وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کا یورپی یونین کے خارجہ امور کے سربراہ جوزف بوریل سے ٹیلیفونک پر رابطہ پاک۔ای یو سٹرٹیجک انگیجمنٹ پلان پر آگے بڑھنے اور کثیر الجہتی تعاون کو فروغ پر اتفاق

اسلام آباد ۔ یکم جولائی (اے پی پی) وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے بدھ کو یورپی یونین کے خارجہ امور کے سربراہ جوزف بوریل سے ٹیلیفونک پر رابطہ کیا۔ دونوں وزراء خارجہ کے مابین پاک۔ای یو سٹرٹیجک انگیجمنٹ پلان پر آگے بڑھنے اور کثیر الجہتی تعاون کو فروغ پر اتفاق ہوا۔ ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق ٹیلی فونک رابطہ کے دوران دونوں وزراء خارجہ کے مابین دوطرفہ تعلقات، …

اسلام آباد ۔ یکم جولائی (اے پی پی) وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے بدھ کو یورپی یونین کے خارجہ امور کے سربراہ جوزف بوریل سے ٹیلیفونک پر رابطہ کیا۔ دونوں وزراء خارجہ کے مابین پاک۔ای یو سٹرٹیجک انگیجمنٹ پلان پر آگے بڑھنے اور کثیر الجہتی تعاون کو فروغ پر اتفاق ہوا۔ ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق ٹیلی فونک رابطہ کے دوران دونوں وزراء خارجہ کے مابین دوطرفہ تعلقات، کورونا وباء کی صورتحال سمیت باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال ہوا۔ وزیر خارجہ نے کورونا وبا کے باعث یورپی ممالک میں ہونے والے جانی نقصان پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اس وبا کے پھیلاؤ کو روکنے کیلئے یورپی کمیشن کی جانب سے کئے گئے بروقت اقدامات کی تعریف کی اور کورونا وبائی صورتحال کے مضمرات سے نمٹنے کیلئے اور ترقی پذیر ممالک کی معیشتوں کو سہارا دینے کیلئے وزیراعظم عمران خان کی طرف سے دی جانے والی ڈیٹ ریلیف تجویز کے مندرجات سے اپنے یورپی ہم منصب کو آگاہ کیا۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ کورونا وبا کے معاشی مضمرات سے نمٹنے کیلئے عالمی سطح پر مشترکہ مربوط اور جامع لائحہ عمل سامنے لانے کی ضرورت ہے۔ وزیر خارجہ نے جوزف بوریل کو پاکستان کی جانب سے اس وباء کی روک تھام کیلئے کی جانے والی کاوشوں سے آگاہ کرتے ہوئے اس ضمن میں یورپی یونین کی جانب سے فراہم کی جانے والی، معاونت پر ان کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہاکہ کرونا وبا کے بعد یورپ میں زندگی کا معمول پر آنا اور بین الاقوامی پروازوں کی آمدورفت انتہائی خوش آئند ہے۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ یورپی یونین کی طرف سے وضع کی گئی ہدایات پر عملدرآمد کی یقین دہانی کراتے ہوئے توقع ظاہر کی کہ یورپ آنے والے پاکستانیوں کے ساتھ امتیازی سلوک روا نہیں رکھا جائے گا۔ یورپی یونین ائیر سیفٹی ایجنسی کی جانب سے (پی آئی اے) پر عائد کی جانے والی پابندی کے حوالہ سے وزیر خارجہ نے اپنے یورپی ہم منصب پر واضح کیا کہ پاکستان، مسافروں کی جانوں کے تحفظ اور سفری سہولیات کے بین الاقوامی معیار پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کیلئے پی آئی اے میں جامع اصلاحات لا رہی ہے یہی وجہ ہے کہ ہم نے خامیوں پر مبنی رپورٹ کو منظر عام پر لانے کا فیصلہ کیا۔دونوں وزرائے خارجہ کے مابین کثیر الجہتی شعبہ جات میں دو طرفہ تعلقات کے فروغ اور یورپی یونین اور پاکستان کے مابین طے پانے والے سٹرٹیجک انگیجمنٹ پلان کے حوالہ سے بھی تفصیلی تبادلہ خیال ہوا۔ دونوں وزراء خارجہ کے مابین پاک۔ای یو سٹرٹیجک انگیجمنٹ پلان پر آگے بڑھنے اور کثیر الجہتی تعاون کے فروغ پر اتفاق کیا گیا۔ وزیر خارجہ نے اپنے یورپی ہم منصب کو بھارت کی جانب سے مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں سے آگاہ کیا اور کہا کہ بھارت اقوام متحدہ اور عالمی قوانین سے روگردانی کرتے ہوئے مقبوضہ جموں و کشمیر میں آبادیاتی تناسب کو بدلنا چاہتا ہے۔ بھارت سرکار کی طرف سے 25 ہزار غیر کشمیریوں کو خلاف قانون ڈومیسائل کا اجراء قابل مذمت ہے جسے تمام کشمیری مسترد کر چکے ہیں۔ دونوں وزراء خارجہ کے مابین افغانستان کی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال ہوا۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ افغانستان میں قیام امن پورے خطہ کے استحکام کیلئے ناگزیر ہے۔ پاکستان افغانستان سمیت خطہ میں امن و استحکام کیلئے اپنی مخلصانہ اور مصالحانہ کاوشیں جاری رکھے گا۔ دونوں وزراء خارجہ نے افغانستان کے حوالہ سے مشترکہ سٹیمنٹ سامنے لانے پر اتفاق کیا۔ یورپی یونین کے امور خارجہ کے سربراہ نے کراچی میں اسٹاک ایکسچینج پر ہونے والے دہشت گردی کے حملے اور قیمتی جانوں کے نقصان پر وزیر خارجہ سے اظہار تعزیت کیا۔ وزیر خارجہ نے اپنے یورپی ہم منصب کو پاکستان میں بدامنی پھیلانے کیلئے شرپسند عناصر کو حاصل بھارتی سرپرستی سے بھی آگاہ کیا۔ وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے یورپی یونین کے امور خارجہ کے سربراہ کو حالات معمول پر آنے کے بعد دورہ پاکستان کی دعوت دی جبکہ یورپی یونین کے سربراہ خارجہ امور جوزف بوریل نے وزیر خارجہ کو دورہ برسلز کی دعوت دی۔