پاکستان اور ایسوسی ایشن آف چارٹرڈ سرٹیفائیڈ اکانٹنٹس اے سی سی اے نے معاشی تبدیلی، پیشہ ورانہ افرادی قوت کی ترقی، ایس ایم ایز کے استحکام اور نجی شعبے کی قیادت میں اقتصادی ترقی کے فروغ کے لیے باہمی تعاون مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیاہے۔
وزیر خزانہ سے اے سی سی اے کی گلوبل ایگزیکٹو ڈائریکٹر کی قیادت میں وفدکی ملاقات، افرادی قوت کی ترقی، آئی ٹی سے متعلق خدمات اور ایس ایم ایز کے فروغ پر تبادلہ خیال

مزید خبریں
اسلام آباد۔10ستمبر (اے پی پی):پاکستان اور ایسوسی ایشن آف چارٹرڈ سرٹیفائیڈ اکانٹنٹس اے سی سی اے نے معاشی تبدیلی، پیشہ ورانہ افرادی قوت کی ترقی، ایس ایم ایز کے استحکام اور نجی شعبے کی قیادت میں اقتصادی ترقی کے فروغ کے لیے باہمی تعاون مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیاہے۔وزارت خزانہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب سے جمعرات کویہاں اے سی سی اے کی گلوبل ایگزیکٹو ڈائریکٹر لوسیا ریئل مارٹن نے ملاقات کی، ملاقات میں اے سی سی اے پاکستان کے سربراہ اسد حمید خان اور پبلک افیئرز لیڈ پاکستان اسد ملک محمود بھی موجود تھے۔
وزیر خزانہ نے وفد کا خیرمقدم کرتے ہوئے پاکستان میں اقتصادی اصلاحات کے حوالہ سے ترجیحات پر تبادلہ خیال کیا جن میں نجی شعبے کو مضبوط بنانا، برآمدات پر مبنی اقتصادی ترقی ونمو کو فروغ دینا اور معاشی استحکام کے حوالے سے حاصل ہونے والی پیش رفت کو برقرار رکھنا شامل ہے۔ ملاقات میں پاکستان کے بدلتے ہوئے اقتصادی اور ادارہ جاتی اصلاحاتی ایجنڈے کی معاونت کے لیے اے سی سی اے کے ساتھ تعاون مزید بڑھانے کے امکانات کا بھی جائزہ لیا گیا۔وزیرخزانہ نے پاکستان میں آئی ٹی اور آئی ٹی خدمات کے شعبے میں موجود وسیع امکانات کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ بہتر رابطہ کاری، خصوصاً فائیو جی اور جدید شعبوں بالخصوص مصنوعی ذہانت اور بلاک چین میں ہنر مندی اور استعداد کار میں اضافے کے ذریعے اس شعبے کے ایکوسسٹم کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے ۔
انہوں نے کہا کہ زیادہ قدر رکھنے والی خدمات کو فروغ دینے اور شیئرڈ سروس سینٹرز کے دائرہ کار کو وسعت دینے سے پاکستان کی ہنرمند افرادی قوت کو عالمی منڈیوں میں مزید موثر انداز میں حصہ لینے کے مواقع مل سکتے ہیں اس کے علاوہ ملک کے اندر بھی زیادہ قدر، روزگار اور کاروباری مواقع پیدا ہوں گے۔وزیر خزانہ نے کہاکہ افرادی قوت کی بیرون ملک برآمد اور ملک میں ہنرمند افرادی قوت کو برقرار رکھنا ایک دوسرے کے متضاد نہیں بلکہ باہم معاون اقدامات ہیں ، ملک میں ہنرمند پیشہ ور افراد کی مضبوط افرادی قوت تیار کرنا ضروری ہے جو ملکی اور بین الاقوامی دونوں مواقع سے استفادہ کرسکے۔وزیرخزانہ نے کہا کہ ایسی صلاحیتیں پیدا کرنے کی ضرورت ہے جن کے ذریعے پاکستانی ماہرین اور شیئرڈ سروس سینٹرز محض معمول کی اور لین دین پر مبنی خدمات تک محدود رہنے کے بجائے زیادہ قدر رکھنے والی اور علم پر مبنی سرگرمیوں کی جانب منتقل ہوسکیں۔ اے سی سی اے کی لوسیا ریئل مارٹن نے وزیر خزانہ کو پیشہ ورانہ اور افرادی قوت کی ترقی کے حوالے سے اے سی سی اے کی عالمی سطح پر جاری سرگرمیوں سے آگاہ کیا اور پاکستان کی ہنرمندی اور اقتصادی ترقی کے ایجنڈے کی حمایت کے لیے ادارے کے عزم کا اعادہ کیا۔
