وزیر خزانہ کا ’’اڑان اوورسیز پاکستانی سمر سکالرز پروگرام‘‘ کے شرکا سے خطاب، معاشی اصلاحات اور پاکستان کے مستقبل کا روڈ میپ پیش

وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ حکومت نوجوان پیشہ ور افراد کو قومی ترقی میں فعال کردار ادا کرنے کے لیے مزید مواقع فراہم کرتی رہے گی۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کو وزارت منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات کے زیر اہتمام جاری ’’اڑان اوورسیز پاکستانی سمر سکالرز پروگرام‘‘ کے شرکا ءسے ایک خصوصی نشست میں کیا۔

اسلام آباد۔27جولائی (اے پی پی):وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ حکومت نوجوان پیشہ ور افراد کو قومی ترقی میں فعال کردار ادا کرنے کے لیے مزید مواقع فراہم کرتی رہے گی۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کو وزارت منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات کے زیر اہتمام جاری ’’اڑان اوورسیز پاکستانی سمر سکالرز پروگرام‘‘ کے شرکا ءسے ایک خصوصی نشست میں کیا۔ یہ چھ ہفتوں پر مشتمل انٹرن شپ پروگرام دنیا کی ممتاز جامعات میں زیر تعلیم اوورسیز پاکستانی طلبہ اور نوجوان محققین کو پاکستان کے سرکاری اداروں سے منسلک ہونے اور اپنی تعلیم، تحقیق اور بین الاقوامی تجربے کو قومی ترقی و خوشحالی کے لیے بروئے کار لانے کا موقع فراہم کرتا ہے۔

وفاقی وزیرِخزانہ نے شرکا ءکا وزارت خزانہ میں خیرمقدم کرتے ہوئے اس پروگرام کو بیرون ملک مقیم پاکستانی نوجوانوں کی صلاحیتوں کو وطن سے جوڑنے کی ایک اہم کاوش قرار دیا۔ انہوں نے نوجوان سکالرز پر زور دیا کہ وہ پاکستان کے ساتھ اپنا تعلق مضبوط رکھیں اور اپنے علم، جدت اور عالمی تجربے کو ملک کی طویل المدتی معاشی ترقی میں مثبت کردار ادا کرنے کے لیے استعمال کریں۔ وزیر خزانہ نے پاکستان کی موجودہ معاشی صورتحال اور حکومت کے اصلاحاتی ایجنڈے پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ ڈھائی برسوں میں حکومت نے معاشی استحکام کے حصول کے لیے نمایاں پیش رفت کی ہے اور اب توجہ پائیدار اقتصادی ترقی پر مرکوز ہے جس کے لیے برآمدات میں اضافہ، سرمایہ کاری کا فروغ، مالیاتی نظم و ضبط اور ساختی اصلاحات کو ترجیح دی جا رہی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ نجی شعبے کی قیادت میں اقتصادی ترقی کے لیے سازگار ماحول فراہم کرنا حکومت کی معاشی حکمت عملی کا بنیادی ستون ہے۔وزیر خزانہ نے پاکستان کی خودمختار کریڈٹ ریٹنگ میں حالیہ بہتری اور عالمی مالیاتی منڈیوں کے ساتھ بڑھتے ہوئے روابط کا بھی ذکر کیا۔

انہوں نے پاکستان کی عالمی سرمایہ مارکیٹ میں کامیاب واپسی خصوصاً پہلے پانڈا بانڈ کے اجراء کو ایک اہم سنگ میل قرار دیتے ہوئے بتایا کہ حکومت جدید مالیاتی ذرائع کے ذریعے سرمایہ کاری اور مالی وسائل کے نئے مواقع پیدا کرنے پر کام کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ پیش رفت پاکستان کی معاشی سمت اور اصلاحاتی پروگرام پر عالمی اعتماد کا واضح اظہار ہے۔انہوں نے شرکا کو ڈیجیٹل معیشت کے فروغ کے لیے حکومت کے اقدامات سے بھی آگاہ کیا اور بتایا کہ پاکستان ورچوئل اثاثہ جات ریگولیٹری اتھارٹی (پی وی اے آر اے) کے قیام کا مقصد ڈیجیٹل اثاثوں کے لیے جدید اور موثر ضابطہ جاتی نظام قائم کرنا ہے جو ذمہ دارانہ جدت، موثر نگرانی اور ڈیجیٹل مالیاتی شعبے میں ابھرتے ہوئے مواقع سے بھرپور استفادہ ممکن بنائے گا۔وفاقی وزیر خزانہ نے کاروباری ماحول کو بہتر بنانے کے لیے حکومت کی پالیسیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ٹیکس نظام میں اصلاحات، سستی مالی سہولیات، مسابقتی توانائی نرخ اور برآمدات کی مسابقت بڑھانے کے اقدامات کے ذریعے کاروبار کی لاگت میں کمی لائی جا رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پیداواری صلاحیت، اختراع اور برآمدات میں تنوع ہی پاکستان کی مسابقت بڑھانے اور پائیدار اقتصادی ترقی کو یقینی بنانے کی بنیاد ہیں۔نشست کے اختتام پر سوال و جواب کے سیشن میں شرکاء نے معاشی اصلاحات، برآمدات کے فروغ، موسمیاتی مالیات اور سرمایہ کاری کے مواقع سمیت مختلف موضوعات پر وزیر خزانہ سے تبادلہ خیال کیا۔ وزیر خزانہ نے نوجوان سکالرز پر زور دیا کہ وہ اپنی تعلیم، تحقیق اور بین الاقوامی تجربے کو پاکستان کی معاشی تبدیلی میں موثر انداز سے بروئے کار لائیں اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت نوجوان پیشہ ور افراد کو قومی ترقی میں فعال کردار ادا کرنے کے لیے مزید مواقع فراہم کرتی رہے گی۔