پشاور۔14جون (اے پی پی)مشیر اطلاعات خیبرپختونخوا اجمل وزیر نے وفاقی بجٹ کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہنا ہے کہ وفاقی حکومت نے انتہائی مشکل اور کھٹن حالات میں عوام دوست، غریب دوست اور تاجر دوست بجٹ پیش کیا ہے، کورونا وبا کے باوجود عمران خان کی قیادت میں وفاقی حکومت نے ایک متوازن اور ٹیکس فری بجٹ پیش کیا ہے، اپوزیشن کی بے جا تنقید سمجھ سے بالاتر ہے،موجودہ …
وفاقی حکومت نے انتہائی مشکل اور کھٹن حالات میں عوام دوست، غریب دوست اور تاجر دوست بجٹ پیش کیا ہے،اجمل وزیر

مزید خبریں
پشاور۔14جون (اے پی پی)مشیر اطلاعات خیبرپختونخوا اجمل وزیر نے وفاقی بجٹ کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہنا ہے کہ وفاقی حکومت نے انتہائی مشکل اور کھٹن حالات میں عوام دوست، غریب دوست اور تاجر دوست بجٹ پیش کیا ہے، کورونا وبا کے باوجود عمران خان کی قیادت میں وفاقی حکومت نے ایک متوازن اور ٹیکس فری بجٹ پیش کیا ہے، اپوزیشن کی بے جا تنقید سمجھ سے بالاتر ہے،موجودہ حالات میں ایسا بجٹ پیش کرنا مشکل تھا، پہلی مرتبہ ٹیکس فری بجٹ پیش کیا گیا ہے، تاجروں اور مزدور طبقے کو ریلیف دیا گیا ،سندھ حکومت این ایف سی میں قبائیلیوں کا حصہ دیں، ہماری اپیل ہے کہ ضم اضلاع کیلئے این ایف سی کا حصہ دیا جائے، صوبوں نے قبائلی اضلاع کیلئے 3فیصد حصہ دینے کا وعدہ کیا تھا، قبائلی عوام کی محرومیوں کا ازالہ کرنا سب کی ذمہ داری ہے، سندھ وعدے کے مطابق 3فیصد حصہ دیے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اتوار کے روز اطلاع سیل سول سیکرٹریٹ پشاور میں میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کیا۔ اجمل وزیر کا کہنا تھا کہ این ایف سی ایوارڈ میں صوبوں کی طرف سے اپنے وعدے کے مطابق 3فیصد حصہ نہ دینا افسوسناک ہے، بجٹ سے پہلے وزیراعظم کی زیر صدارت نیشنل اکنامک کونسل اجلاس میں چاروں صوبوں کے وزرائے اعلی نے شرکت کی تھی، وزیراعلی محمود خان نے نیشنل اکنامک کونسل میں ضم اضلاع کے 3فیصد حصے کی بات اٹھائی اور سندھ حکومت سمیت تمام صوبوں سے اس پر عملدرآمد کا مطالبہ کیا کیونکہ اسی بنیاد پر قبائلی اضلاع کو ضم کیا گیا تھا۔ان کا کہنا تھا کہ بلاول بھٹو زرداری ضم اضلاع پر واویلا اور سیاست تو خوب بہت کرتے ہیں لیکن ان کی سندھ حکومت کیوں این ایف سی میں قبائلی عوام کو 3فیصد حصہ نہیں دے رہی، وزیراعلی بلوچستان سے بھی یہی گزارش ہے کہ اپنا 3فیصد حصہ دیں، خیبر پختون خوا حکومت نے پہلے بھی ضم اضلاع کو 3فیصد حصہ دیا تھا اور اس بجٹ میں بھی دیں گے، اگر دیگر صوبے ضم اضلاع کا تین فیصد حصہ دیں تو قبائلی اضلاع میں ترقی کا عمل مزید تیز کیا جاسکتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ضم شدہ اضلاع کی محرومیوں کا ازالہ پورے پاکستان کی ذمہ داری ہے بلاول ضم اضلاع پر واویلا کر کے اپنی سیاست تو چمکارہے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ سندھ حکومت نے اپنے وعدے کے مطابق این ایف سی کے 3 فیصد حصے میں سے اپنا حصّہ ضم ضلاع کو ابھی تک نہیں دیا ہے خیبر پختونخوا حکومت نے قبائلی اضلاع کی ترقی کے لیے نیشنل فائنانس کمیشن ایوارڈ میں 3 فیصد مختص حصے میں اپنا حصّہ پہلے بھی دیا ہے اور اس بجٹ میں بھی دے گی، اگر دیگر صوبے بھی اپنے وعدے کے مطابق