اسلام آباد۔9نومبر (اے پی پی):وفاقی سیکرٹری قومی ورثہ و ثقافت ڈویژن نوشین جاوید امجد نے کہا ہے کہ علامہ اقبال کے مولوی عبدالحق کو لکھے گئے خطوط واضح ثبوت ہیں کہ وہ اردو ہی کو مسلمانان ہند کی زبان سمجھتے تھے، علامہ اقبال کو مصور پاکستان، مفکر پاکستان اور عظیم شاعر کی حیثیت سے جانا جاتاہے، 1930ءکے علامہ اقبال کے خطبہ الہٰ آباد نے قیام پاکستان کے لئے نظریاتی بنیاد …
وفاقی سیکرٹری قومی ورثہ نوشین جاوید امجد کا د عالمی اقبال کانفرنس کی افتتاحی سے تقریب

مزید خبریں
اسلام آباد۔9نومبر (اے پی پی):وفاقی سیکرٹری قومی ورثہ و ثقافت ڈویژن نوشین جاوید امجد نے کہا ہے کہ علامہ اقبال کے مولوی عبدالحق کو لکھے گئے خطوط واضح ثبوت ہیں کہ وہ اردو ہی کو مسلمانان ہند کی زبان سمجھتے تھے، علامہ اقبال کو مصور پاکستان، مفکر پاکستان اور عظیم شاعر کی حیثیت سے جانا جاتاہے، 1930ءکے علامہ اقبال کے خطبہ الہٰ آباد نے قیام پاکستان کے لئے نظریاتی بنیاد فراہم کی تو ان کے اردو کلام نے تحریک پاکستان کے لئے مسلمانوں میں وہ جوش و جذبہ پیدا کیا جس نے شاعر مشرق کے خواب کو عملی صورت دی اور یہ مملکت خداداد پاکستان کے نقشے پر معرض وجود میں آئی، یہ علامہ اقبال کی اردو شاعری ہی تھی جس نے اس شمال تا جنوب اور مشرق سے مغرب تک خواب غفلت میں ڈوبے ہوئے مسلمانوں کو جھنجوڑا اور انگریز کی غلامی سے آزادی کا شعور عطا کیا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ادارہ فروغ قومی زبان کے زیر اہتمام منعقدہ دو روزہ عالمی اقبال کانفرنس کے افتتاحی اجلاس میں بحیثیت مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔ کانفرنس کے افتتاحی اجلاس میں شریف بقا (برطانیہ)، جسٹس (ر) ناصرہ جاوید اقبال، پروفیسر فتح محمد ملک، افتخار عارف، ڈاکٹر خالد مسعود، ڈاکٹر اینا سوواروا(روس)، ڈاکٹر بصیرہ عنبرین، ڈاکٹر سویا مانے یاسر(جاپان)، ڈاکٹر ابراہیم محمد ابراہیم (مصر)، اشفاق حسین (کینیڈا) اور ڈاکٹر علی بیات (ایران) نے اظہار خیال کیا۔ ادارے کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر راشد حمید نے استقبالیہ کلمات میں کانفرنس شریک مندوبین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ادارہ فروغ قومی زبان ، قومی زبان اردو کی نسبت سے عالمی اور قومی کانفرنسوں کے انعقاد کے ذریعے قومی یک جہتی کے ضمن میں اپنا کردار بھرپور طریقے سے ادا کرنے کی کوشش کررہا ہے۔ اس حقیقت سے کون واقف نہیں کہ اردو دنیا کی پہلی چند بڑی زبانوں میں شمار ہوتی ہے۔ اس زبان نے علم و ادب کے میدان میں انپا لوہا منوایا اور اس کی ترقی کا سفر الحمدللہ مسلسل جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ اقبال نے جس بلیغ فکر کی ترویج و اشاعت کا بیڑا اٹھایا، اس کی مختلف پرتیں کھولی جائیں، اس پر آشوب زمانے میں فکر اقبال سے روشنی کشید کرنے کی بھی سعی کی جائے گی۔ پروفیسر فتح محمد ملک نے کہا کہ اقبال کی شاعری اور سیاست نے پاکستان کی قومی زبان بنائی اور جب تحریک پاکستان کے زمانے میں بنگال سے حسین شہید سہروردی پشاور قصہ خوانی بازارآئے تو انھوں نے اردو میں تقریر کی۔ وجہ یہ تھی کہ مقرر کو پشتو نہیں آتی تھی اور سامعین کو بنگالی نہیں آتی تھی لہٰذا انھیں واحد رابطے کی زبان اردو میں اظہار خیال کرنا پڑا۔ انھوں نے کہا کہ قیام پاکستان کے وقت ہمارے قائدین نے مختلف صوبوں میں جا کر اپنے منشور کی بات کی تو قومی زبان اردو ہی میں کی کیونکہ مقامی لوگوں کو اردو کے سوا دوسری زبان سمجھ نہیں آتی تھی اور قیادت کو وہاں کی مقامی زبان نہیں آتی تھی۔تحریک پاکستان کے زمانے سے ہی ہماری قومی زبان اردو بن گئی تھی۔افتخار عارف نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ علامہ محمد اقبال نے کہا تھا اردو زبان کے لیے میری عصبیت میری دینی عصبیت سے کسی صورت کم نہیں۔ قائداعظم محمد علی جناح نے کہا تھا کہ پاکستان کی قومی زبان صرف اردو ہو گی۔ بانیان پاکستان نے متفقہ طور پر یہ طے کیا تھا کہ اردو پاکستان کی قومی زبان ہو گی۔ اسی تسلسل میں پاکستان کے آئین میں طے کیا گیا کہ پاکستان کی قومی اور سرکاری زبان اردو ہے ۔ ہمیں چاہیے کہ ملک کی یک جہتی کے لیے بانیان پاکستان کے افکار سے رو گردانی نہ کریں۔پروفیسر جلیل عالی نے کہا کہ اردو زبان کی صلاحیتوں کا اس سے بڑا کیا ثبوت ہو گا کہ اقبال نے اپنی عظیم فکری و شعری تخلیقی واردات کے اظہار کے لیے اسے وسیلہ بنایا اور یہ بات خود اردو زبان کے لیے خوش قسمتی اور سعادت کی حیثیت رکھتی ہے کہ اسے اتنے عظیم اور دیر تک اور دور تک اثرات رکھنے والی انتہائی وقیع شعری وارادت کو خود میں سمونے کا موقع ملا۔ یہ امر بھی حقیقت ہے کہ اقبال کے شعری اظہار سے اردو کے مزاج میں ایک انتہائی غیر معمولی برکی توانائی پیدا ہوئی۔ ہمارے لسانی تشکیلات سے دلچسپی رکھنے والے احباب کو اس بات پر غور کرنا چاہیے کہ کیسے بڑا تخلیقی تجربہ زبان کے قلبِ ماہیئت کر کے رکھ دیتا ہے۔ لسانی تشکیل کوئی مکینیکل عمل نہیں ہوتا۔ غیر معمولی تخلیقی مطالب زبانوں کے مزاج بدل کر رکھ دیتے ہیں۔ بال جبریل کی غزلوں اور نظموں میں اردو جس توانا لب و لہجے سے آشنا ہوئی اس سے پہلے کی جانے والی شاعری کے مقابلے میں ایک واضح لسانی فرق کا احساس دلاتی ہے۔







