وفاقی سیکرٹری تجارت سردار احمد نواز سکھیرا کی میڈیا بریفنگ

لاہور۔14 اپریل(اے پی پی ) ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان کے زیر اہتمام دوسری انٹرنیشنل ٹیکسٹائل ایکسپو(ٹےکسپو) اختتام پذیر ہو گئی‘ ایکسپو سنٹر لاہورمیں جاری ”ٹیکسپو“ میں 50 سے زائد ممالک سے 363غیرملکی خرید کنندگان نے شرکت کی جبکہ پاکستان سے 231 نمائش کنندگان نے اپنی مصنوعات کے سٹال لگائے‘ ‘ غیر ملکی خرید کنندگان اور پاکستانی تاجروں کے مابےن 5000 بی ٹو بی میٹنگز کا انعقاد ہوا، 600 ملین …

لاہور۔14 اپریل(اے پی پی ) ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان کے زیر اہتمام دوسری انٹرنیشنل ٹیکسٹائل ایکسپو(ٹےکسپو) اختتام پذیر ہو گئی‘ ایکسپو سنٹر لاہورمیں جاری ”ٹیکسپو“ میں 50 سے زائد ممالک سے 363غیرملکی خرید کنندگان نے شرکت کی جبکہ پاکستان سے 231 نمائش کنندگان نے اپنی مصنوعات کے سٹال لگائے‘ ‘ غیر ملکی خرید کنندگان اور پاکستانی تاجروں کے مابےن 5000 بی ٹو بی میٹنگز کا انعقاد ہوا، 600 ملین ڈالر کے معاہدے، غیر ملکی خرید کنندگان اور مقامی ایکسپورٹ ہاﺅسز کے ساتھ 10 ایم او یوز پر دستخط ہوئے،وفاقی سیکرٹری تجارت سردار احمد نواز سکھیرا نے نمائش کے اختتام پر میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ نمائش میں روس‘ بحرین‘ امریکہ‘ چین‘ جاپان‘ یو کے‘ سعودی عرب‘ ویت نام‘ نائیجیریا‘ فرانس‘ نیدر لینڈ‘ سپین سمیت 50 سے زیادہ ممالک سے کنٹری وفود نے شرکت کی‘ انہوں نے بتایا کہ نمائش میں نئے ایکسپورٹرز نے بھی کثیر تعداد میں شرکت کی اور اپنے تاثرات میں کہاکہ انہیں نمائش میں بہت زیادہ پذیرائی ملی جو کہ ایکسپورٹ سیکٹر کیلئے اچھا شگون ہے‘ وفاقی سیکرٹری نے بتایا کہ اس موقع پر غیر ملکی خرید کنندگان اور مقامی ایکسپورٹ ہاﺅسز کے ساتھ 10 ایم او یوز پر دستخط ہو چکے ہیں جبکہ مزےد ایک دو روز میں ہو جائیں گے‘ انہوں نے بتایا کہ غیر ملکی کاروباری وفود کو لاہور‘ سیالکوٹ‘ فیصل آباد میں مختلف فیکٹریز کا دورہ بھی کروایا گیا اور یہ بات انتہائی خوش آئند ہے کہ اس دوران ٹیکسپو کی بد ولت 600 ملین ڈالر کے معاہدے ہو چکے ہیں جو کہ پاکستانی تاجروں اور مصنوعات پر اعتماد کا اظہار اور ٹیکسٹائل کے شعبہ کیلئے انقلاب کا باعث ہے‘ سردار احمد نواز سکھیرا نے بتایا کہ اس دوران کنٹری وفود کی آراءاور تجاویز لی گئیں‘ غیر ملکی وفود نے اس موقع پر پاکستان کے بارے میں ہونیوالے منفی پراپیگنڈے کی نفی کی اور کہا کہ انہیں پاکستان میں کسی قسم کا سکیورٹی کا ایشو نہیں ہوا‘ انہیں پاکستانی مصنوعات بہت زیادہ پسند آئیں‘ وفاقی سیکرٹری نے بتایا کہ ٹی ڈی اے پی کی زیر نگرانی کانفرنس اور سیمینارز کا بھی انعقاد کروایاگیا اورغیر ملکی مہمانوں کو لاہور کے تاریخی اور ثقافتی ورثوں کا بھی دورہ کروایا گیا جنہیں دیکھ کر انہوں نے یہ قرار دیا کہ پاکستان پرامن اور پیار کرنیوالا ملک ہے‘ مختلف تقریبات میں ٹریڈ ڈویلپمنٹ آفیسرز‘ وزارت تجارت کے افسران‘ ٹی ڈی اے پی کے افسران اور بزنس لیڈرز کی تجاویز لی گئیں تاکہ پبلک اور بزنس سیکٹر ایک ٹیم کی طرف کام کرکے ایکسپورٹ کو بڑھایا جاسکے‘ قبل ازیں نمائش کے اختتامی روز ٹریڈ انوائز کانفرنس کا انعقاد کیا گیا جس میں ٹریڈ ڈویلپمنٹ آفیسرز‘ وزارت کامرس کے افسران اور کاروباری برادری کے رہنماﺅں نے شرکت کرکے ایکسپورٹ میں اضافے اور امپورٹ میں کمی لانے کیلئے اپنی تجاویز پیش کیں‘ اس موقع پر دیگر ممالک میں تعینات ٹریڈ ڈویلپمنٹ آفیسرز نے یورپ سمیت دیگر ممالک میں پاکستان مصنوعات کی مانگ میں اضافہ کیلئے اپنی اپنی تجاویز پیش کیں‘ کانفرنس کے شرکاءنے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کو ترقی یافتہ ممالک کی صف میں شامل کر نے کےلئے برآمدات میں اضافہ ضروری ہے جبکہ درآمدات میں کمی کرکے زرمبادلہ بچایا جاسکتا ہے۔

مزید خبریں

Leave a Reply