وفاقی آئینی عدالت نے زیادتی کرنے والے شخص سے شادی کرنے والی خاتون کی درخواست خارج کر دی

وفاقی آئینی عدالت نے زیادتی کا نشانہ بننے والی خاتون کی درخواست خارج کردی۔

اسلام آباد۔4جون (اے پی پی):وفاقی آئینی عدالت نے زیادتی کا نشانہ بننے والی خاتون کی درخواست خارج کردی۔جسٹس حسن اظہر رضوی کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے جمعرات کو کیس کی سماعت کی جس کے دوران فریقین کے وکلا نے اپنے دلائل پیش کیے۔سماعت کے دوران جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیئے کہ اگر خاتون کے ساتھ زیادتی ہوئی تو اسی شخص سے شادی کیوں کی گئی؟ جبکہ وکیلِ صفائی نے مؤقف اختیار کیا کہ ملزم نے مبینہ طور پر واقعے پر پردہ ڈالنے کے لیے خاتون سے شادی کی۔عدالت کو بتایا گیا کہ مبینہ واقعہ 17 جون 2025 کو پیش آیاجبکہ وکیل کے مطابق 26 جون 2025 کو دونوں کی شادی ہوگئی۔ وکیل نے مزید بتایا کہ 6 اگست 2025 کو ملزم نے صائمہ شہزادی کو طلاق دے دی۔سماعت کے دوران جسٹس روزی خان نے ریمارکس دیئے کہ اگر شادی ہو گئی تھی تو طلاق کیسے ہوئی اور یہ کہ اس نوعیت کی کہانیاں غیر معمولی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسی کہانیاں تو فلموں میں ہوتی ہیں۔عدالت نے دلائل سننے کے بعد صائمہ شہزادی کی درخواست خارج کردی۔