وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا وزارت خارجہ میں ڈپلومیٹک کور سے خطاب

اسلام آباد ۔ 23 اگست (اے پی پی) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ کشمیر سے متعلق ہندوستانی اقدامات نے خطے کے امن کو شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے، پاکستان نے ہمیشہ مذاکرات کی حمایت کی ہے مگر بدقسمتی سے ہماری مذاکرات کی دعوت کو سنجیدگی سے نہیں لیا گیا۔ دو ایٹمی قوتوں کو جنگ سے گریز کرنا چاہیے، یہ مشترکہ خودکشی کے مترادف ہو …

اسلام آباد ۔ 23 اگست (اے پی پی) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ کشمیر سے متعلق ہندوستانی اقدامات نے خطے کے امن کو شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے، پاکستان نے ہمیشہ مذاکرات کی حمایت کی ہے مگر بدقسمتی سے ہماری مذاکرات کی دعوت کو سنجیدگی سے نہیں لیا گیا۔ دو ایٹمی قوتوں کو جنگ سے گریز کرنا چاہیے، یہ مشترکہ خودکشی کے مترادف ہو گا۔ دنیا کو مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی زندگیوں کو بچانے کے لیے فوری اقدامات کرنا ہونگے،جینو سائیڈ واچ نے اس سلسلے میں مفصل الرٹ جاری کیا ہے۔جمعہ کو یہاں وزارت خارجہ میں ڈپلومیٹک کور سے خطاب کے دوران سفارتکاروں کو مخاطب کرتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہا کہ ہم 8 اگست کو یہاں ملے تھے اور میں نے آپ کو ہندوستان کیطرف سے 5 اگست کو اٹھائے گئے بھارتی یکطرفہ اقدامات سے آگاہ کیا تھا۔پاکستان نے اور کشمیریوں نے مکمل طور پر ان یکطرفہ اقدامات کو مسترد کر دیا تھا جبکہ وہ لوگ جو پچھلی حکومتوں میں بھارتی حکومت میں شامل تھے۔ انہوں نے بھی اس اقدام کو مسترد کردیا۔کل دہلی میں نو پارٹیوں نے احتجاج کیا جس سے پتہ چلتا ہے کہ صرف حریت رہنماوں نے ہی نہیں بلکہ باقی پارٹیوں نے بھی اسے مسترد کردیا۔ وزیر خارجہ نے انہیں مقبوضہ کشمیر میں جاری مواصلاتی بلیک آو¿ٹ سے آگاہ کیا موبائل سروس، انٹرنیٹ معطل ہیں بین الاقوامی میڈیا کو بھی رسائی نہیں دی جا رہی ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں صورتحال انتہائی تشویشناک ہے میں آپ کے ذریعے آگاہ کرنا چاہتا ہوں کہ ہم نے ہمیشہ مذاکرات کی حمایت کی،مگر بدقسمتی سے ہماری مذاکرات کی دعوت کو سنجیدگی سے نہیں لیا گیا۔

مزید خبریں