ضم اضلاع کو اپنا حصہ دیں تو وہاں ترقی کا عمل مزید تیز کرکے قبائلی اضلاع کی 72 سالہ محرومیوں کا ازالہ کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کے وزیراعلیٰ محمود خان نے وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت نیشنل اکنامک کونسل اجلاس میں ضم اضلاع کے 3 فیصد حصے کی بات اٹھائی تھی جس میں تمام صوبوں کے وزرائے اعلیٰ، وزیراعظم آزاد کشمیر نے شرکت کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ این ایف سی ایوارڈ میں صوبوں کی طرف سے اپنے وعدے کے مطابق 3 فیصد حصہ نہ دینا افسوسناک ہے۔وفاقی بجٹ برائے سال 2021 ۔2020پر بات کرتے ہوئے اجمل وزیر نے کہا کہ وفاقی حکومت نے انتہائی مشکل اور کٹھن حالات میں عوام دوست، غریب دوست اور تاجر دوست بجٹ پیش کیا ہے،کورونا وباء نے پوری دنیا کی معیشت کو بری طرح متاثر کیا ہے لیکن اس کے باوجود وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں وفاقی حکومت نے ایک متوازن اور ٹیکس فری بجٹ پیش کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بجٹ میں تاجر برادری سمیت غریب اور مزدور دار طبقے کے لئے بڑے پیمانے پر ریلیف فراہم کی گئی ہے،پاکستان کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ تاجر برادری بجٹ کی تعریف کرر رہی ہے اجمل وزیر کا کہنا تھا کہ بجٹ میں احساس پروگرام کی رقم 187 ارب سے بڑھا کر 208 ارب روپے کرکے غریب طبقے کو ریلیف فراہم کی ہے نوجوانوں کو معاشی طور پر اپنے پیروں پر کھڑا کرنے کے لئے 2 ارب روپے مختص کئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کی بے جا تنقید سمجھ سے بالاتر ہے۔مشیر اطلاعات نے کہا کہ اگر ان مشکل حالات میں عمران خان کی جگہ لوٹو تے پھوٹو گروپ کی حکومت ہوتی تو پتا نہیں ملک کا کیا حال ہوتا، یہ تو عمران خان کی مخلص قیادت ہے کہ اس مشکل حالات میں غریب دوست بجٹ پیش کیاہے۔ انسداد ٹڈی دل کے لیے اٹھائے گئے اقدامات کے بارے میں انہوں نے کہا کہ متاثرہ علاقوں میں ٹڈی دل کے خلاف آپریشن جاری ہے جس میں محکمہ زراعت، ریلیف، پاک آرمی اور متعلقہ ضلعی انتظامیہ کارروائیوں میں حصہ لے رہے ہیں۔ آپریشن میں 758 اہلکاروں پر مشتمل 80 ٹیمیں حصہ لے رہی ہیں۔ اجمل وزیر نے کہا کہ 42 لاکھ 63 ہزار سے زائد ایکڑ اراضی پر سروے جبکہ 52 ہزار سات سو ایکڑ اراضی پر اسپرے بھی مکمل کر لیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی بجٹ میں انسداد ٹڈی دل اور زرعی ریلیف کے لیے 10 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ حکومتی ایس او پیز کے بارے میں اجمل وزیر نے کہا کہ وزیراعلیٰ محمود خان کے واضح احکامات ہیں کہ ایس او پیز پر ہر صورت عملدرآمدکو یقینی بنایا جائے اور خلاف ورزی کی صورت میں سخت کارروائی کی جائے۔ اجمل وزیر نے کارروائیوں کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ گزشتہ 9 دنوں میں صوبہ بھر میں دو لاکھ 37 ہزار 13 کاروائیاں کی گئی ہیں ایس او پیز کی خلاف ورزی پر 59 ہزار 8 سو 22 یونٹس/کاروباروں کو وارننگز جاری کئے گئے ہیں۔ جبکہ 41 ہزار پانچ سو 91 کاروباری افراد پر ایک کروڑ 24 لاکھ 53 ہزار روپے سے زائد جرمانہ عائد کیا گیا ہے اسی طرح ایس او پیز کی خلاف ورزی پر چار ہزار 5 سو 31 یونٹس/کاروبار سیل کردیئے گئے ہیں۔







