جدید طبی سہولیات سے آراستہ 400 بستروں پر مشتمل نیا ہسپتال 30 مارچ 2027ء تک مکمل کرکے فعال کر دیا جائے گا، وفاقی وزیر مصطفیٰ کمال کی میڈیا سے گفتگو
جدید طبی سہولیات سے آراستہ 400 بستروں پر مشتمل نیا ہسپتال 30 مارچ 2027ء تک مکمل کرکے فعال کر دیا جائے گا، وفاقی وزیر مصطفیٰ کمال کی میڈیا سے گفتگو

مزید خبریں
اسلام آباد۔8ستمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے قومی صحت خدمات، ضوابط و رابطہ مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ جدید طبی سہولیات سے آراستہ 400 بستروں پر مشتمل نیا ہسپتال 30 مارچ 2027ء تک مکمل کرکے فعال کر دیا جائے گا، منصوبے پر کام تیزی سے جاری ہے اور اس کی تکمیل وزیراعظم کی مقرر کردہ تاریخ تک یقینی بنائی جائے گی۔منگل کے روز یہاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ منصوبے کی تکمیل محض دعویٰ نہیں بلکہ تعمیراتی کام کی پیش رفت موقع پر دیکھی جا سکتی ہے، منصوبے کو سی ڈی اے کی منظوری سمیت مختلف انتظامی اور قانونی پیچیدگیوں کا سامنا تھا جنہیں اب حل کر لیا گیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ منصوبے کا نظرثانی شدہ پی سی ون ایک عرصے سے زیر التواء تھا جس کی لاگت 9 ارب روپے سے بڑھا کر 16 ارب روپے کر دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ وہ خود اور ان کی ٹیم منصوبے کی منظوری اور کام کی رفتار تیز کرنے کے لیے منصوبہ بندی سے متعلق اجلاسوں اور سی ڈی ڈبلیو پی کے اجلاسوں میں شریک ہوئے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ منصوبے پر کام شروع ہونے کے وقت پیش رفت تقریباً 13 فیصد تھی جو اب ساختی اعتبار سے 60 فیصد تک پہنچ چکی ہے جبکہ دیگر متعلقہ کاموں کا تقریباً 90 فیصد حصہ مکمل ہوچکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہسپتال کے لیے ضروری طبی آلات کی خریداری کے احکامات جاری کیے جاچکے ہیں، متعدد آلات پاکستان پہنچ چکے ہیں جبکہ دیگر راستے میں ہیں،کسی سامان کی فراہمی میں تاخیر ہوئی تو وزیراعظم کی ہدایت کے مطابق اسے فضائی راستے سے منگوایا جائے گا تاکہ منصوبے کی تکمیل متاثر نہ ہو۔ مصطفیٰ کمال نے بتایا کہ آئی ڈیپ نے ایک چینی کمپنی کے تعاون سے ہسپتال کی تعمیر کا کام انجام دیا ہے۔
انہوں نے انکوائری کمیٹی کی پہلی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ رپورٹ میں دی گئی سفارشات پر سو فیصد عمل درآمد کیا جاچکا ہے جبکہ دوسری رپورٹ کا انتظار ہے اور اس میں دی جانے والی تمام سفارشات پر بھی من و عن عمل درآمد کیا جائے گا۔ کنگ سلمان ہسپتال کے حوالے سے وفاقی وزیر نے کہا کہ 400 بستروں پر مشتمل یہ منصوبہ گزشتہ تقریباً 20 برس سے التواء کا شکار تھا اور فائلوں تک محدود رہا۔ موجودہ حکومت نے گزشتہ پانچ ماہ کے دوران منصوبے کو درپیش انتظامی اور تکنیکی رکاوٹیں دور کی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ منصوبے کے پرانے ڈیزائن میں متعدد خامیاں تھیں جنہیں جدید طبی ضروریات کے مطابق بہتر بنایا گیا۔
اس کے بعد بل آف کوآنٹیٹیز تیار کرکے قومی اور بین الاقوامی سطح پر بولیاں طلب کی گئیں جن میں 12 کمپنیوں نے حصہ لیا اور بولیاں کھولی جاچکی ہیں۔ انہوں نے توقع ظاہر کی کہ آئندہ 15 روز میں منصوبے کا ٹھیکہ دے دیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ کنگ سلمان ہسپتال کے منصوبے میں سعودی عرب کا بھی اہم کردار ہے اور سعودی حکام اور متعلقہ ادارے اس منصوبے میں شامل ہیں جبکہ اس کی مالی معاونت سعودی عرب کی جانب سے کی جارہی ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ کنگ سلمان ہسپتال کو مرحلہ وار مکمل کیا جائے گا اور پہلے مرحلے میں دو سال کے اندر 200 بستروں کو فعال کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ اسلام آباد کی 28 ڈسپنسریوں کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ان مراکز میں انسانی وسائل کی کمی ایک اہم مسئلہ ہے۔ بعض مراکز میں عمارتیں، مشینری اور بستروں سمیت ضروری سہولیات موجود ہیں تاہم عملہ نہ ہونے کے باعث انہیں مکمل طور پر فعال نہیں کیا جاسکا۔
انہوں نے کہا کہ انسانی وسائل کی بھرتی کے لیے گزشتہ ایک سال سے کوششیں جاری ہیں تاہم مختلف انتظامی مراحل کے باعث تاخیر ہوئی۔ انہوں نے صحت کے انتظامی نظام میں اصلاحات کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ وفاقی وزارت قومی صحت خدمات، ضوابط و رابطہ کا بنیادی کردار صحت، طبی تعلیم، نرسنگ، ادویات، ویکسین، صحت عامہ اور آبادی سے متعلق پالیسی سازی اور ضابطہ کاری ہونا چاہیے جبکہ ہسپتالوں کے روزمرہ انتظامی امور کے لیے موثر مقامی انتظامی نظام ضروری ہے۔
مصطفیٰ کمال نے کہا کہ اختیارات کی مقامی سطح پر منتقلی سے عوام کو اپنے نمائندوں اور انتظامیہ کا موثر احتساب کرنے کا موقع ملے گا۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ 14 ماہ کے دوران وزارت نے متعدد اہم منصوبوں پر پیش رفت کی ہے تاہم صحت کے شعبے میں اب بھی بہت سے مسائل موجود ہیں جن کے حل کے لیے مزید اقدامات کی ضرورت ہے۔








