اسلام آباد۔ 07 مئی (اے پی پی) میڈیا کوخبروں اورحالات حاضرہ کے پروگراموں میں سنسنی خیزی سے گریز کرنا چاہئیے، الیکٹرانک میڈیا میں خبروں اورحالات حاضرہ کے پروگراموں میں پروڈیوسروں کا کردار کم ہواہے جس کی وجہ سے مبنی برحقیقت رپورٹنگ کی بجائے سنسنی خیزی کا عنصرزیادہ ابھرکرسامنے آیا ہے ، نوجوانوں کی اکثریت اب ٹی وی چینلوں کی بجائے سوشل میڈیا پرتوجہ دے رہی ہے جو ٹی وی کی …
وفاقی دارالحکومت میں پہلی ” پاکستان سمٹ “ میں میڈیا اورسنسنی خیزی کے موضوع پر منعقدہ سیشن سے مقررین کا خطاب

مزید خبریں
اسلام آباد۔ 07 مئی (اے پی پی) میڈیا کوخبروں اورحالات حاضرہ کے پروگراموں میں سنسنی خیزی سے گریز کرنا چاہئیے، الیکٹرانک میڈیا میں خبروں اورحالات حاضرہ کے پروگراموں میں پروڈیوسروں کا کردار کم ہواہے جس کی وجہ سے مبنی برحقیقت رپورٹنگ کی بجائے سنسنی خیزی کا عنصرزیادہ ابھرکرسامنے آیا ہے ، نوجوانوں کی اکثریت اب ٹی وی چینلوں کی بجائے سوشل میڈیا پرتوجہ دے رہی ہے جو ٹی وی کی صنعت کیلئے لمحہ فکریہ ہے۔ ان خیالات کااظہار مارٹن ڈاﺅ گروپ کی جانب سے وفاقی دارالحکومت میں اپنی طرز کی پہلی ” پاکستان سمٹ “ میں میڈیا اورسنسنی خیزی کے موضوع پر منعقدہ سیشن سے مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کیا۔کانفرنس کا موضوع ’روشن مواقع کی تلاش ‘ رکھاگیا تھا۔ کانفرنس میں ممتاز شخصیات نے شرکت کی جن میں چیئر مین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل زبیر محمود حیات نے کلیدی خطاب کیا ۔ پاکستان سمٹ میں مُلک کے اعلیٰ حکومتی عہدیداروں ، سفارت کاروں ، ممتازماہرین تعلیم،میڈیا کے نمائندگان،ڈولپمنٹ سیکٹراور سول سوسائٹی سے تعلق رکھنے والی نامور شخصیات نے شرکت کی اور ملک کے مسائل پر سیر حاصل گفتگوگی ۔







