اسلام آباد ۔ 22 جون (اے پی پی) وزیر مملکت برائے اطلاعات ‘نشریات و قومی ورثہ مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ وزیراعظم کا پانامہ لیکس سے کوئی تعلق نہیں ‘وزیراعظم اور شریف فیملی ہمیشہ عدلیہ اور عدلیہ کے فیصلوں کا احترام کرتی ہے ‘ وزیراعظم محمد نواز شریف اور شہباز شریف پانامہ لیکس میں نام نہ ہونے کے باوجود جے آئی ٹی میں پیش ہوئے‘ پانامہ کیس کا کرپشن …
وزیر مملکت برائے اطلاعات ‘نشریات و قومی ورثہ مریم اورنگزیب کی سپریم کورٹ کے باہر صحافیوں سے گفتگو

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 22 جون (اے پی پی) وزیر مملکت برائے اطلاعات ‘نشریات و قومی ورثہ مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ وزیراعظم کا پانامہ لیکس سے کوئی تعلق نہیں ‘وزیراعظم اور شریف فیملی ہمیشہ عدلیہ اور عدلیہ کے فیصلوں کا احترام کرتی ہے ‘ وزیراعظم محمد نواز شریف اور شہباز شریف پانامہ لیکس میں نام نہ ہونے کے باوجود جے آئی ٹی میں پیش ہوئے‘ پانامہ کیس کا کرپشن یا کسی کک بیکس سے کوئی تعلق نہیں ہے‘ مخالفین محض سیاسی بیساکھی کے طور استعمال کر رہے ہیں‘ ہم سمجھتے ہیں انصاف ہمیں پاکستان کے آئین اور قانون سے ملے گا ‘ آئین اور قانون کی حکمرانی اور اعلیٰ عدلیہ کے احترام میں تمام تر تحفظات کے باوجود جے آئی ٹی کی کارروائی کے تسلسل میں کسی قسم کی رکاوٹ نہیں ڈالی گئی ، آئین اور قانون کی پاسداری کی ‘ عمران خان سپریم کورٹ ‘انسداد دہشت گردی کی عدالت ‘الیکشن کمیشن میں غیر ملکی فنڈنگ کیس اور آئینی اداروں سے مفرور ہیں ، یہاں آکر احتساب کا لیکچر دیتے ہیں اور ان کے وکیل الیکشن کمیشن میں کہتے ہیں کہ کیس غیر معینہ مدت کےلئے ملتوی کیا جائے، گزشتہ ڈھائی برس سے کے پی کے میں احتساب دفتر کو تالا لگا ہوا ہے،اپنے صوبے میں احتساب پر خاموش رہنے والے یہاں شور مچاتے ہیں،وزیر مملکت مریم اورنگزیب کی دوران گفتگو پی ٹی آئی کے کارکنان کا ڈائس حاصل کرنے کےلئے دھاوا ‘میڈیا نے دوران گفتگو کارکنوں کی مداخلت پر احتجاج کیا ‘وزیر اطلاعات نے اپنی گفتگو جاری رکھی‘پی ٹی آئی بلوہ ، ڈنڈا اور تماشا پارٹی ہے، یہ جمہوری جماعت نہیں ‘ اونچا بول کر ڈرایا، دھمکایا اور ہراساں نہیں کیا جاسکتا‘ پی ٹی آئی کی مرضی کے مطابق کچھ نہ ہو تو یہ ہراساں کرتے ہیں ، یہ کام کرنے ہیں تو بنی گالہ میں جاکرکریں، جو پی ٹی آئی میں جاتا ہے اس کی سوچ سمجھ بالکل ختم ہو جاتی ہے، ‘میڈیا واقعے کا جائزہ لے،کیا ایسا رویہ قابل قبول ہے؟ فیصل آباد میڈیا پر حملے کی رپورٹ موصول ہوتے ہی ‘رپورٹ کی روشنی میں کارروائی آگے بڑھائی جائے گی ‘میڈیا پر حملے قابل قبول نہیں ‘کوریج کے لئے جانے والوں کو سہولیات ملنی چاہیئے ‘بطور وزیر اطلاعات کسی کے حقوق مجروح نہیں ہونے دوں گی ۔وہ جمعرات کو سپریم کورٹ کے باہر صحافیوں سے گفتگو کر رہی تھیں ۔








