گورنر سندھ سے صوبائی وزیر لائیو اسٹاک و فشریز کی ملاقات،ماہی گیری کے شعبے کی ترقی سمیت باہمی دلچسپی کے امور پرتبادلہ خیال
گورنر سندھ سے صوبائی وزیر لائیو اسٹاک و فشریز کی ملاقات،ماہی گیری کے شعبے کی ترقی سمیت باہمی دلچسپی کے امور پرتبادلہ خیال

مزید خبریں
کراچی۔ 01 اکتوبر (اے پی پی):گورنر سندھ سید محمد نہال ہاشمی نے کہا ہے کہ سندھ کے ساحلی اور سمندری وسائل صوبے کا قیمتی اثاثہ ہیں، ان کے موثر، ذمہ دارانہ اور پائیدار استعمال کیلئے تمام متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کے درمیان موثر رابطہ اور تعاون وقت کی اہم ضرورت ہے۔جمعرات کو گورنر ہائوس سے جاری اعلامیہ کے مطابق ان خیالات کا اظہار انہوں نے صوبائی وزیر لائیو اسٹاک و فشریز محمد علی ملکانی سے گورنر ہائوس میں ملاقات کے دوران کیا۔ملاقات کے دوران صوبے میں ماہی گیری کے شعبے کی ترقی، سمندری وسائل کے موثر استعمال، ایکوا اسپورٹس، بلیو اکانومی، پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ اور ساحلی علاقوں میں معاشی سرگرمیوں کے فروغ سمیت دیگر باہمی دلچسپی کے امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔اس موقع پرسندھ بلوچستان کوسٹل گروپ آف کمپنی کے نائب صدر علی پسنانی بھی موجود تھے۔
گورنر سندھ نے کہا کہ بلیو اکانومی جدید دور میں معاشی ترقی کا ایک اہم شعبہ بن چکی ہے، سندھ کے طویل ساحلی خطے اور وسیع سمندری وسائل کو جدید ٹیکنالوجی، نجی سرمایہ کاری اور موثر منصوبہ بندی کے ذریعے معاشی ترقی کیلئے بروئے کار لایا جا سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ساحلی علاقوں میں ماہی گیری، سمندری تجارت، ایکوا اسپورٹس اور ساحلی سیاحت کے فروغ کے وسیع امکانات موجود ہیں، جن سے استفادہ کرکے نہ صرف معاشی سرگرمیوں میں اضافہ کیا جا سکتا ہے بلکہ مقامی آبادی کے لیے روزگار اور کاروبار کے نئے مواقع بھی پیدا کیے جا سکتے ہیں۔
سید محمد نہال ہاشمی نے کہا کہ موجودہ حکومت ماہی گیری سے وابستہ افراد اور کاروباری طبقے کو جدید سہولیات، بہتر انفراسٹرکچر اور جدید طریقہ کار فراہم کرنے کے لیے متعدد اقدامات کررہی ہے۔ انہوں نے سمندری وسائل کے تحفظ اور ان کے پائیدار استعمال کو بھی اہم قرار دیا۔ گورنر سندھ نے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے ذریعے ساحلی اور سمندری شعبوں میں سرمایہ کاری کو فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ حکومت اور نجی شعبے کے باہمی تعاون سے ایسے منصوبے شروع کیے جا سکتے ہیں جو صوبے میں سرمایہ کاری، روزگار اور معاشی سرگرمیوں کے فروغ کا باعث بنیں۔
ملاقات میں سمندری وسائل کے تحفظ، ماہی گیری کے شعبے کی بہتری، ساحلی علاقوں میں سرمایہ کاری، ایکوا اسپورٹس، ساحلی سیاحت اور بلیو اکانومی کے فروغ سے متعلق مختلف تجاویز پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔صوبائی وزیر لائیو اسٹاک و فشریز نے گورنر سندھ کو ماہی گیری اور متعلقہ شعبوں میں جاری سرگرمیوں اور مستقبل کے منصوبوں سے آگاہ کیا۔







