وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی پارلیمنٹ ہاﺅس کے باہر میڈیا سے گفتگو

اسلام آباد ۔ 30 جولائی (اے پی پی) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ نیب قانون میں اصلاحات پر بات ہو سکتی ہے لیکن اسے ایف اے ٹی ایف کے قوانین کے ساتھ مشروط نہیں کرنا چاہئے۔ پی ٹی آئی منشور کے منافی مسودہ ہمیں کیسے قابل قبول ہو سکتا ہے۔ سیاست میں گفتگو کے دروازے کبھی بند نہیں ہوتے.جمعرات کو پارلیمنٹ ہاﺅس کے باہر میڈیا سے …

اسلام آباد ۔ 30 جولائی (اے پی پی) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ نیب قانون میں اصلاحات پر بات ہو سکتی ہے لیکن اسے ایف اے ٹی ایف کے قوانین کے ساتھ مشروط نہیں کرنا چاہئے۔ پی ٹی آئی منشور کے منافی مسودہ ہمیں کیسے قابل قبول ہو سکتا ہے۔ سیاست میں گفتگو کے دروازے کبھی بند نہیں ہوتے.جمعرات کو پارلیمنٹ ہاﺅس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہا کہ میں کل سے یہی کہہ رہا تھا کہ یہ ایف اے ٹی ایف سے متعلقہ بل قومی اہمیت کا ہے آپ اسے نیب کے ساتھ مت جوڑیے۔انہوں نے کہا کہ نیب قانون میں اگر اصلاحات درکار ہیں تو اس پر گفتگو ہو سکتی ہے لیکن اسے ایف اے ٹی ایف کے قوانین کے ساتھ مت مشروط کریں۔نیب قانون میں گذشتہ دس سال سے اصلاحات کیلئے کوششیں کی گئیں اور اصلاحات نہ ہو سکیں اس پر آپ ہم سے توقع کریں کہ ہم دس گھنٹے میں وہ اصلاحات کردیں؟ اور دوسری جانب آپ مسودہ وہ پیش کریں جو پی ٹی آئی کے منشور کے بالکل منافی ہو تو وہ ہمیں کیسے قابل قبول ہو سکتا ہے۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان این آر و پلس کیسے دے سکتے ہیں؟ ہاں جو قابل عمل اور معقول تجاویز ہیں ان سے ہم نہ کل انکاری تھے نہ آج انکاری ہیں، سینیٹ میں جے یو آئی ایف کے علاوہ آج تمام جماعتوں کی جانب سے جس سنجیدگی کا مظاہرہ کیا گیا وہ قابلِ ستائش ہے اور اس کا اظہارِ میں نے آج آن فلور آف دی ہاﺅس کیا۔کاش کل قومی اسمبلی میں بھی مثبت رویہ اپنایا جاتا۔ انہوں نے کہا کہ سیاست میں اختلاف رائے ہوتا ہے لیکن کل جس لب و لہجے میں گفتگو کی گئی وہ نامناسب ہے۔نیب کے حوالے سے مجوزہ ترامیم انہی کی جانب سے آئیں اور انہوں نے ہی اس مسودے کی فوٹو کاپیاں تقسیم کیں۔اگر مزید وضاحت چاہیں گے تو یہ بھی بتا سکتا ہوں کہ یہ کس وٹس ایپ نمبر سے شیئر کی گئیں۔میچول لیگل اسسٹنس کا بل پاکستان کی ضرورت ہے۔وزیر خارجہ نے کہا کہ میں تمام پارلیمانی جماعتوں کے اراکین سے پھر گذارش کروں گا کہ آئندہ 6 اگست کو ہونیوالے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں، قومی مفاد کو پیش نظر رکھتے ہوئے اس بل کو اتفاق رائے پاس کروائیں۔جہاں تک نیب قوانین پر گفتگو کا تعلق ہے تو ہم اس کے لیے تیار ہیں۔سیاست میں گفتگو کے دروازے کبھی بند نہیں ہوتے۔