پاکستان کوپ 31 کانفرنس میں محض موسمیاتی تبدیلیوں سے متاثرہ ملک کی حیثیت سے اپنا مقدمہ پیش کرنے کے بجائے قابل اعتماد اعدادوشمار، قابل سرمایہ کاری منصوبوں اور مضبوط بین الاقوامی اتحاد کے ساتھ شریک ہو، موسمیاتی ماہرین
پاکستان کوپ 31 کانفرنس میں محض موسمیاتی تبدیلیوں سے متاثرہ ملک کی حیثیت سے اپنا مقدمہ پیش کرنے کے بجائے قابل اعتماد اعدادوشمار، قابل سرمایہ کاری منصوبوں اور مضبوط بین الاقوامی اتحاد کے ساتھ شریک ہو، موسمیاتی ماہرین
اسلام آباد۔1اکتوبر (اے پی پی):موسمیاتی ماہرین، پالیسی سازوں اور ترقیاتی شعبے سے وابستہ ماہرین نے پاکستان پر زور دیا ہے کہ وہ ترکیہ کے شہر انطالیہ میں ہونے والی کوپ 31 کانفرنس میں محض موسمیاتی تبدیلیوں سے متاثرہ ملک کی حیثیت سے اپنا مقدمہ پیش کرنے کے بجائے قابل اعتماد اعدادوشمار، قابل سرمایہ کاری منصوبوں اور مضبوط بین الاقوامی اتحاد کے ساتھ شریک ہو۔

یہ بات پالیسی ادارہ برائے پائیدار ترقی (ایس ڈی پی آئی) اور پاکستان رینیوایبل انرجی کولیشن (پریگ) کے اشتراک سے اسلام آباد میں منعقدہ ’’پاکستان کا کوپ 31 کی جانب سفر‘‘ کے عنوان سے پری کوپ مکالمے اور مشاورتی اجلاس میں کہی گئی۔
اجلاس کے موقع پر ایس ڈی پی آئی نے کوپ 31 کی تیاریوں اور پاکستان کی موسمیاتی ترجیحات سے متعلق چار پالیسی پیپرز بھی جاری کئے۔ایس ڈی پی آئی کے سربراہ ڈاکٹر عابد قیوم سلہری نے کہا کہ ترقی پذیر ممالک کو بیلجیئم میں طے کئے گئے موسمیاتی مالیاتی اہداف کو عملی شکل دینے کےلئے ایک واضح اور قابل عمل نظام پر زور دینا ہوگا۔انہوں نے ہندوکش ہمالیہ خطے کے ممالک کے درمیان گلیشیئرز کے مشترکہ انتظام اور موسمیاتی اعدادوشمار کے تبادلے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ گلیشیئرز کے پگھلنے، لینڈ سلائیڈنگ، اچانک سیلاب اور گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے جیسے خطرات پورے خطے کو متاثر کر رہے ہیں۔انہوں نے حالیہ تباہی کے بعد نیپال کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کوپ 31 میں پاکستان کی ترجیحات میں شامل کرنے کی بھی تجویز دی۔
گلوبل کلائمیٹ چینج امپیکٹ سٹڈیز سینٹر کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر عارف گوہر نے کہا کہ پاکستان کو انطالیہ میں صرف ایک متاثرہ ملک کے طور پر نہیں جانا چاہئے۔ انہوں نے چار بنیادی ترجیحات گنوائیں جن میں شواہد اور اعدادوشمار، سرمایہ کاری، مضبوط اتحاد اور وفاقی و صوبائی سطح پر قومی موسمیاتی اہداف (این ڈی سیز) پر عمل درآمد شامل ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو یہ بھی یقینی بنانا ہوگا کہ جی-7 اور چین جیسے مذاکراتی پلیٹ فارمز میں اس کی موثر آواز موجود ہو۔نیشنل ڈیزاسٹر رسک مینجمنٹ فنڈ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر عامر گورایا نے کہا کہ موسمیاتی مالیات صرف ماحولیاتی نہیں بلکہ ایک بڑا مالیاتی مسئلہ بھی ہے۔
