وفاقی آئینی عدالتِ پاکستان کو ترک دنیا کی آئینی عدالتوں کی کانفرنس میں مبصر کی حیثیت سے رکنیت حاصل

وفاقی آئینی عدالتِ پاکستان کو ترک دنیا کی آئینی عدالتوں کی کانفرنس میں مبصر کی حیثیت سے متفقہ طور پر رکنیت دے دی گئی ہے۔ یہ پیش رفت وفاقی آئینی عدالتِ پاکستان کی بین الاقوامی آئینی عدالتی برادری میں بڑھتے ہوئے کردار اور مؤثر عالمی روابط کی جانب ایک اہم سنگِ میل ہے۔

اسلام آباد۔19جولائی (اے پی پی):وفاقی آئینی عدالتِ پاکستان کو ترک دنیا کی آئینی عدالتوں کی کانفرنس میں مبصر کی حیثیت سے متفقہ طور پر رکنیت دے دی گئی ہے۔ یہ پیش رفت وفاقی آئینی عدالتِ پاکستان کی بین الاقوامی آئینی عدالتی برادری میں بڑھتے ہوئے کردار اور مؤثر عالمی روابط کی جانب ایک اہم سنگِ میل ہے۔اتوار کو وفاقی آئینی عدالت پاکستان کی جانب سے جاری پریس ریلیز کے مطابق ترک دنیا کی آئینی عدالتوں کی کانفرنس (TÜRK-AY) کا قیام 27 اپریل 2022 کو استنبول، ترکیہ میں عمل میں آیا۔ اس تنظیم کا مقصد ترک دنیا کی آئینی عدالتوں کے درمیان تعاون کو فروغ دینا، آئینی انصاف اور قانون کی حکمرانی کو مستحکم کرنا اور عدالتی تجربات، بہترین روایات اور آئینی فقہ کے تبادلے کو فروغ دینا ہے۔

تنظیم کے مکمل ارکان میں ترکیہ، آذربائیجان، قازقستان، کرغزستان اور ازبکستان کی آئینی عدالتیں شامل ہیں۔ وفاقی آئینی عدالتِ پاکستان کو مبصر کی حیثیت سے رکنیت دیے جانے کے فیصلہ کے بارے میں جمہوریہ آذربائیجان کی آئینی عدالت کے چیئرمین اور TÜRK-AY کے موجودہ ٹرم صدر فرہاد عبداللایف کی جانب سے وفاقی آئینی عدالتِ پاکستان کے چیف جسٹس امین الدین خان کے نام ارسال کردہ خط کے ذریعے باضابطہ طور پر آگاہ کیا گیا۔ خط میں بتایا گیا کہ تنظیم کے دستور کے آرٹیکل 10.4 کے تحت TÜRK-AY کے تمام رکن عدالتوں نے وفاقی آئینی عدالتِ پاکستان کو مبصر کی حیثیت سے شامل کرنے کی متفقہ منظوری دی ہے۔

اپنے خط میں فرہاد عبداللایف نے وفاقی آئینی عدالتِ پاکستان کو دلی مبارکباد اور خیرمقدم پیش کرتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا کہ عدالت کی ممتاز آئینی مہارت، علمی استعداد اور اعلیٰ ساکھ TÜRK-AY کی سرگرمیوں میں مؤثر اور مثبت کردار ادا کرے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کی شمولیت آئینی اقدار کی بنیاد پر باہمی تعاون، افہام و تفہیم اور ادارہ جاتی روابط کو مزید مستحکم کرے گی۔ چیف جسٹس امین الدین خان نے اس اہم پیش رفت کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے پاکستان کی آئینی عدالتی روایت اور وفاقی آئینی عدالت پر بین الاقوامی اعتماد کا مظہر قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ یہ رکنیت وفاقی آئینی عدالت کے قانون کی حکمرانی، آئینی طرزِ حکمرانی اور بین الاقوامی عدالتی تعاون کے فروغ کے عزم کی عکاس ہے۔ TÜRK-AY میں مبصر کی حیثیت سے شمولیت وفاقی آئینی عدالتِ پاکستان کو ترک دنیا کی آئینی عدالتوں کے ساتھ قریبی روابط استوار کرنے، آئینی و عدالتی تجربات اور بہترین روایات کے تبادلے، علمی و ادارہ جاتی مکالمے میں شرکت، اور بین الاقوامی تعاون کے ذریعے آئینی انصاف کے فروغ میں فعال کردار ادا کرنے کا اہم موقع فراہم کرے گی۔وفاقی آئینی عدالتِ پاکستان آئینی بالادستی، عدالتی آزادی، بنیادی حقوق کے مؤثر تحفظ اور دنیا بھر کی آئینی و عدالتی اداروں کے ساتھ تعاون کو مزید مستحکم بنانے کے اپنے عزم کا اعادہ کرتی ہے۔