وزیر مملکت برائے قانون و انصاف بیرسٹر ظفر اﷲ کا بیان

اسلام آباد ۔ 19 اگست (اے پی پی) وزیر مملکت برائے قانون و انصاف بیرسٹر ظفر اﷲ نے کہا ہے کہ الیکٹرانک جرائم کے امتناع کے ایکٹ 2016ءکے نفاذ سے الیکٹرانک جرائم کی روک تھام ممکن ہو سکے گی، اس ایکٹ کی تیاری میں انسانی حقوق کے بنیادی اصولوں اور عالمی کنونشن کے تحت ذمہ داریوں کو مدنظر رکھا گیا ہے، اس ایکٹ سے شہری اور سیاسی حقوق متاثر نہیں …

اسلام آباد ۔ 19 اگست (اے پی پی) وزیر مملکت برائے قانون و انصاف بیرسٹر ظفر اﷲ نے کہا ہے کہ الیکٹرانک جرائم کے امتناع کے ایکٹ 2016ءکے نفاذ سے الیکٹرانک جرائم کی روک تھام ممکن ہو سکے گی، اس ایکٹ کی تیاری میں انسانی حقوق کے بنیادی اصولوں اور عالمی کنونشن کے تحت ذمہ داریوں کو مدنظر رکھا گیا ہے، اس ایکٹ سے شہری اور سیاسی حقوق متاثر نہیں ہوں گے۔ جمعہ کو ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کی وزارت نے اس بل کو پارلیمان میں متعارف کرانے سے قبل اس پر تفصیلی غور و خوض کیا اور آئی ٹی کے ماہرین، ٹیلی کام اور قانون کے شعبہ سے متعلق افراد سمیت تمام فریقین سے تفصیلی مشاورت کی۔ انہوں نے کہا کہ اس بل کی پارلیمان کے دونوں ایوانوں سے منظوری کے دوران ترامیم کی گئیں۔ اس بل کے بارے میں منفی مہم قانون سازوں اور پاکستان کے عوام کے نمائندوں پر عدم اعتماد کے مترادف ہے۔

مزید خبریں

Leave a Reply