وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کانفرنس سے خطاب

اسلام آباد ۔ 10 اپریل (اے پی پی) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ جنوبی ایشیاءمیں تنازعات کے حل سے پی پائیدار تذویراتی استحکام قائم کیا جاسکتا ہے۔جنوبی ایشیاءمیں تذویراتی استحکام کا قیام بڑی عالمی طاقتوں کی زمہ داری ہے، پاکستان خطے میں روایتی و ایٹمی ہتھیاروں کی دوڑکے خلاف ہے، بھارت کی جانب سے ایٹمی آبدوزوں سمیت بڑے پیمانے پر اسلحے کی خریداری سے پاکستان کی …

اسلام آباد ۔ 10 اپریل (اے پی پی) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ جنوبی ایشیاءمیں تنازعات کے حل سے پی پائیدار تذویراتی استحکام قائم کیا جاسکتا ہے۔جنوبی ایشیاءمیں تذویراتی استحکام کا قیام بڑی عالمی طاقتوں کی زمہ داری ہے، پاکستان خطے میں روایتی و ایٹمی ہتھیاروں کی دوڑکے خلاف ہے، بھارت کی جانب سے ایٹمی آبدوزوں سمیت بڑے پیمانے پر اسلحے کی خریداری سے پاکستان کی سلامتی کو سنگین خطرات لاحق ہیں۔نیوکلیئر سپلائرز گروپ کے امتیازی سلوک سے خطے میں سٹریٹجک استحکام پر منفی اثرات ہوںگے۔ پاکستان کے خلاف حالیہ بھارتی جارحیت خطے میں استحکام کو درپیش خطرات کا واضح ثبوت ہے۔ پاکستان ایک امن پسند ملک لیکن کسی بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے بھر پور صلاحیت رکھتا ہے۔بدھ کو یہاں ’جنوبی ایشیاءمیں تذویراتی استحکام‘سے متعلق کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان ایک زمہ دار ایٹمی ملک اور خطے میں روایتی و غیر روایتی اسلحہ کی دوڑ کے خلاف ہے۔ پاکستان ایک امن پسند ملک اور خطے میں امن و استحکام کیلئے پرعزم ہے۔انہوں نے کہا کہ جنوبی ایشیاءمیں تنازعات کے حل سے پی پائیدار تذویراتی استحکام قائم کیا جاسکتا ہے تاہم مسئلہ کشمیر کا حل خطے میں طویل المدتی امن کی ضمانت ہے۔وزیر خارجہ نے کہا کہ بھارت کی جانب سے کشمیریوں کو حق خودارادیت کے انکار سے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں اضافہ ہوا جس سے کشمیری نوجوانوں کی جدوجہد آذادی میں تیزی آئی۔انہوں نے کہا کہ بھارت کے جارحانہ اقدامات اور اینٹی بیلسٹک میزائل سسٹم پاکستان کو سخت تحفظات ہیں۔پاکستان کےخلاف حالیہ بھارتی جارحیت علاقائی استحکام کو درپیش خطرات کا واضح ثبوت ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک امن پسند ملک اور تمام ہمسایہ ممالک کے ساتھ خوشگوار تعلقات کا خواہاں ہے تاہم ملکی سالمیت اور قومی سلامتی کو نقصان پہنچانے کی صورت میں منہ توڑ جواب دینے کی بھر پور صلاحیت رکھتا ہے۔انہوں نے کہا کہ طاقت کا استعمال کسی مسئلے کا حل نہیں اس سے تمام خطہ عدم استحکام کا شکار ہو سکتا ہے۔وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کو عوام کے سماجی و اقتصادی ترقی کیلئے کام کرنےکی ضرورت ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ دونوں ملکوں کے مابین مذاکرات سے ہی تمام معاملات حل کئے جاسکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں پاکستان عالمی طاقتوں سمیت دیگر ممالک سے بھی زمہ دارانہ رویے کا متقاضی ہے۔

مزید خبریں

Leave a Reply