے اندر اور باہر سے بعض طاقتیں اپنے مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔ امریکہ، افغانستان اور طالبان کے درمیان بات چیت ہوئی۔ پاکستان کا کردار سہولت کار کا ہے، افغانستان سے متعلق فیصلے افغانوں کو خود کرنے چاہئیں، بڑا نکتہ یہ تھا کہ افغانستان میں جنگ غیر ملکی افواج کے خلاف ہے، افواج نکالنے پر آمادگی کے باعث مذاکرات میں پیش رفت ہوئی، افواج نکالنے کے اثرات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ افواج کے انخلاءکے ماضی کے تجربات کو بھی سامنے رکھا گیا۔ پاکستان افغانستان سے غیر ملکی افواج کے ذمہ دار انخلاءکا حامی رہا ہے، 135 دنوں میں بڑی تعداد میں فوج افغانستان سے چلی جائے گی، 8 ہزار 600 فوجی افغانستان میں موجود رہیں گے، آئندہ 9 ماہ میں باقی فوجیوں کا انخلاءہو گا، انخلاءکا عمل 14 ماہ میں مکمل کیا جائے گا، امریکہ کا مطالبہ تھا کہ القاعدہ سمیت کسی بھی دہشت گرد تنظیم کو امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے خلاف افغان سرزمین استعمال نہیں کرنے دی جائے۔ قیدیوں کی رہائی کا معاملہ دوطرفہ ہے۔ طالبان قیدیوں اور طالبان کے پاس قیدیوں کو رہا کیا جائے گا۔ امید ہے اس حوالے سے جلد پیش رفت ہو گی۔ طالبان رہنماﺅں پر پابندیوں پر نظرثانی کی جائے گی۔ امریکہ سیکورٹی کونسل کے دیگر ممالک سے مشاورت کرے گا۔ اقوام متحدہ کی پابندیوں کی فہرست میں شامل موجود طالبان کا نام نکالا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ معاہدہ کاغذ کا ٹکڑا نہیں ہے، امریکہ نے یقین دلایا ہے کہ 29 فروری کے معاہدے کی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے توثیق کرائی جائے گی، امریکہ نے افغانستان کی تعمیر میں مالی تعاون کا یقین دلایا ہے، طالبان کی اہلیت جانچنے کے لئے سات روز کی عارضی جنگ بندی کی گئی، پائیدار امن کے لئے جامع جنگ بندی ضروری ہے، پاکستان پر امن و مستحکم افغانستان کا خواہاں ہے، پاکستان میں امن افغانستان کے امن سے جڑا ہے، افغانستان کے حالات بہتر ہونے سے دونوں ممالک کے درمیان تجارت میں اضافہ ہو گا۔ توانائی کے منصوبوں کی تکمیل سمیت کئی منصوبوں کی تکمیل کرنے کی راہیں کھلیں گی، کاسا 1000 منصوبے سے سستی بجلی دستیاب ہو گی، ملک کو فائدہ ہو گا، تاپی گیس پائپ لائن منصوبہ مکمل ہونے سے گیس کا مسئلہ حل کرنے میں مدد ملے گی، افغانستان میں امن سے علاقائی روابط کو فروغ ملے گا، سمندر تک رسائی نہ رکھنے والے ممالک کو گوادر کے ذریعے تجارت کا موقع ملے گا۔ امریکہ نے یقین دلایا ہے کہ افغان سیکورٹی فورسز کی حمایت جاری رکھے گا، دہشت گرد گروپوں کے حملے کی صورت میں امریکہ افغانستان کو تنہا نہیں چھوڑے گا۔ ماضی میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان شکوک و شبہات رہے ہیں، امریکہ نے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں بہتری کے لئے کردار ادا کرنے کا یقین دلایا لیکن ہم دوطرفہ مذاکرات کے ذریعے بھی اپنے مسائل حل کر سکتے ہیں، پاکستان مذاکرات کا حصہ نہیں، ہم گارنٹر نہیں ہیں، ساری ذمہ داری پاکستان نہیں لے سکتا، سب کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے، افغانستان کی عوام امن کی خواہاں ہے، افغان قیادت کے لئے اب آزمائش کا وقت ہے کہ وہ امن کے اس راستے سے کس طرح فائدہ اٹھاتے ہیں۔ پاکستان پر امن، سیاسی و معاشی طور پر مضبوط افغانستان، غیر ملکی افواج کا ذمہ دار انخلاءاور افغانستان کے ساتھ محفوظ اور ریگولیٹڈ بارڈر کا خواہاں ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ افغان سر زمین پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ مشترکہ کارروائی کے لئے خواہاں نہ تھے، افغانستان میں بھارت کا کوئی سیکورٹی رول نہیں ہونا چاہیے، افغانستان میں عدم استحکام سے مہاجرین پاکستان آ سکتے ہیں، افغانستان میں تشدد میں اضافہ کے پاکستان پر اثرات مرتب ہوں گے۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ افغانستان کو القاعدہ، داعش اور سیاسی عدم استحکام کے چیلنجز ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان اختلاف ہیں، ایران افغانستان کا ہمسایہ ہے، ہمارے ایران کے کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں، ہم ان سے بات کر سکتے ہیں، ایران نے بھارت میں مسلمانوں پر مظالم کی مذمت کی ہے اور کشمیر پر واضح موقف اپنایا ہے، ترکی نے دو ٹوک انداز میں بھارتی مظالم کی مذمت کی ہے، مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پیچیدہ ہو چکی ہے، بھارت میں شہریت ترمیمی ایکٹ کے باعث صورتحال خراب ہو چکی ہے۔