وفاقی آئینی عدالت میں سپر ٹیکس سے متعلق کیس کی سماعت، دلائل مکمل، سماعت 27 جنوری تک ملتوی

اسلام آباد۔26جنوری (اے پی پی):وفاقی آئینی عدالت میں سپر ٹیکس سے متعلق کیس کی سماعت چیف جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی۔ کیس کی سماعت کے دوران ایف بی آر کی وکیل عاصمہ حامد نے مختلف ہائی کورٹس میں سپر ٹیکس کے خلاف دائر کی گئی 150 رٹ پٹیشنز کی فہرست عدالت میں پیش کی۔ عاصمہ حامد نے موقف اختیار کیا کہ جب ایک …

اسلام آباد۔26جنوری (اے پی پی):وفاقی آئینی عدالت میں سپر ٹیکس سے متعلق کیس کی سماعت چیف جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی۔ کیس کی سماعت کے دوران ایف بی آر کی وکیل عاصمہ حامد نے مختلف ہائی کورٹس میں سپر ٹیکس کے خلاف دائر کی گئی 150 رٹ پٹیشنز کی فہرست عدالت میں پیش کی۔ عاصمہ حامد نے موقف اختیار کیا کہ جب ایک ہائی کورٹ کسی قانون کی شقوں کو درست قرار دے دے تو اسی قانون کو دوسری ہائی کورٹ میں چیلنج نہیں کیا جا سکتا۔ایف بی آر وکیل نے کہا کہ اب بھی فوجی فرٹیلائزرز کی جانب سے رٹ پٹیشنز دائر کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے موقف اپنایا کہ درخواست گزاروں کی جانب سے قانونی تقاضے پورے نہ کرنے کا اعتراض بے بنیاد ہے کیونکہ قانونی تقاضے عدالتی کارروائی کے دوران پورے ہوتے ہیں، قانون سازی کے عمل میں نہیں۔

عاصمہ حامد نے مزید کہا کہ قانون سازی کے مرحلے پر ٹیکس سے پہلے ٹیکس پیئر کو سننا آئینی طور پر ضروری نہیں۔درخواست گزاروں کی جانب سے امریکی سپریم کورٹ کے فیصلوں کا حوالہ دیا گیا تاہم ہر ملک کا اپنا آئین اور قانونی نظام ہوتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سپریم کورٹ پہلے ہی ماضی سے ٹیکس کے اطلاق کو درست قرار دے چکی ہے۔ایف بی آر وکیل کے مطابق اس وقت 29 فیصد نارمل انکم ٹیکس نافذ ہے جبکہ سپر ٹیکس 10 فیصد اضافی چارج کے طور پر قانون کا حصہ ہے اور قابل ادائیگی ہے۔ اس موقع پر جسٹس حسن اظہر رضوی نے سوال کیا کہ شیئرز پر کام کرنے، بینکوں سے قرض لینے اور سود کی ادائیگی جیسے اخراجات کو کیسے دیکھا جائے گا۔

وکیل ایف بی آر نے جواب دیا کہ اس حوالے سے انکم ٹیکس آرڈیننس کے آٹھویں شیڈول میں واضح شقیں موجود ہیں جنہیں کسی نے چیلنج نہیں کیا۔وقفے کے بعد ریونیو ڈویژن کے وکیل حافظ احسان کھوکھر نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ سپر ٹیکس پارلیمنٹ کے خصوصی ٹیکس اختیار کے تحت مکمل طور پر آئینی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیکشن 4 سی انکم ٹیکس کا حصہ ہے اور کوئی الگ یا متوازی ٹیکس نہیں۔حافظ احسان کھوکھر کے مطابق ایک ہی آمدن پر اضافی مالیاتی لیوی آئینی طور پر جائز ہے اور سپر ٹیکس ڈبل ٹیکسیشن نہیں بلکہ ایک اضافی چارجنگ پروویژن ہے۔ انہوں نے کہا کہ کمشنر ان لینڈ ریونیو کے اقدامات وفاق کے اقدامات تصور ہوں گے اور ریونیو ڈویژن و ایف بی آر کو ٹیکس سے متعلق مقدمات لڑنے کا مکمل اختیار حاصل ہے، اس کے لیے وزارت قانون یا اٹارنی جنرل سے مشاورت بھی لازمی نہیں۔

جسٹس حسن اظہر رضوی نے استفسار کیا کہ فنانس بل پیش ہونے کے بعد کیا پارلیمنٹ میں اس پر بحث ہوئی اور کیا اپوزیشن کی جانب سے کوئی اعتراض اٹھایا گیا؟ اس پر وکیل نے بتایا کہ پارلیمنٹ کی مشترکہ کمیٹی کے اجلاس میں فنانس بل پر تفصیلی بحث کی گئی تھی۔ریونیو ڈویژن کے وکیل کے دلائل مکمل ہونے کے بعد عدالت نے کیس کی سماعت منگل 27 جنوری تک ملتوی کر دی۔ عدالت کو بتایا گیا کہ مختلف کمپنیوں کے وکیل مخدوم علی خان آئندہ سماعت پر جواب الجواب دلائل دیں گے۔