وفاقی وزیرخزانہ اسد عمر کا پاک چین پبلک آڈٹ سیمینار سے خطاب

اسلام آباد ۔ 10 جنوری (اے پی پی) وفاقی وزیرخزانہ اسد عمر نے کہا ہے کہ آڈٹ کے ادارے کا مضبوط ہونا معاشی ترقی اور استحکام کیلئے ضروری ہے، ٹیکس کے پیسے کو ایمانداری سے خرچ کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے، ہم چین کے آڈٹ نظام سے فائدہ اٹھا کر کرپشن پر قابو پا سکتے ہیں۔ وہ جمعرات کو یہاں پاک چین پبلک آڈٹ سیمینار سے خطاب کر رہے …

اسلام آباد ۔ 10 جنوری (اے پی پی) وفاقی وزیرخزانہ اسد عمر نے کہا ہے کہ آڈٹ کے ادارے کا مضبوط ہونا معاشی ترقی اور استحکام کیلئے ضروری ہے، ٹیکس کے پیسے کو ایمانداری سے خرچ کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے، ہم چین کے آڈٹ نظام سے فائدہ اٹھا کر کرپشن پر قابو پا سکتے ہیں۔ وہ جمعرات کو یہاں پاک چین پبلک آڈٹ سیمینار سے خطاب کر رہے تھے، اس موقع پر آڈیٹر جنرل آف پاکستان جاوید جہانگیر نے بھی خطاب کیا۔ دو روزہ سیمینار میں چین کے نیشنل آڈٹ آفس کا ایک چھ رکنی وفد بھی شرکت کر رہا ہے۔ اس موقع پر وزیرخزانہ نے کہا کہ عوام کے ٹیکسوں کے پیسے کو ایمانداری، شفاف اور دانشمندانہ طریقے سے خرچ کرنا ہماری ذمہ داری ہے، اس حوالے سے آڈیٹر جنرل کا کردار اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت اداروں کو مضبوط کرنے پر یقین رکھتی ہے، سرکاری فنڈز کے بہتراستعمال کو یقینی بنانے اورآڈٹ نظام کی بہتری کیلئے آڈیٹرجنرل آف پاکستان اپنی بھرپور صلاحیت کو بروئے کار لائیں۔ انہوں نے کہا کہ اے جی پی کو سرکاری پیسے کے ایماندارانہ پائیدار اور موثر استعمال کو یقینی بنانے کے لئے ذمہ دارانہ کردار ادا کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ چین کے آڈٹ نظام نے کرپشن کے خاتمے میں اہم کردار ادا کیا، اس سلسلے میں ہم چین کے آڈٹ نظام سے فائدہ اٹھاسکتے ہیں، چین میں بدعنوانی کے خلاف اقدامات کے ذریعے قومی خزانے کی پائی پائی ایمانداری سے خرچ کی گئی، اس میں بڑا واضح پیغام ہے کہ بدعنوانی کے خلاف سخت اقدامات کے باوجود چین نے 9.9 فیصد کی شرح نمو حاصل کی۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت سرکاری شعبہ کے اداروں کو آزاد اور مضبوط بنانے کے لئے پرعزم ہے تاکہ ملک کے عوام کی سماجی و اقتصادی ترقی یقینی بنائی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ سالوں میں پاکستان کی عدلیہ نے زیادہ آزادی حاصل کی ہے اور ایک آزاد عدلیہ کے نتیجہ میں پاکستان ایک بہتر مقام پر ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ اس سیمینار کے نتیجہ میں پاکستان اور چین کو ایک دوسرے کے علم و تجربہ سے استفادہ کرنے کا موقع ملے گا۔ انہوں نے مالیاتی ترقی کے فروغ میں اہم کردار کے پیش نظر نجی و سرکاری شعبے کی شراکت داری کی اہمیت کو اجاگر کیا اور کہا کہ اس سلسلے میں حکومت اس حوالے سے اقدامات کر رہی ہے۔ قبل ازیں آڈیٹر جنرل آف پاکستان جاوید جہانگیر نے اپنے خطاب میں کہا کہ سپریم آڈٹ انسٹی ٹیوشن ملک میں فنانشنل مینجمنٹ اور خدمات کی فراہمی کے سلسلے میں انتظامیہ کے کام کی نگرانی میں پارلیمان کو معاونت فراہم کر رہا ہے، اس کا مقصد ملک میں احتساب کے عمل کو مضبوط اور موثر بنانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے ایونٹس دونوں ممالک کے متعلقہ اداروں کو اپنے نظریات، تجربات اور مہارت کے تبادلہ کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کا تعاون آڈٹ کے طریقہ کار، علم اور مہارتوں کو مزید مضبوط بنانے میں مدد فراہم کرتا ہے۔