عدلیہ میں ٹیکنالوجی کا موثر استعمال عدالتی عمل کو سائلین اور وکلاء کے لیے مزید قابل رسائی، مؤثر اور سہل بنانے کے لیے ناگزیر ہے، چیف جسٹس یحییٰ آفریدی

چیف جسٹس پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا ہے کہ عدلیہ میں ٹیکنالوجی کا موثر استعمال عدالتی عمل کو سائلین اور وکلاء کے لیے مزید قابل رسائی، موثر اور سہل بنانے کے لیے ناگزیر ہے جبکہ عدالتی ڈیٹا اور ڈیجیٹل نظام کے تحفظ کے لیے مضبوط سائبر سکیورٹی اقدامات ضروری ہیں۔

اسلام آباد۔8ستمبر (اے پی پی):چیف جسٹس پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا ہے کہ عدلیہ میں ٹیکنالوجی کا موثر استعمال عدالتی عمل کو سائلین اور وکلاء کے لیے مزید قابل رسائی، موثر اور سہل بنانے کے لیے ناگزیر ہے جبکہ عدالتی ڈیٹا اور ڈیجیٹل نظام کے تحفظ کے لیے مضبوط سائبر سکیورٹی اقدامات ضروری ہیں۔

سپریم کورٹ کے شعبہ تعلقات عامہ کے جاری اعلامیہ کے مطابق سپریم کورٹ آف پاکستان اور نیشنل انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ (این آئی ٹی بی) کے درمیان سائبر سکیورٹی، سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ، ڈیجیٹل سروسز، انفارمیشن ٹیکنالوجی کے بنیادی ڈھانچے اور تکنیکی استعداد کار بڑھانے کے لیے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیئے گئے۔سپریم کورٹ اسلام آباد میں ہونے والی تقریب میں مفاہمتی یادداشت پر سپریم کورٹ کے رجسٹرار سہیل محمد لغاری اور این آئی ٹی بی کے ڈائریکٹر جنرل فقیر اللہ نے دستخط کیے۔ چیف جسٹس پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی اور سپریم کورٹ کے جج جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے تقریب میں شرکت کی۔

تقریب میں سیکرٹری وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن ضرار ہاشم خان، این آئی ٹی بی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر فیصل اقبال رتیال، نیشنل سائبر ایمرجنسی رسپانس ٹیم کے ڈائریکٹر جنرل حیدر عباس، این آئی ٹی بی کے ڈائریکٹر سیف الرحمن، اسسٹنٹ ڈائریکٹر ای آفس اظہر محمود جنجوعہ، سپریم کورٹ کی آئی ٹی ٹیم کے ارکان اور دیگر اعلیٰ افسران بھی موجود تھے۔مفاہمتی یادداشت کے تحت محفوظ، قابل اعتماد اور موثر ڈیجیٹل نظام تیار کرنے، سائبر سکیورٹی کے حفاظتی انتظامات مضبوط بنانے، سافٹ ویئر اور آئی ٹی انفراسٹرکچر بہتر کرنے اور عدلیہ کی ڈیجیٹل تبدیلی کے لیے مطلوبہ تکنیکی استعداد کار بڑھانے کے لیے تعاون کا فریم ورک وضع کیا گیا ہے۔

چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ ٹیکنالوجی کو انصاف تک رسائی آسان بنانے، خدمات کی فراہمی بہتر کرنے اور وکلاء و سائلین کو عدالتی اداروں سے زیادہ سہولت اور آسانی کے ساتھ منسلک کرنے میں معاون ہونا چاہیے۔جسٹس یحییٰ آفریدی نے عدالتی ڈیٹا، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور ادارہ جاتی نظام کے تحفظ کے لیے سائبر سکیورٹی کی اہمیت پر بھی زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ وزارت آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن، این آئی ٹی بی اور دیگر متعلقہ اداروں کے ساتھ قریبی تعاون کے ذریعے مضبوط سائبر سکیورٹی اقدامات یقینی بنائے جائیں گے تاکہ عدلیہ کی ڈیجیٹل تبدیلی محفوظ، مضبوط اور پائیدار رہے

سیکرٹری آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن ضرار ہاشم خان نے سپریم کورٹ کو سائبر سکیورٹی، سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ، ڈیجیٹل سروسز اور آئی ٹی انفراسٹرکچر کے شعبوں میں مکمل تکنیکی تعاون کی یقین دہانی کرائی۔این آئی ٹی بی نے بھی محفوظ، جدید اور موثر ڈیجیٹل نظام کے لیے مطلوبہ تکنیکی مہارت اور معاونت فراہم کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔ مفاہمتی یادداشت کو عدالتی خدمات کو جدید بنانے، معلوماتی نظام کو محفوظ بنانے اور سائلین و قانونی برادری کو بہتر سہولیات فراہم کرنے کی جانب اہم قدم قرار دیا گیا۔

 

مزید خبریں