نوشہرہ ورکاں ،دھان کی کاشت کےموقع پر کسان دوست پیکیج کا اعلان کیا جائے،کسان ترجمان

پنجاب بھر کی طرح تحصیل نوشہرہ ورکاں میں بھی (دھان) کی کاشت کا سیزن شروع ہو چکا ہے۔ کھیتوں میں کاشتکاری کا عمل جاری ہے، جبکہ بڑھتے ہوئے زرعی اخراجات نے کاشتکاروں کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے

نوشہرہ ورکاں ۔ 01 جولائی (اے پی پی):پنجاب بھر کی طرح تحصیل نوشہرہ ورکاں میں بھی (دھان) کی کاشت کا سیزن شروع ہو چکا ہے۔ کھیتوں میں کاشتکاری کا عمل جاری ہے، جبکہ بڑھتے ہوئے زرعی اخراجات نے کاشتکاروں کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔نوشہرہ ورکاں کے معروف کسان رہنما فاروق کھارا، بابر حسین ڈھلواور نوشہرہ ورکاں کے دیگر رہنما میاں لیاقت علی نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ دھان کی کاشت کے اہم مرحلے کے پیش نظر فوری طور پر ڈیزل کی قیمتوں میں نمایاں کمی اور زرعی ٹیوب ویلوں کے لیے بجلی کے نرخ کم کیے جائیں تاکہ کسان بروقت فصل کی کاشت مکمل کر سکیں۔انہوں نے کہا کہ مونجی کی کاشت کے دوران زمین کی تیاری، پانی کی فراہمی، ٹریکٹروں اور دیگر زرعی مشینری کے استعمال کے لیے ڈیزل ناگزیر ہے، جبکہ زرعی ٹیوب ویلوں کے بجلی کے بھاری بل بھی کاشتکاروں کے لیے ناقابلِ برداشت بوجھ بن چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کھاد، بیج، زرعی ادویات، ڈیزل اور دیگر زرعی مداخل کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کے باعث فصل کی پیداواری لاگت بہت بڑھ گئی ہے، جبکہ منڈیوں میں فصل کی مناسب قیمت نہ ملنے سے کسان شدید مالی دباؤ کا شکار ہیں۔کسان رہنماؤں نے خبردار کیا کہ اگر حکومت نے فوری طور پر ڈیزل اور زرعی بجلی کی قیمتوں میں ریلیف نہ دیا تو ہزاروں کاشتکار معاشی مشکلات سے دوچار ہوں گے، جس کے منفی اثرات زرعی پیداوار، غذائی تحفظ اور ملکی معیشت پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔انہوں نے وزیراعظم پاکستان، وزیراعلیٰ پنجاب اور وفاقی و صوبائی وزارتِ زراعت سے مطالبہ کیا کہ مونجی کی کاشت مکمل ہونے سے قبل ہنگامی بنیادوں پر کسان دوست پیکیج کا اعلان کرتے ہوئے ڈیزل کی قیمتوں اور زرعی ٹیوب ویلوں کے بجلی کے نرخوں میں کمی کی جائے تاکہ کسان اپنی فصل بروقت اور کم لاگت پر کاشت کر سکیں

مزید خبریں