وفاقی وزیرِ خزانہ و محصولات، سینیٹر محمد اورنگزیب نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے نیشنل فیس لیس سینٹر کے نفاذ کے روڈ میپ اور آپریشنل تیاریوں کا جائزہ لینے کے لئے اجلاس کی صدارت کی۔ یہ نیا منصوبہ ٹیکس آپریٹنگ ماڈل کے تحت ٹیکس انتظامیہ کو جدید ٹیکنالوجی، مرکزیت اور شفافیت پر مبنی نظام میں تبدیل کرنے کی ایک اہم اصلاحاتی کاوش ہے۔
وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب کی زیر صدارت ایف بی آرکے نیشنل فیس لیس سینٹر کے نفاذ کے روڈ میپ اور آپریشنل تیاریوں کا جائزہ لینے کے لئے اجلاس

مزید خبریں
اسلام آباد۔17جولائی (اے پی پی):وفاقی وزیرِ خزانہ و محصولات، سینیٹر محمد اورنگزیب نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے نیشنل فیس لیس سینٹر کے نفاذ کے روڈ میپ اور آپریشنل تیاریوں کا جائزہ لینے کے لئے اجلاس کی صدارت کی۔ یہ نیا منصوبہ ٹیکس آپریٹنگ ماڈل کے تحت ٹیکس انتظامیہ کو جدید ٹیکنالوجی، مرکزیت اور شفافیت پر مبنی نظام میں تبدیل کرنے کی ایک اہم اصلاحاتی کاوش ہے۔
اجلاس کو منصوبے کے نفاذ کے روڈ میپ پر تفصیلی بریفنگ دی گئی جس میں پراجیکٹ مینجمنٹ یونٹ (پی ایم یو ) کے قیام، گورننس کے انتظامات، ٹیکنالوجی کی ترقی، آپریشنل تیاریوں اور مرحلہ وار نفاذ کی حکمتِ عملی سے آگاہ کیا گیا۔ شرکاء نے پری پائلٹ، پائلٹ اور مکمل نفاذ کے مراحل کے لئے طے کئے گئے اہم اہداف اور سنگ میل بھی پیش کئے تاکہ منصوبے کو بروقت مکمل کیا جا سکے۔
سینیٹر محمد اورنگزیب نے پراجیکٹ مینجمنٹ یونٹ کے قیام میں ہونے والی پیشرفت کو سراہتے ہوئے کہا کہ منصوبے کی کامیابی کے لئے آپریشنل اور ٹیکنالوجی ٹیموں کے درمیان مؤثر ہم آہنگی ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل فیس لیس سینٹر ٹیکس انتظامیہ کو ڈیجیٹلائزیشن، معیاری طریقہ کار اور شفافیت کے ذریعے جدید بنانے کی جانب ایک اہم اصلاحاتی اقدام ہے۔اجلاس میں نئے آپریٹنگ ماڈل کے لئے تیار کئے گئے گورننس فریم ورک کا بھی جائزہ لیا گیاجس میں منصوبے کی نگرانی، رسک مینجمنٹ اور نفاذ کی مانیٹرنگ کے ادارہ جاتی انتظامات شامل ہیں۔ شرکاء نے رسک انجن کی تیاری اور قواعد و ضوابط کی بنیاد پر کیسوں کے انتخاب کے نظام میں ہونے والی پیشرفت سے بھی آگاہ کیا۔
وزیرِ خزانہ نے اس بات پر زور دیا کہ ملک بھر میں نظام کے نفاذ سے قبل ایک مؤثر اور احتیاط سے تیار کیا گیا پائلٹ مرحلہ انتہائی اہم ہے تاکہ نئے آپریٹنگ ماڈل کی جانچ کی جا سکے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ آپریشنل تیاری کو یقینی بنایا جائے، ممکنہ مسائل کی بروقت نشاندہی کی جائے اور حاصل ہونے والے تجربات کی روشنی میں نظام کو مزید بہتر بنایا جائے تاکہ نئے نظام کی طرف منتقلی ہموار ہو۔ اجلاس میں نیشنل فیس لیس سینٹر کے لئے ٹیکنالوجی کی ترقی، کاروباری تقاضوں، ڈیجیٹل انفراسٹرکچر اور سسٹم انٹیگریشن پر ہونے والی پیشرفت کا بھی جائزہ لیا گیا۔ شرکاء کو بتایا گیا کہ منصوبے پر ایجائل طریقہ کار کے تحت عملدرآمد کیا جا رہا ہے تاکہ ترقی کے تمام مراحل میں کاروباری اور ٹیکنالوجی ٹیموں کے درمیان مسلسل تعاون برقرار رہے۔
ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کے تحفظ کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے وزیرِ خزانہ نے کہا کہ معلوماتی سیکیورٹی اور ڈیٹا گورننس کو منصوبے کے نفاذ کا لازمی حصہ بنایا جائے۔ انہوں نے سائبر سیکیورٹی صلاحیتوں اور محفوظ ڈیجیٹل انفراسٹرکچر میں مسلسل سرمایہ کاری کی ضرورت پر زور دیا تاکہ ٹیکس دہندگان کے ڈیٹا کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے اور نئے نظام کی طویل مدتی پائیداری برقرار رہے۔وزیرِ خزانہ نے منصوبے پر باقاعدہ پیش رفت کے جائزے لینے کی بھی ہدایت کی تاکہ اہم اہداف کی بروقت نگرانی، سامنے آنے والے مسائل کا فوری حل اور منصوبے کی مقررہ وقت کے مطابق تکمیل یقینی بنائی جا سکے۔
انہوں نے اس اہم ٹیکس اصلاحاتی منصوبے کے کامیاب نفاذ کے لیے حکومت کے مکمل تعاون کا اعادہ کیا۔ اجلاس میں پاکستان ریونیو آٹومیشن لمیٹڈ (PRAL) کے چیف ایگزیکٹو آفیسر فیصل ستار، چیف ریونیو ڈومین آفیسر زین ساہی، ڈائریکٹر پی ایم یو ضیاء اگرو، ڈائریکٹر پی ایم یو جاوید اقبال، ایڈیشنل ڈائریکٹر پی ایم یو سردار عمر شریف اور وزارتِ خزانہ کے سینئر حکام نے شرکت کی۔








