اسلام آباد۔23اکتوبر (اے پی پی):وزیر مملکت برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق ملک رشید احمد خان کی زیر صدارت وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق اسلام آباد میں فیڈرل کمیٹی برائے زراعت (ایف سی اے) کا 25 واں اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں صوبائی زراعت کے سیکرٹری صاحبان، وفاقی و صوبائی محکموں کے اعلیٰ افسران اور متعلقہ اداروں کے نمائندگان نے شرکت کی۔وزیر مملکت نے اپنے ابتدائی خطاب میں تمام …
وزیر مملکت ملک رشید احمد خان کی زیر صدارت فیڈرل کمیٹی برائے زراعت کا 25 واں اجلاس

مزید خبریں
اسلام آباد۔23اکتوبر (اے پی پی):وزیر مملکت برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق ملک رشید احمد خان کی زیر صدارت وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق اسلام آباد میں فیڈرل کمیٹی برائے زراعت (ایف سی اے) کا 25 واں اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں صوبائی زراعت کے سیکرٹری صاحبان، وفاقی و صوبائی محکموں کے اعلیٰ افسران اور متعلقہ اداروں کے نمائندگان نے شرکت کی۔وزیر مملکت نے اپنے ابتدائی خطاب میں تمام شرکا کو خوش آمدید کہا جو ملک کے مختلف حصوں سے قومی اہمیت کے فیصلوں میں حصہ لینے کے لیے تشریف لائے۔ انہوں نے کہا کہ فیڈرل کمیٹی برائے زراعت ایک اہم فورم ہے جہاں وفاق اور صوبے باہمی مشاورت کے ذریعے پائیدار زرعی ترقی اور غذائی تحفظ کے لیے منصوبہ بندی کرتے ہیں۔ملک رشید احمد خان نے کہا کہ غذائی تحفظ کے حصول کے لیے فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ اور وسائل کا موثر استعمال ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں زراعت، لائیو سٹاک اور ماہی گیری کے شعبوں میں بے پناہ صلاحیت موجود ہے جسے جدید زرعی ٹیکنالوجی، موثر مارکیٹنگ نظام، اور کھلی تجارتی پالیسیوں کے ذریعے بروئے کار لانا ضروری ہے۔
انہوں نے بتایا کہ حالیہ سیلاب نے پنجاب میں فصلوں اور بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچایا جس پر وفاقی و صوبائی حکومتیں مشترکہ طور پر تخمینے اور کسانوں کی بحالی کے اقدامات پر کام کر رہی ہیں۔ انہوں نے تحقیقی اداروں کی کاوشوں کو سراہا جو موسمیاتی تبدیلیوں سے ہم آہنگ فصلوں کی نئی اقسام پر کام کر رہے ہیں۔وزیر مملکت نے کہا کہ حکومت کسانوں کو کم قیمت پر زرعی ان پٹ فراہم کر رہی ہے، معیاری بیج کی درآمد کی حد بڑھا دی گئی ہے اور بائیو پیسٹی سائیڈ ریگولیٹری فریم ورک جاری کیا گیا ہے تاکہ بین الاقوامی معیار کے مطابق زرعی پیداوار کو فروغ دیا جا سکے۔انہوں نے بتایا کہ قومی بیج پالیسی اور بائیو ٹیکنالوجی پالیسی منظوری کے آخری مراحل میں ہیں جن کے ذریعے تصدیق شدہ بیج کے استعمال، عوامی و نجی اشتراک اور اختراعات کے فروغ کو ممکن بنایا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کے اکنامک ٹرانسفارمیشن ایجنڈا کے تحت وزارت نے صوبائی حکومتوں اور گرین پاکستان انیشی ایٹو کے ساتھ مل کر زراعت کی ترقی کے لیے جامع روڈ میپ تیار کیا ہے جس میں مشینی زراعت، بیج اصلاحات، کپاس کی بحالی، پراسیسنگ، مالی سہولیات اور برآمدات کے فروغ کے اقدامات شامل ہیں۔
حکومت نے نیشنل ایگری ٹریڈ اینڈ فوڈ سیفٹی اتھارٹی قائم کی ہے تاکہ خوراک کے معیار کے قومی معیارات کو ہم آہنگ کیا جا سکے، کوالٹی اشورنس کو ریگولیٹ کیا جا سکے اور زرعی برآمدات کو عالمی معیار سے ہم آہنگ بنایا جا سکے۔ وزیر مملکت نے تمام شرکا پر زور دیا کہ وہ زرعی شعبے کی بہتری کے لیے عملی تجاویز پیش کریں تاکہ محدود وسائل رکھنے والے کسان زیادہ سے زیادہ فائدہ حاصل کر سکیں۔ انہوں نے تمام شرکا کی بھرپور شرکت پر شکریہ ادا کیا اور حکومت کے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان کے زرعی شعبے کو مضبوط بنا کر غذائی تحفظ اور معاشی استحکام کو یقینی بنایا جائے گا۔








