وزیر داخلہ اعجاز احمد شاہ کا نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کے زیر اہتمام سیمینار سے خطاب

اسلام آباد ۔ 6 فروری (اے پی پی) وزیر داخلہ اعجاز احمد شاہ نے کہا ہے کہ مسئلے کے کشمیر کے حل کے بغیر خطے میں استحکام کا حصول مشکل ہے، پاکستان کسی بھی صورت کشمیر کے معاملے میں اپنے موقف سے نہیں ہٹے گا، کشمیر میں موجودہ صورتحال اور مودی کے شدت پسند عزائم ہندوتوا سوچ کی عکاسی کرتے ہیں، یہ سوچ ایک یا دو دن میں نہیں بلکہ …

اسلام آباد ۔ 6 فروری (اے پی پی) وزیر داخلہ اعجاز احمد شاہ نے کہا ہے کہ مسئلے کے کشمیر کے حل کے بغیر خطے میں استحکام کا حصول مشکل ہے، پاکستان کسی بھی صورت کشمیر کے معاملے میں اپنے موقف سے نہیں ہٹے گا، کشمیر میں موجودہ صورتحال اور مودی کے شدت پسند عزائم ہندوتوا سوچ کی عکاسی کرتے ہیں، یہ سوچ ایک یا دو دن میں نہیں بلکہ باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت اس مقام پر لائی گئی ہے جہاں آج مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی جارحیت اور ظلم اور بربریت کو 6 مہینے سے زیادہ ہو گئے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کو مہمان خصوصی کی حیثیت سے نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کے زیر اہتمام سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ سیمینار کا مقصد ہندو سوچ اور بھارت کے ناپاک عزائم پر سے پردہ اٹھانا تھا، آرٹیکل 370 اور 35 اے کو ختم کرکے آر ایس ایس کے مقاصد کو پورا کیا گیا ہے، ان آرٹیکلز کے ختم ہونے سے نہ صرف کشمیری اپنی شناخت بلکہ اپنے بنیادی حقوق سے بھی محروم ہو گئے ہیں۔ کرفیو اور مظالم نے وہاں زندگی کو مفلوج کر کے رکھ دیا ہے، اس قدم سے مودی سرکار کا شدت پسند چہرہ ساری دنیا کے سامنے بے نقاب ہو چکا ہے۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ کشمیر کا معاملہ بھارت کا اندرونی معاملہ نہیں ہے، یہ ایک متنازعہ علاقہ ہے جس پر اقوام متحدہ کی قراردادیں موجود ہیں۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ مودی سرکار نے اقوام متحدہ کی قراردادوں کی خلاف ورزی کی اور آئین میں بھی من دھڑک تبادلے کر دیئے۔ اعجازشاہ نے کہا کہ ہم ایک پرامن قوم ہیں اور حق کے لئے آواز اٹھانے کا شعور رکھتے ہیں۔ انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ کشمیر کے مسئلے کے حل کے بغیر خطے میں امن ناممکن ہے۔ رام مندر کے فیصلے سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے وزیر داخلہ نے کہا کہ مودی سرکار ہندو تحریک کے شدت پسند پہلو کی باقاعدہ عکاسی کرتی ہے۔ وزیر اعظم عمران خان نے کشمیری بھائیوں کے لئے ہر جگہ آواز اٹھائی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حق خود ارادیت کشمیری بھائیوں کا انسانی اور قانونی حق ہے، سالوں سے جاری یہ نازی سوچ پر مبنی مقاصد کے تحت مودی سرکاربابری مسجد کے فیصلے سے لے کر شہریت کے متنازع قانون تک اپنے شدت پسند عزائم کو سامنے لا رہی ہے۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ 9 اگست 2019 کا فیصلہ اور کرفیو کا لگنا اس دن کو انسانیت کی تاریخ کا تاریک ترین دن ثابت کرتا ہے۔ وقت نے ثابت کیا ہے کہ دو قومی نظریہ ٹھیک تھا اور قیام پاکستان درست فیصلہ تھا۔ اعجاز شاہ نے کہا کہ تاریخ سے ثابت ہوتا ہے کہ آج کے ہندوستان میں ہونے والے فیصلے کافی سالوں سے بڑھتی ہوئی شدت پسند سوچ کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر کے مسئلے کے حل کے بغیر خطے میں استحکام کا حصول مشکل ہے، پاکستان کسی بھی صورت کشمیر کے معاملے میں اپنے موقف سے نہیں ہٹے گا۔ انہوں نے ایک بار پھر اس بات پر زور دیا کہ کشمیر بھارت کا اندرونی مسئلہ نہیں ہے اور عالمی برداری کو اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہئے۔

مزید خبریں