وفاقی آئینی عدالت نے حارث سٹیل مل ریفرنس ختم کرنے کے خلاف درخواست پر نیب کو نوٹس جاری کر دیا، فریقین کو سٹیٹس کو برقرار رکھنے کی ہدایت

وفاقی آئینی عدالت نے حارث سٹیل مل ریفرنس ختم کرنے کے خلاف دائر درخواست پر قومی احتساب بیورو (نیب)کو نوٹس جاری کرتے ہوئے فریقین کو آئندہ سماعت تک سٹیٹس کو برقرار رکھنے کی ہدایت کر دی۔

اسلام آباد۔15جولائی (اے پی پی):وفاقی آئینی عدالت نے حارث سٹیل مل ریفرنس ختم کرنے کے خلاف دائر درخواست پر قومی احتساب بیورو (نیب)کو نوٹس جاری کرتے ہوئے فریقین کو آئندہ سماعت تک سٹیٹس کو برقرار رکھنے کی ہدایت کر دی۔

عدالت نے قرار دیا کہ کیس کی مزید سماعت عدالتی تعطیلات کے بعد ہوگی۔جسٹس حسن اظہر رضوی کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے بدھ کو کیس کی سماعت کی۔دوران سماعت بینک کے وکیل خواجہ حارث نے مؤقف اختیار کیا کہ اس مقدمے میں جعلی دستاویزات اور جعلی شناختی کارڈز کی بنیاد پر قرض حاصل کیا گیا تھا، جو فراڈ کی ایک سنگین مثال ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس فراڈ میں بینک آف پنجاب کے بعض افسران بھی شامل تھے۔اس پر جسٹس حسن اظہر رضوی نے استفسار کیا کہ کیا اس وقت دستاویزات کو کراس چیک نہیں کیا جاتا تھا؟’’ بعد ازاں ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ‘‘پہلے احتیاط نہیں کی جاتی، وقوعہ ہونے کے بعد جاگتے ہیں۔

خواجہ حارث نے مزید کہا کہ مقدمہ ختم ہونے کے بعد بینک گارنٹی واپس لینے کا عمل شروع ہو چکا ہے، اس لیے عدالت حتمی فیصلے تک حکم امتناعی جاری کرے۔جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیے کہ اس مقدمے میں بنیادی قانونی نکتہ یہ ہے کہ آیا نیب کی جانب سے ریفرنس ختم کرنے کے فیصلے کو چیلنج کیا جا سکتا ہے یا نہیں۔ انہوں نے کہا کہ عدالت کو یہ طے کرنا ہے کہ نیب کے اس فیصلے کے خلاف درخواست قابل سماعت ہے یا نہیں۔نیب کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ادارہ اس مقدمے میں کچھ اضافی دستاویزات جمع کرانا چاہتا ہے۔دلائل سننے کے بعد وفاقی آئینی عدالت نے نیب کو نوٹس جاری کرتے ہوئے فریقین کو آئندہ سماعت تک سٹیٹس کو برقرار رکھنے کی ہدایت کی اور کیس کی مزید سماعت عدالتی تعطیلات کے بعد تک ملتوی کر دی۔