پاکستان کو آفات سے نمٹنے اور خطرات کم کرنے کے اپنے ادارہ جاتی تجربے کو دنیا کے سامنے پیش کرنا چاہئے اور اپنی حکمت عملی کو ’’کمزوری سے عملی اقدام‘‘ کی طرف لے جانا چاہئے۔ایس ڈی پی آئی کے ڈپٹی ایگزیکٹو ڈائریکٹر پالیسی ڈاکٹر شفقت منیر احمد نے کہا کہ ماضی کی کوپ کانفرنسوں کے بعد عملی پیش رفت حوصلہ افزاء نہیں رہی۔
پاکستان کو نقصان اور تباہی، موافقت اور تخفیف اثرات کے معاملات پر واضح مذاکراتی حکمت عملی اختیار کرنا ہوگی۔یو این ڈی پی پاکستان کے شیراز علی شاہ نے کہا کہ پاکستان کوپ 31 میں خالی ہاتھ نہیں جا رہا بلکہ اس کے پاس NDC 3.0 موجود ہے جبکہ ملک NDC 2.0 کے تحت اپنے غیر مشروط اہداف بھی مقررہ حد سے آگے حاصل کر چکا ہے۔ انہوں نے کوپ 31 کو ’’عمل درآمد کی کانفرنس‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اب وقت کاغذی منصوبوں سے عملی منصوبوں اور سرمایہ کاری کے پورٹ فولیو کی طرف بڑھنے کا ہے۔
پاکستان کلائمیٹ چینج اتھارٹی کے چیئرمین حمزہ فرخ نے کہا کہ عالمی موافقتی فنڈز ضرورت کے مقابلے میں انتہائی کم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو تخفیف اثرات کے امکانات پر بھی توجہ دینا اور ایک موثر کاربن مارکیٹ آفس قائم کرنا ہوگا ۔ ایس ڈی پی آئی کے ہیڈ آف انرجی یونٹ عبید الرحمٰن ضیا نے کہا کہ کوپ 31 جغرافیائی سیاسی تقسیم اور خلیج کے تنازع کے باعث توانائی کی رسد میں پیدا ہونے والی رکاوٹوں سے متاثر ہوگی۔ پریگ کے رکن باسط غوری نے کہا کہ آبنائے ہرمز کے بحران کے بعد پاکستان کو تیزی سے بڑھتے ہوئے شمسی توانائی کے استعمال کو صاف بجلی کی طرف منتقلی کی مثال کے طور پر پیش کرنا چاہئے۔
ایس ڈی پی آئی کی زینب نعیم نے کہا کہ موسمیاتی مالیات کوپ 31 کا سیاسی مرکز ہوگا اور ترقی پذیر ممالک کو ایسے پروگرام پر مبنی مالیاتی نظام کا مطالبہ کرنا چاہئے ۔ پاور پلاننگ اینڈ مانیٹرنگ کمپنی کی رابعہ بخاری نے کہا کہ پاکستان نے اب تک قرض کے بدلے قدرتی ماحول کے تحفظ کے منصوبوں سے فائدہ نہیں اٹھایا جبکہ سندھ کا ڈیلٹا بلیو اور ری چارج پاکستان جیسے منصوبے اس مقصد کےلئے وسعت دیئے جا سکتے ہیں۔
کلائمیٹ فنانس ایکسپرٹ سہیل مقبول ملک نے کہا کہ پاکستان کا مسئلہ صرف زیادہ پیسہ حاصل کرنا نہیں بلکہ یہ بھی ہے کہ سرمایہ کیسے حاصل کیا جائے، خطرات کیسے کم کئے جائیں اور اس کے فوائد کن لوگوں تک پہنچیں۔ایشیائی ترقیاتی بینک کے سابق ایگزیکٹو ڈائریکٹر اور ایس ڈی پی آئی کے سینئر پالیسی ایڈوائزر نور احمد نے موسمیاتی تبدیلی کو انسانیت کے لئے ایک وجودی خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ دنیا اب تک اس جنگ میں کامیاب نہیں ہو سکی جبکہ عالمی گرین ہائوس گیسوں کے 70 سے 75 فیصد اخراج کا تعلق ایشیا کے خطے سے ہے۔









