وفاقی محتسب برائے انسداد ہراسیت کا خواتین کو ان کی جائیداد کے حقوق دلانے کیلئے یونین کونسل سہالہ میں کھلی کچہری کا انعقاد

اسلام آباد۔16جولائی (اے پی پی):وفاقی محتسب برائے انسداد ہراسیت (فوسپا) نے خواتین کو ان کی جائیداد کے حقوق دلانے کے لیے بدھ کو یونین کونسل سہالہ اسلام آباد میں کھلی کچہری کا انعقاد کیا۔ کھلی کچہری کی صدارت فوزیہ وقار وفاقی محتسب (فوسپا) نے خود کی اور خواتین کی جائیداد سے متعلق شکایات براہ راست سنیں۔ ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (ایسٹ) مہرین بلوچ بھی اس کھلی کچہری میں موجود تھیں اور …

اسلام آباد۔16جولائی (اے پی پی):وفاقی محتسب برائے انسداد ہراسیت (فوسپا) نے خواتین کو ان کی جائیداد کے حقوق دلانے کے لیے بدھ کو یونین کونسل سہالہ اسلام آباد میں کھلی کچہری کا انعقاد کیا۔ کھلی کچہری کی صدارت فوزیہ وقار وفاقی محتسب (فوسپا) نے خود کی اور خواتین کی جائیداد سے متعلق شکایات براہ راست سنیں۔ ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (ایسٹ) مہرین بلوچ بھی اس کھلی کچہری میں موجود تھیں اور انہوں نے موقع پر ہی شکایت کنندگان کی رہنمائی کی تاکہ انہیں انتظامی سطح پر بھی فوری مدد فراہم کی جا سکے۔

اردگرد کے دیہی علاقوں سے تعلق رکھنے والی خواتین بڑی تعداد میں شریک ہوئیں، جنہوں نے جائیداد پر ناجائز قبضے، حق ملکیت سے انکار اور گھریلو ناانصافیوں کے بارے میں کھل کر بات کی۔بی بی عصماں جو کبیر والا کی رہائشی ہیں ،نے بتایا کہ ان کے سسرالیوں نے ان کی وراثتی زمین پر قبضہ کر لیا ہے اور وہ کئی سالوں سے دربدر ہیں۔

محرانہ بی بی نے بتایا کہ ان کے دیور نے ان کا مکان اور اصل کاغذات چھین لیے ہیں جس سے وہ قانونی طور پر بےیار و مددگار ہو گئی ہیں۔فوسپا کی قانونی ٹیم نے موقع پر ہی خواتین کو رہنمائی فراہم کی اور انہیں قانونی راستوں کے بارے میں آگاہ کیا۔ ہر کیس کو تحریری طور پر نوٹ کیا گیا تاکہ بعد میں کارروائی کی جا سکے۔ فوزیہ وقار نے کہا کہ انصاف صرف عدالتوں تک محدود نہیں ہونا چاہیے،بہت سی خواتین کے لیے کھلی کچہری ہی وہ واحد موقع ہوتی ہے جہاں وہ اپنے حق کی بات کر سکتی ہیں۔ فوزیہ وقار نے یونین کونسل کے ہنر سکھانے والے مرکز کا بھی دورہ کیا جہاں نوجوان لڑکیوں کو سلائی اور کڑھائی کی تربیت دی جا رہی ہے تاکہ وہ معاشی طور پر خودمختار ہو سکیں۔

انہوں نے اس اقدام کو سراہا اور کہا کہ خواتین کا معاشی طور پر بااختیار ہونا صنفی برابری کے لیے نہایت ضروری ہے۔یہ کھلی کچہری فوسپا کے اس بڑے مشن کا حصہ ہے جس کے تحت وہ خواتین کو ان کا جائیداد میں حق دلانے کے لیے گھروں کے قریب سہولتیں فراہم کر رہا ہےتاکہ قانونی علم کی کمی، معاشرتی دبائو اور خاندانی رکاوٹوں جیسے مسائل کے باوجود انصاف ان تک پہنچ سکے۔