اسلام آباد ۔ 5ستمبر (اے پی پی) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ امریکی ہم منصب مائیکل پمپیو کے ساتھ ملاقات خوشگوار رہی، پاکستان کا نقطہ نظر خود داری اور ذمہ داری سے پیش کیا، امریکہ نے پاکستان کے حوالہ سے اپنی پالیسی کا ازسرنو جائزہ لیا ہے اور اسلام آباد سے ڈومور کا کوئی مزید مطالبہ نہیں کیا۔ بدھ کو دفتر خارجہ میں پریس کانفرنس سے …
وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا دفتر خارجہ میں پریس کانفرنس سے خطاب

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 5ستمبر (اے پی پی) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ امریکی ہم منصب مائیکل پمپیو کے ساتھ ملاقات خوشگوار رہی، پاکستان کا نقطہ نظر خود داری اور ذمہ داری سے پیش کیا، امریکہ نے پاکستان کے حوالہ سے اپنی پالیسی کا ازسرنو جائزہ لیا ہے اور اسلام آباد سے ڈومور کا کوئی مزید مطالبہ نہیں کیا۔ بدھ کو دفتر خارجہ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان اور امریکہ نے خطہ اور عالمی امن و استحکام کیلئے اپنے تعلقات میں پیشرفت پر اتفاق کیا۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ امریکی وزیر خارجہ کے ساتھ ملاقات کے دوران ہم نے پاکستان کا حقیقت پسندانہ مو¿قف ذمہ داری اور خود داری سے پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ امریکی سیکرٹری خارجہ نے مجھے امریکہ کے دورہ کی دعوت دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر امریکی ہم منصب سے دوسری ملاقات ہو گی۔ افغانستان کے حوالہ سے انہوں نے کہا کہ امریکہ نے بھی اس سلسلہ میں اپنی پالیسی کا ازسرنو جائزہ لیا ہے اور اب امریکہ اس نتیجہ پر پہنچا ہے کہ وہ افغانستان کا معاملہ سیاسی مذاکرات سے حل کرنا چاہتا ہے۔ ملاقات کے دوران امریکی وفد نے عندیہ ظاہر کیا کہ وہ طالبان کے ساتھ براہ راست مذاکرات پر آمادہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکی سیکرٹری خارجہ نے واضح کیا کہ واشنگٹن افغانستان میں طویل عرصہ تک قیام کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔ انہوں نے کہا کہ نئی حکومت اپنی پالیسیوں کا ازسرنو جائزہ لے گی، اس تناظر میں علاقائی ہمسایہ ممالک کے ساتھ مثبت اپروچ چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا مقصد پاکستانی عوام کی بہتری، امن و استحکام، علاقائی روابط اور اقتصادی ترقی ہے۔








