وزیرمملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی نے آسان ٹیکس سکیم پر عملدرآمد سے متعلق دکانداروں اور وکلاء کے ٹیکنیکل اعتراضات فوری طورپر دور کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہاہے کہ آسان ٹیکس سکیم دکانداروں کے لیے منفرد سکیم ہے جو کسی اور کاروباری طبقے کو میسر نہیں۔انہوں نے یہ بات جمعہ کویہاں دکانداروں کے لئے آسان ٹیکس سکیم کے حوالے سے جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی۔
وزیر مملکت بلال اظہر کیانی کی آسان ٹیکس سکیم پر عملدرآمد سے متعلق دکانداروں اور وکلاء کے تکنیکی اعتراضات فوری دور کرنے کی ہدایت

مزید خبریں
اسلام آباد۔25ستمبر (اے پی پی):وزیرمملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی نے آسان ٹیکس سکیم پر عملدرآمد سے متعلق دکانداروں اور وکلاء کے ٹیکنیکل اعتراضات فوری طورپر دور کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہاہے کہ آسان ٹیکس سکیم دکانداروں کے لیے منفرد سکیم ہے جو کسی اور کاروباری طبقے کو میسر نہیں۔انہوں نے یہ بات جمعہ کویہاں دکانداروں کے لئے آسان ٹیکس سکیم کے حوالے سے جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی۔
ایف بی آر اورپرال کے حکام کی جانب سے اجلاس کوبتایاگیا کہ آسان ٹیکس سکیم کے اجراء کے ایک ماہ میں اب تک 9806 دکاندار اس سکیم میں شامل ہو چکے ہیں اور ریٹرن فائلنگ کے مختلف مراحل میں ہیں، آسان ٹیکس سکیم میں 1929 نئے دکاندار رجسٹر ہوئے جو پہلے ٹیکس نظام میں شامل نہیں تھے اور امید ہے کہ نئے رجسٹر ہونے والے دکاندار جلد ریٹرن جمع کرائیں گے ۔اجلاس کوبتایاگیا کہ آسان ٹیکس سکیم یا معمول کے طریقہ کار کے مطابق ٹیکس جمع نہ کرانے کی ڈیڈ لائن گزرنے کے بعد جرمانے وصول کئے جائیں گے، آسان ٹیکس سکیم کے تحت ریٹرنز جمع کرانے والوں میں چھوٹے اور بڑے شہروں کے دکاندار شامل ہیں۔
اجلاس کوبتایاگیاکہ آسان ٹیکس سکیم کے تحت 428 دکانداروں نے اب تک ریٹرن جمع کرائے ہیں۔ وزیر مملکت خزانہ بلال اظہر کیانی نے آسان ٹیکس سکیم پر عملدرآمد سے متعلق دکانداروں اور وکلاء کے ٹیکنیکل اعتراضات فوری دور کرنے کی ہدایت کی ۔انہوں نے ریٹرن جمع کرانے والے دکانداروں کو جلد از جلد ایف بی آر پلیٹس فراہم کرنے کی بھی ہدایت کی۔ وزیرمملکت نے کہاکہ آسان ٹیکس سکیم دکانداروں کے لیے منفرد سکیم ہے جو کسی اور کاروباری طبقے کو میسر نہیں اور ہمیں امید ہے کہ اپنی ہی تیار کردہ سکیم کا مزید دکاندار حصہ بنیں گے۔ وزیرمملکت نے کہاکہ آسان ٹیکس سکیم آنے کے بعد کوئی وجہ اور جواز نہیں رہا کہ دکاندار فائلر نہ بنیں۔ اجلاس میں فیصلہ کیاگیا کہ تاجروں اور ایف بی آر افسران روزانہ کی بنیاد پر رابطے یقینی بنائیں گے جبکہ ٹیکس بارز اور وکلاء سے رابطے مزید بڑھائے جائیں گے۔
اجلاس میں تاجر رہنمائوں نے ایف بی آر کے اقدامات میں مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی ۔اجلاس کے دوران ٹیکس کمشنرز نے اپنے علاقوں میں ٹیکس بارز سے رابطوں کے بارے میں اجلاس کو آگاہ کیا۔ اجلاس کوبتایاگیاکہ آسان ٹیکس سکیم سے متعلق اردو زبان میں معلوماتی کتابچہ جاری کیا گیا ہے جس میں نئی سکیم اور ریٹرن کے پرانے طریقہ کار کی وضاحت اور ڈیڈ لائن کے بعد جرمانوں کی تفصیل بتائی گئی ہے، تاجر رہنمائوں نے آسان ٹیکس سکیم کو اچھی سکیم قرار دیتے ہوئے ایف بی آر سے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔
تاجررہنمائوں نے کہاکہ آسان ٹیکس نئی سکیم ہے جس کے بارے میں دکانداروں میں اگاہی پیدا ہونے میں کچھ وقت لگے گا۔اجلاس میں تاجر رہنما اجمل بلوچ اور کاشف چوہدری موجود تھے جبکہ ممبر سٹرٹیجک ٹرانسفارمیشن ڈاکٹر حامد عتیق، ممبر ان لینڈ ریونیو آپریشنز زبیر بلال اور ایف بی آر کے اعلیٰ حکام کے علاوہ ملک بھر کے چیف کمشنرز اور کمشنرز ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شریک ہوئے۔ آسان ٹیکس سکیم کے تحت ریٹرن جمع کرانے کی ڈیڈ لائن گزرنے کے بعد پہلے مہینے میں دس ہزار، دوسرے میں25 اور تیسرے مہینے میں 50 ہزار جرمانہ عائد ہوگا۔







