اسلام آباد ۔ 24 اگست (اے پی پی) وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ بھارت جو مرضی کہتا رہے، پاکستان اور چین سی پیک پر پیشرفت جاری رکھیں گے، سعودی عرب نے پیسے مانگے نہ ادھار پر تیل بند کیا ہے، یہ سب قیاس آرائیاں ہیں،کشمیر سے متعلق بھارتی دعوے ”اٹوٹ انگ“ کو ہم تسلیم نہیں کرتے اور ”اندرونی معاملے “کو دنیا تسلیم نہیں کرتی، بھارت …
وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کی پریس کانفرنس

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 24 اگست (اے پی پی) وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ بھارت جو مرضی کہتا رہے، پاکستان اور چین سی پیک پر پیشرفت جاری رکھیں گے، سعودی عرب نے پیسے مانگے نہ ادھار پر تیل بند کیا ہے، یہ سب قیاس آرائیاں ہیں،کشمیر سے متعلق بھارتی دعوے ”اٹوٹ انگ“ کو ہم تسلیم نہیں کرتے اور ”اندرونی معاملے “کو دنیا تسلیم نہیں کرتی، بھارت جعلی”فلیگ آپریشن“ کا ناٹک رچا سکتا ہے، بھارت کشمیریوں کے عزم کو توڑنے میں ناکام اور جموں و کشمیر میں لاک ڈاو¿ن کے خلاف علم بغاوت بلند ہو چکا ہے،مقبوضہ کشمیر کی بھارت نواز چھ سیاسی جماعتوں کا مشترکہ اعلامیہ اہمیت کا حامل ہے، اسرائیل سے متعلق پاکستان کسی دباو میں آ کر فیصلہ نہیں کرے گا، پاکستان اور سعودی عرب کے مو¿قف میں مکمل یگانگت ہے۔ پیر کو وزارت خارجہ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہا کہ 5 اگست 2019ءکے اقدامات سے کشمیریوں کے تشخص اور علیحدہ آئینی حیثیت کو پامال کیا گیا۔ہزاروں کشمیری جوانوں کو غیر قانونی طور پر پابند سلاسل اور کشمیری قیادت کو نظر بند کر دیا گیا ہے جبکہ پابندیاں اور غیر قانونی اقدامات کا تسلسل ایک سال بعد بھی جاری ہے۔بھارت کی جانب سے کالے قوانین کے نفاز میں اضافہ بھی ہوا ہے۔انہوں نے عالمی اقتصادی ماہرین کا حوالے دیتے ہوئے کہ بھارتی اقدامات سے مقبوضہ جموں و کشمیر میں ایک سال میں پانچ ارب ڈالر کا معاشی نقصان ہوا ہے ۔انہوں نے کہا کہ بی جے پی سرکار کا کہنا تھا کہ ہم یہ اقدامات کشمیریوں کی بہتری کیلئے اٹھا رہے ہیں لیکن متقی سوال یہ اٹھتا ہے کہ اگر یہ اقدامات ترقی یا بہتری کیلئے تھے تو وہاں تو شادیانے بجنے چاہیے تھے، بھارت بتائے ایک سال میں وہاں کتنی سرمایہ کاری آئی۔انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کی 6 پارٹیاں جو پہلے دلی سرکار کی طرف دیکھا کرتی تھیں اب وہ ان سے نالاں ہیں یہ بڑی تبدیلی ہے۔وزیر خارجہ نے کہا کہ چین نے کشمیر پر واضح موقف اختیار کیاچین نے واضح طور پر بھارت کے 5اگست کے اقدامات کو مسترد کیا اورواضح کہا کہ مشرقی لداخ میں ہم بھارت کے موقف کو تسلیم نہیں کرتے۔چین نے سی پیک پر اٹھنے والے شکوک و شبہات کو بھی مشترکہ اعلامیہ میں مسترد کر دیا۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ کشمیر سے متعلق بیانئے کو اب دنیا تسلیم نہیں کرتی۔ انٹرنیشنل کرایسز گروپ کشمیریوں کی جدوجہد کو مقامی سیاسی مزاحمت سے تعبیر کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کی جانب سے جعلی فلیگ آپریشن کا ناٹک رچا سکتا ہے۔میں نے اس سلسلے میں اپنے مختلف مراسلوں میں جنرل سیکرٹری اقوام متحدہ اور صدر سلامتی کونسل کو بھارتی عزائم سے باخبر کر چکا ہوں۔انہوں نے کہا کہ بھارت مسئلہ کشمیر کو سلامتی کونسل میں خود لے کر گیا اور بھر سلامتی کونسل کی قراردادوں کے منافی اقدام اٹھائے۔ بھارت نے ہمیشہ جھوٹ کا سہارا لیا لیکن دنیا حقیقت کو جانتی ہے اس لئے بھارت کو ناکامی کا مسلسل سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارت کشمیریوں کا عزم توڑنے میں ناکام ہو چکا ہے اور جموں و کشمیر میں بھارت کے خلاف علم بغاوت بلند ہو چکا ہے۔سی پیک کے حوالے سے وزیر خارجہ نے کہا کہ سی پیک پر پاک چین موقف واضح ہے،بھارت جو مرضی کہتا رہے،سی پیک پر پیشرفت جاری رکھیں گے۔اس منصوبے سے پورے خطے کو فائدہ ہوگا۔علاقائی روابط بڑھیں گےبیشک تنقید ہوتی رہے پاکستان اور چین اپنا سفر جاری رکھیں گے۔افغانستان کے حوالے سے وزیرخارجہ نے کہا کہ ہماری خواہش ہے کہ انٹرا افغان مذاکرات کا آغاز جلد از جلد ہو اور وہاں امن و استحکام قائم ہو جائے۔ہم افغانستان کی خود مختاری کو تسلیم کرتے اور افغانستان کے ساتھ برادرانہ تعلقات چاہتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان مصالحتی کوششوں میں سہولت کار کا کردار ادا کر رہا ہے،اپنے مستقبل کا فیصلہ افغان عوام اور حکومت نے خود کرنا ہے۔ ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہا کہ چین کے خصوصی نمائندہ برائے افغانستان جلد پاکستان آئیں گے۔انہوں نے کہا کہ افغانستان کی بڑی اکثریت کا موقف ہے کہ افغانستان کی ترقی میں پاکستان اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔اسرائیل کو تسلیم کرنے سے متعلق ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان کسی دباو میںآ کر فیصلہ نہیں کریگا،اس سلسلے میں سعودی عرب اور پاکستان میں مکمل یگانگت ہے۔سعودی عرب نے پیسے مانگی ہیں اور نہ ہی ادھار کی تیل بند کی ہے ،یہ سب قیاس آرائیاں ہیں۔







