وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی دوسرے کے ایل سمٹ وزارتی اجلاس سے خطاب

دوحہ ۔ 3 دسمبر (اے پی پی) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ کے ایل سمٹ درپیش مسائل و مشکلات سے مو¿ثر انداز میں نمٹنے اور ان سے مقابلے کے راستے کھولنے میں مددگار ثابت ہو گی، حکمرانی، ترقی، ماحولیاتی تبدیلی، دہشت گردی اور اسلام سے خوف جیسے مسائل سے نمٹنے کےلئے اجتماعی اور مشترکہ حکمت عملی مرتب کرنے کی ضرورت ہے، کے ایل سمٹ میں شامل …

دوحہ ۔ 3 دسمبر (اے پی پی) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ کے ایل سمٹ درپیش مسائل و مشکلات سے مو¿ثر انداز میں نمٹنے اور ان سے مقابلے کے راستے کھولنے میں مددگار ثابت ہو گی، حکمرانی، ترقی، ماحولیاتی تبدیلی، دہشت گردی اور اسلام سے خوف جیسے مسائل سے نمٹنے کےلئے اجتماعی اور مشترکہ حکمت عملی مرتب کرنے کی ضرورت ہے، کے ایل سمٹ میں شامل ممالک کے ساتھ پاکستان کے گہرے تاریخی، ثقافتی اور مذہبی روابط استوار ہیں، ہم اس کلیدی پلیٹ فارم کے ذریعے ان تعلقات کو مزید گہرا اور پختہ کرنے کے خواہاں ہیں، انڈونیشیا، ملائیشیا، پاکستان، قطر، ایران اور ترکی اجتماعی طورپر کل جی ڈی پی کا 50 فیصد بنتے ہیں، ہمیں اپنی سیاسی و سفارتی گنجائش لازماً بڑھانا ہو گی، ہم مستقبل کی راہ عمل کو مزید روشن بنانے کےلئے منتظر ہیں۔ منگل کو دوسرے کے ایل سمٹ وزارتی اجلاس( دوحہ، قطر) سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہا کہ کے ایل سمٹ پر پہلی غیررسمی وزارتی مشاورت 4 تا 5 نومبر کو کوالالمپور میں منعقد ہوئی جو بے حد مفید رہی، اس مشاورت کے نتیجہ میں کے ایل سمٹ کے عمل کو واضح کرنے اور ہر ملک کی توقعات اور تجاویز سے سیکھنے کا موقع ملا، کے ایل سمٹ کے فریم ورک کے اندر رہتے ہوئے تعاون کےلئے موجودہ تجاویز پر ہم کام کر رہے ہیں اور ہم نے تجارت، سیاحت، اسلامی بینکاری، خوراک کے تحفظ، اعلیٰ تعلیم، سائنس و ٹیکنالوجی اور خواتین کو بااختیار بنانے کے شعبوں میں تعاون کی تجویز بھی دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج دنیا کو بڑے بڑے مسائل کا سامنا ہے، حجم اور نوعیت کے اعتبار سے یہ مسائل اتنے بڑے ہیں کہ کسی ایک ملک کےلئے تنہاءان سے نمٹنا ممکن نہیں۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ حکمرانی، ترقی، ماحولیاتی تبدیلی، دہشت گردی اور اسلام سے خوف جیسے مسائل سے نمٹنے کےلئے اجتماعی اور مشترکہ حکمت عملی مرتب کرنے کی ضرورت ہے۔ مجھے پوری امید ہے کہ کے ایل سمٹ درپیش مسائل و مشکلات سے مو¿ثر انداز میں نمٹنے اور ان سے مقابلے کے راستے کھولنے میں مددگار ثابت ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ کے ایل سمٹ میں شامل ممالک کے ساتھ پاکستان کے گہرے تاریخی، ثقافتی اور مذہبی روابط استوار ہیں، ہم اس کلیدی پلیٹ فارم کے ذریعے ان تعلقات کو مزید گہرا اور پختہ کرنے کے خواہاں ہیں، انڈونیشیا، ملائیشیا، پاکستان، قطر، ایران اور ترکی اجتماعی طورپر کل جی ڈی پی کا 50 فیصد بنتے ہیں جبکہ قومی گیس کی پیداوار کا 37 فیصد، آبادی کا 37 فیصد اور اسلامی دنیا کا کل رقبہ 18 فیصد بنتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کے ایل سمٹ کے سات شعبہ جات کی پاکستان مکمل حمایت کرتا ہے۔ ہمیں امید ہے کہ سماجی و سیاسی اور ثقافتی ترقی میں تجربہ، مہارت، علم اور وسائل ہماری مدد کریں گے، ایک پرامن اور محفوظ ماحول یقینی بناتے ہوئے جس کا محرک تخلیق اور ٹیکنالوجی بنے گی اور جس میں ساکھ کاحامل اعلیٰ معیار، اچھی حکمرانی، تجارت اور سرمایہ کاری میں اضافہ ہو گا اور ہمارے عوام خوشحالی اور ترقی سے ہمکنار ہوں گے، ہمیں اپنے نوجوانوں کےلئے حصول علم پر مبنی کلچر تشکیل دینا ہو گا جو ہمارا مستقبل اور ہر شعبہ میں ہماری قیادت ہیں۔ کے ایل سمٹ یا جسے ہم بعد میں ”تہذیبوں کےلئے پردانہ ڈائیلاگ“ کے نام سے پکاریں گے، کے مستقبل کی حکمت عملی تیار کرتے ہوئے ہمیں اسلامی دنیا کے اندر اور باہر اپنے شراکت داروں کے نکتہ نگاہ اور سوچ کو بھی پیش نظر رکھنا ہو گا۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ہمیں اپنی سیاسی و سفارتی گنجائش لازماً بڑھانا ہو گی جس سے باہمی مفاد پر مبنی تعاون میں اضافہ ہو اور اس کے ذریعے ہمارے درمیان سماجی و معاشی ترقی کو فروغ ملے، اس طرح ہم اس قابل ہو جائیں گے کہ اپنے لئے متعین کردہ اہداف کو حاصل کر سکیں اور وزیراعظم مہاتیر محمد کے شاندار اقدام کو آگے لے جا سکیں۔ انہوں نے کہا کہ ملائیشیاءکی طرف سے جاری کردہ سربراہی بیان کا مسودہ ہم نے دیکھا ہے، ہم اس کاوش کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور اس کے عمومی نکات سے اتفاق کرتے ہیں، ہم نے کچھ تجاویز پیش کی ہیں اور ہماری دانست میں ان سے ٹھوس مشاورت کو یقینی بنانے میں مدد ملے گی اور ثمرآور تعاون کی راہ ہموار ہو گی۔ شاندار میزبانی پر قطر کے نائب وزیراعظم اور وزیرخارجہ شیخ محمد عبدالرحمن بن جاسم الثانی کے شکرگزار ہیں۔