انہوں نے پاکستان کے شیئرڈ سروسز کے شعبے کو مزید مضبوط بنانے کے امکانات کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے پاس باصلاحیت افرادی قوت م اور ہدفی بنیادوں پر مہارتوں کے فروغ، پیشہ ورانہ استعداد کار میں اضافے اور ادارہ جاتی تعاون کے ذریعے زیادہ قدر رکھنے والی خدمات کو فروغ دینے کی وسیع گنجائش موجود ہے۔اے سی سی اے کے وفد نے عوامی مالیاتی انتظام کے شعبے میں حکومت کے ساتھ جاری تعاون سے بھی آگاہ کیا جس میں استعداد کار میں اضافہ، انتظامی رپورٹنگ اور نقد بنیاد سے آمدنی اور اخراجات کو ان کے واقع ہونے کی بنیاد پر ریکارڈ کرنے کے نظام کی طرف منتقلی شامل ہے۔اے سی سی اے نے سرکاری اداروں کو نئے طریقہ ہائے کار کار اور عملیاتی ماڈلز وضع کرنے، افرادی قوت، طریقہ کار اور ٹیکنالوجی کو مزید مضبوط بنانے بالخصوص ڈیجیٹلائزیشن، شفافیت اور ٹیکس انتظامیہ میں بہتری کے لیے معاونت فراہم کرنے پر آمادگی کا اظہار کیا۔
وزیر خزانہ نے ایس ایم ایز کے شعبے کو استعداد کار میں اضافے اور مالی وسائل تک بہتر رسائی کے ذریعے مضبوط بنانے کے حکومتی عزم کابھی اعادہ کیا ۔ انہوں نے کہا کہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کو بینکوں اور دیگر مالیاتی اداروں کے لیے زیادہ قابلِ قبول اور بینک ایبل بنانا ضروری ہے تاکہ انہیں پیشہ ورانہ خدمات تک سستی اور آسان رسائی حاصل ہوسکے اس اقدام سے ایس ایم ایز کو مالیاتی انتظام بہتر بنانے، مالی ریکارڈ اور دستاویزات کو مضبوط کرنے، نقد بہاو کو بہتر طور پر سمجھنے اور تجارتی و دیگر مالی ذرائع تک موثر رسائی حاصل کرنے میں مدد ملے گی۔ ریئل مارٹن نے ایس ایم ایز کے حوالے سے اے سی سی اے کی جانب سے پیشہ ورانہ تربیت، پالیسی اور تحقیق کے شعبوں میں جاری کام پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ ان اقدامات کا مقصد چھوٹے کاروباری اداروں کے لیے مالی وسائل تک رسائی بہتر بنانا اور پائیداری سے متعلق طریقہ کار کو مضبوط کرنا بھی ہے۔
انہوں نے فریکشنل چیف فنانشل آفیسر سروسز کے ابھرتے ہوئے امکانات کو بھی اجاگر کیا جن کے ذریعے ایس ایم ایز مکمل وقت کے مالیاتی شعبے کی لاگت برداشت کیے بغیر نسبتا کم لاگت پر پیشہ ورانہ مالیاتی ماہرین کی خدمات حاصل کرسکتے ہیں۔وزیر خزانہ نے اس شعبے میں قریبی تعاون کے امکانات کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ ایس ایم ایز کو مضبوط بنانے کے لیے صرف مالی وسائل کی دستیابی کافی نہیں بلکہ ان اداروں کی مالیاتی صلاحیت اور مالی وسائل کے حصول کے لیے تیاری کو بھی بہتر بنانا ہوگا۔
انہوں نے پاکستان کی پیشہ ور برادری کے لیے اے سی سی اے کی طویل عرصے سے جاری خدمات اور ارکان، طلبہ اور شراکت داروں کے ساتھ اس کے روابط کو سراہا۔ انہوں نے پاکستان کی معاشی پیش رفت اور اصلاحاتی ایجنڈے کو اجاگر کرنے کے لیے قیادت کی سطح پر جاری مختلف اقدامات کو بھی سراہا۔فریقین نے پاکستان کی معاشی تبدیلی، پیشہ ورانہ افرادی قوت کی ترقی، ایس ایم ایز کے استحکام اور نجی شعبے کی قیادت میں اقتصادی ترقی کے فروغ کے لیے باہمی تعاون مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا ۔







