وفاقی آ ئینی عدالت نےسہیل آفریدی کی نااہلی سے متعلق شیر افضل مروت کی درخواست غیر مؤثر ہونے پر نمٹا دی
وفاقی آ ئینی عدالت نےسہیل آفریدی کی نااہلی سے متعلق شیر افضل مروت کی درخواست غیر مؤثر ہونے پر نمٹا دی

مزید خبریں
اسلام آباد۔15اکتوبر (اے پی پی):وفاقی آئینی عدالت نے خیبرپختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کی نااہلی سے متعلق شیر افضل مروت کی درخواست غیر مؤثر ہونے پر نمٹا دی۔ چیف جسٹس امین الدین خان نے ریمارکس دیے کہ ایمرجنسی اور گورنر راج کے بعد وزیر اعلیٰ کے خلاف درخواست اب قابلِ سماعت معاملہ نہیں رہی۔جمعرات کو چیف جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں وفاقی آئینی عدالت کے دو رکنی بینچ نے شیر افضل مروت کی جانب سے دائر درخواست کی سماعت کی۔
دورانِ سماعت چیف جسٹس امین الدین خان نے استفسار کیا کہ وزیر اعلیٰ کے خلاف حالیہ پیش رفت کے بعد کیا درخواست سنی جا سکتی ہے؟ انہوں نے ریمارکس دیے کہ موجودہ صورت حال میں درخواست پر کارروائی آگے نہیں بڑھ سکتی اور اس وقت سہیل آفریدی کے پاس وزیر اعلیٰ کا عہدہ نہیں ہے۔درخواست گزار شیر افضل مروت نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ گورنر راج اور ایمرجنسی کو بھی چیلنج کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے سہیل آفریدی کے خلاف درخواست پر مختصر التوا دینے کی استدعا کی۔
اس موقع پر جسٹس علی باقر نجفی نے ریمارکس دیے کہ ایمرجنسی اور گورنر راج الگ معاملات ہیں اور وزیر اعلیٰ کے خلاف کیس اب قابلِ سماعت معاملہ نہیں رہا۔شیر افضل مروت نے کہا کہ اگر مستقبل میں گورنر راج اور ایمرجنسی ختم ہو جاتی ہے تو سہیل آفریدی دوبارہ بحال ہو سکتے ہیں۔
اس پر چیف جسٹس امین الدین خان نے ریمارکس دیے کہ اگر مستقبل میں وزیر اعلیٰ بحال ہو جاتے ہیں تو درخواست گزار درخواست کی بحالی کے لیے متفرق درخواست دائر کر سکتے ہیں۔بعد ازاں عدالت نے سہیل آفریدی کی نااہلی سے متعلق شیر افضل مروت کی درخواست غیر مؤثر ہونے پر نمٹا دی۔








