22.5 C
Islamabad
پیر, ستمبر 1, 2025
ہومقومی خبریںوفاقی وزارت تعلیم و پیشہ وارانہ تربیت کا ’’عالمی سکول میلز سمٹ...

وفاقی وزارت تعلیم و پیشہ وارانہ تربیت کا ’’عالمی سکول میلز سمٹ سے قبل قومی وعدوں کو آگے بڑھانے‘‘ کے موضوع پر تقریب کا انعقاد

- Advertisement -

اسلام آباد۔27اگست (اے پی پی):وفاقی وزارت تعلیم و پیشہ وارانہ تربیت نے ’’عالمی سکول میلز سمٹ سے قبل قومی وعدوں کو آگے بڑھانے‘‘ کے موضوع پر ایک اہم تقریب منعقد کی۔ تقریب کا انعقاد وزارتِ منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات، وزارتِ غربت کے خاتمے و سماجی تحفظ/بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی)، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے غربت کے خاتمے و سماجی تحفظ، اقوامِ متحدہ کے عالمی ادارۂ خوراک (ڈبلیو ایف پی ) پاکستان اور دیگر اہم ترقیاتی شراکت داروں کے تعاون سے کیا گیا۔تقریب میں اعلیٰ پالیسی سازوں، اراکینِ پارلیمنٹ اور ترقیاتی شراکت داروں نے شرکت کی تاکہ پاکستان کی سکول میلز پروگرام میں پیشرفت کو تیز کیا جا سکے اور 18-19 ستمبر 2025 کو برازیل میں ہونے والے دوسرے عالمی سکول میلز سمٹ سے قبل اپنے عزم کو دہرا سکیں۔

پاکستان نے 2021 میں عالمی سکول میلز کولیشن میں شمولیت اختیار کی تھی اور اس موقع پر یہ وعدہ کیا تھا کہ 2030 تک ہر بچے کو سکول میں صحت مند اور غذائیت سے بھرپور کھانا فراہم کیا جائے گا۔ اس کے تحت جون 2025 میں سکول میلز پر دوسری قومی مشاورت میں تمام صوبوں اور خطوں نے سکول میلز پروگرام کو وسعت دینے کا عزم کیا۔ آج کی تقریب کا مقصد ان وعدوں کو ایک قومی ایکشن پلان میں ڈھالنا اور پاکستان کا مشترکہ اعلامیہ عالمی سربراہی اجلاس کے لئے تیار کرنا تھا جن میں اہم اقدامات میں سکول میلز کا قومی روڈ میپ تیار کرنا، سکول میلز کو قومی پالیسیوں اور منصوبوں میں ادارہ جاتی شکل دینا اور وفاقی و بین الصوبائی سطح پر ایک ایسا پلیٹ فارم قائم کرنا جو ہم آہنگی اور جوابدہی کو یقینی بنائے، شامل تھے۔وزیر مملکت برائے وفاقی تعلیم و پیشہ وارانہ تربیت وجیہہ قمر نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے حکومت کے اس عزم کو دہرایا کہ ملک بھر میں سکول میلز پروگرام کو وسعت دی جائے گی۔

- Advertisement -

انہوں نے کہا کہ جب میں پاکستان کے بچوں سے ملتی ہوں تو میں دیکھتی ہوں کہ سکول میں ایک سادہ سا کھانا کس طرح فرق ڈال سکتا ہے، یہ بچوں کو سکول لاتا ہے، انہیں صحت مند رکھتا ہے اور ان کے خاندانوں کو امید دیتا ہے، جب ہم برازیل میں سکول میلز کے عالمی سربراہی اجلاس میں پاکستان کی آواز اور عزم کو لے کر جائیں گے تو دنیا کو دکھائیں گے کہ سکول میلز میں سرمایہ کاری دراصل بچوں کے خوابوں میں سرمایہ کاری ہے، پاکستان میں کوئی بچہ بھوک کی وجہ سے تعلیم اور خوشحال زندگی سے محروم نہیں ہونا چاہئے۔

پاکستان میں عالمی ادارہ خوراک کی نمائندہ اور کنٹری ڈائریکٹر کوکو اوشی یاما نے کہا کہ سکول میلز بچوں میں سب سے طاقتور سرمایہ کاری ہیں جن کے دور رس اثرات تعلیم، غذائیت اور صحت کو بہتر بناتے ہیں جبکہ مقامی معیشت کو بھی مضبوط کرتے ہیں اور پوری برادری کو فائدہ پہنچاتے ہیں، بلوچستان میں سکول میلز کا پائلٹ منصوبہ جاری ہے اور صرف ایک سال میں شاندار نتائج سامنے آئے ہیں، داخلوں میں 45 فیصد اضافہ اور یومیہ حاضری میں تقریباً 30 فیصد اضافہ ہوا ہے، جیسے ہی ہم برازیل میں سکول میلز کے عالمی سربراہی اجلاس میں پاکستان کی آواز لے کر جا رہے ہیں، ہم اپنے ساتھ ایک ایسا روڈ میپ لے کر جا رہے ہیں جو پاکستان کے لئے پاکستان نے بنایا ہے تاکہ دنیا کو دکھایا جا سکے کہ سکول میلز کس طرح لاکھوں بچوں کی زندگیاں بدل سکتے ہیں اور قوم کے روشن مستقبل کی ضمانت دے سکتے ہیں۔

پاکستان ایک فوری چیلنج کا سامنا کر رہا ہے، 2 کروڑ 50 لاکھ سے زیادہ بچے اب بھی سکول سے باہر ہیں، اس صورتحال کے جواب میں وزیرِاعظم نے مئی 2024 میں "ایجوکیشن ایمرجنسی” نافذ کی اور ایک نیشنل ٹاسک فورس قائم کی تاکہ فوری حل تلاش کئے جا سکیں۔ سکول میلز اس جواب کا ایک کلیدی جزو ہیں جو بچوں کی غذائیت اور صحت کو بہتر بناتے ہیں، حاضری کو بڑھاتے ہیں، سیکھنے کے نتائج کو بہتر کرتے ہیں اور کم آمدنی والے خاندانوں پر مالی بوجھ کم کرتے ہیں۔قومی تعلیمی پالیسی ڈویلپمنٹ فریم ورک 2024 (این ای ڈی پی ایف) کے حصے کے طور پر اب سکول میلز کو ملک کی تعلیمی ترجیحات میں مضبوطی سے شامل کر لیا گیا ہے جن میں رسائی، معیار اور تعلیم میں مساوات بھی شامل ہیں۔

 

- Advertisement -
متعلقہ خبریں
- Advertisment -

مقبول خبریں