وفاقی حکومت کا جوتا سازی کی صنعت کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے 8.4 ارب روپے سرمایہ کاری کا منصوبہ

حکومت پاکستان آئندہ پانچ برسوں کے دوران جوتا سازی کی صنعت کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے 8.4 ارب روپے کی سرمایہ کاری کرنے جا رہی ہے

اسلام آباد۔1جولائی (اے پی پی):حکومت پاکستان آئندہ پانچ برسوں کے دوران جوتا سازی کی صنعت کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے 8.4 ارب روپے کی سرمایہ کاری کرنے جا رہی ہے، اس منصوبے کے تحت پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن اینڈ ڈیزائن (پی آئی ایف ڈی)اور دیگر متعلقہ تربیتی اداروں کو جدید آلات، جدید نصاب اور بین الاقوامی روابط سے آراستہ کیا جائے گا تاکہ انہیں عالمی صنعتی معیار کے مطابق بنایا جا سکے۔ویلتھ پاکستان کو دستیاب سرکاری دستاویزات کے مطابق مجوزہ منصوبے پر وزارتِ صنعت و پیداوار سمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سمیڈا) کے ذریعے عملدرآمد کرے گی جبکہ نیشنل ووکیشنل اینڈ ٹیکنیکل ٹریننگ کمیشن (نیوٹیک)، مختلف ٹیکنیکل ایجوکیشن اینڈ ووکیشنل ٹریننگ اتھارٹیز (ٹیوٹا) اور دیگر متعلقہ تربیتی ادارے اس کے اہم شراکت دار ہوں گے، اس اقدام کا محور جوتا سازی، ڈیزائننگ اور افرادی قوت کی مہارتوں میں اضافہ ہے۔

دستاویز کے مطابق جوتا سازی کے شعبے کی حکمت عملی کا مقصد 2039 تک چمڑے کی برآمدات میں توازن پیدا کرنا ہے جس کے تحت جوتوں کی برآمدات کا حصہ بڑھ کر مجموعی چمڑا برآمدات کا 47 فیصد، یعنی تقریباً 1.17 ارب ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے، اس ہدف کے حصول کے لیے آئندہ 15 برسوں تک اس شعبے میں سالانہ 12 سے 14 فیصد کی مسلسل ترقی درکار ہوگی۔ منصوبے کے تحت جدید جوتا سازی کی پروڈکشن لائنیں، کمپیوٹر ایڈیڈ ڈیزائن/کمپیوٹر ایڈیڈ مینوفیکچرنگ (سی اے ڈی/ سی اے ایم)پر مبنی پیٹرن کٹنگ سسٹمز، جانچ کے جدید آلات اور میٹریل لائبریریاں قائم کی جائیں گی، اس کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی پیداواری معیارات اور عالمی خریداروں کی ضروریات سے ہم آہنگ مہارت پر مبنی نصاب بھی تیار کیا جائے گا۔منصوبے کا ایک اہم حصہ افرادی قوت کی تربیت ہے جس کے تحت مختصر مدت کے کورسز، ڈپلومہ پروگرامز اور سرٹیفکیشن سکیمیں متعارف کرائی جائیں گی، ان پروگراموں سے نہ صرف طلبہ بلکہ صنعت سے وابستہ موجودہ کارکن بھی مستفید ہوں گے جبکہ پیداوار کے معیار، استعداد، عالمی تقاضوں کی تکمیل اور برآمدات پر مبنی پیداواری طریقوں پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔

منصوبے میں اٹلی، سپین، پرتگال اور ویتنام کے معروف جوتا سازی کے تربیتی اور ڈیزائن اداروں کے ساتھ بین الاقوامی تعاون بھی تجویز کیا گیا ہے، ان شراکت داریوں کے ذریعے نصاب کو عالمی معیار کے مطابق ڈھالنے، تربیت، تبادلہ پروگراموں اور جدید پیداواری نظام سے آگاہی کے مواقع فراہم کیے جائیں گے۔فنڈنگ کے منصوبے کے مطابق مالی سال 2026-27 کے لیے 1.68 ارب روپے، 2027-28 کے لیے 3.36 ارب روپے، 2028-29 کے لیے 84 کروڑ روپے جبکہ 2029-30 اور 2030-31 کے لیے 1.26، 1.26 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس منصوبے کے لیے مجموعی طور پر 8.4 ارب روپے پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) سے فراہم کیے جائیں گے جبکہ دستاویز میں کسی غیر ملکی زرمبادلہ کے جزو کا ذکر نہیں کیا گیا۔دستاویز کے مطابق سمیڈا منصوبے پر عملدرآمد کی نگرانی کرے گی جبکہ نیوٹیک اس بات کو یقینی بنائے گا کہ تمام تربیتی پروگرام قومی مہارتی فریم ورک سے ہم آہنگ ہوں۔

پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن اینڈ ڈیزائن ادارہ جاتی بہتری میں مرکزی کردار ادا کرے گا ،جہاں ضرورت ہوگی وہاں صوبائی تکنیکی تعلیم کے ادارے بھی تربیتی سرگرمیوں میں حصہ لیں گے، اس کے علاوہ جوتا ساز صنعت اور چمڑے کے شعبے کی نمائندہ تنظیمیں نصاب کی توثیق اور تربیت یافتہ افراد کی صنعت میں شمولیت کے عمل میں تعاون کریں گی۔منصوبے کی دستاویز کے مطابق متوقع نتائج میں جدید تربیتی سہولیات کا قیام، عالمی معیار کے مطابق نصاب کی تیاری، ہنرمند افرادی قوت کی دستیابی، پیداواری صلاحیت میں اضافہ، مصنوعات کے معیار میں یکسانیت اور پاکستان کی جوتا سازی کی صنعت میں ڈیزائننگ کی صلاحیت کو فروغ دینا شامل ہے۔دستاویز کے مطابق یہ منصوبہ پاکستان کی برآمدات بڑھانے کی وسیع تر حکمت عملی کا ایک اہم حصہ ہے، اگر اس پر مؤثر انداز میں عمل درآمد کیا گیا تو اس سے ملک کم ویلیو والے جوتوں کی تیاری سے آگے بڑھ کر ڈیزائن پر مبنی، عالمی معیارات پر پورا اترنے والی اور بین الاقوامی سطح پر مسابقتی جوتا سازی کی صنعت کی جانب پیش رفت کر سکے گا۔