اسلام آباد ۔ 22 فروری (اے پی پی)وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے جمعہ کو اپنے ترک ہم منصب مولود چاواوگلو سے ٹیلی فون پر بات چیت کی اور انہیں پلوامہ حملے کے بعد کی صورتحال سے متعلق بریف کیا۔ترک وزیر خارجہ نے پاکستانی موقف سے مکمل اتفاق کرتے ہوئے پلوامہ حملے کے حوالے سے پاکستان کیخلاف بھارتی الزامات کو مسترد کیا اور کہا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان …
وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا ترک ہم منصب مولود چاواوگلو کوٹیلی فون

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 22 فروری (اے پی پی)وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے جمعہ کو اپنے ترک ہم منصب مولود چاواوگلو سے ٹیلی فون پر بات چیت کی اور انہیں پلوامہ حملے کے بعد کی صورتحال سے متعلق بریف کیا۔ترک وزیر خارجہ نے پاکستانی موقف سے مکمل اتفاق کرتے ہوئے پلوامہ حملے کے حوالے سے پاکستان کیخلاف بھارتی الزامات کو مسترد کیا اور کہا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان کشمیر سمیت تمام تصفیہ طلب مسائل مذاکرات کے ذریعے حل کرنیکی ضرورت ہے۔ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے مختلف معاملات پر پاکستان کی بھر پور حمایت پر ترکی کا شکریہ ادا کیا۔انہوں نے کہا کہ یہ حمایت ایک دوسرے کے شانہ بشانہ کھڑا ہونے سے متعلق پاکستان اور ترکی کے عزم کی عکاس ہے۔پلوامہ حملے کے حوالے سے ترک ہم منصب کو بریفنگ دیتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاکستان نے بھارت سے ثبوت مانگے ہیں جو حملے کی تحقیقات میںمعاون ہوسکیں۔شاہ محمو دقریشی نے کہا کہ رواں سال جنوری میں وزیر اعظم عمران خان کے دورہ ترکی سے دونوں ملکوں کے درمیان بردارانہ تعلقات مزید مستحکم ہوئے ہیں۔دورے کے دوران فریقین نے پاک ترک تعلقات کو سٹریٹجک شراکت داری میں تبدیل کرنے پر اتفاق کیا۔ترک وزیر خارجہ نے پاکستانی موقف کی بھر پور حمایت کرتے ہوئے کہا کہ ترکی پلوامہ حملے میں پاکستان کیخلاف بھارتی الزامات کو مسترد کرتا ہے۔انہوں نے تمام تصفیہ طلب معاملات حل کرنے کیلئے پاکستان اور بھارت کے درمیان مذاکرات کی ضرورت پر زور دیا۔ترک وزیر خارجہ نے کہا کہ ترکی میں مقامی انتخابات کے بعد صدر رجب طیب اردوان پاکستان کا دورہ کرینگے۔







