وفاقی وزیر اطلاعات ونشریات چوہدری فواد حسین کی وفاقی وزیر شماریات خسرو بختیاراور سیکرٹری شماریات ڈویژن کے ہمراہ میڈیا کو بریفنگ

اسلام آباد ۔ 10 جنوری (اے پی پی) وفاقی کابینہ نے ای سی ایل جائزہ کمیٹی کی جانب سے 20افراد کے نام ای سی ایل سے نکالنے کی سفارش مسترد کر دی ہے ،جعلی اکاﺅنٹس معاملے میں172افراد کے نام ای سی ایل میں برقرار ہیں،سپریم کورٹ کے تفصیلی فیصلے کے بعد ای سی ایل میں ڈالے گئے ناموں کا جائزہ یا فیصلے پر نظر ثانی کی اپیل دائر کرسکتے ہیں …

اسلام آباد ۔ 10 جنوری (اے پی پی) وفاقی کابینہ نے ای سی ایل جائزہ کمیٹی کی جانب سے 20افراد کے نام ای سی ایل سے نکالنے کی سفارش مسترد کر دی ہے ،جعلی اکاﺅنٹس معاملے میں172افراد کے نام ای سی ایل میں برقرار ہیں،سپریم کورٹ کے تفصیلی فیصلے کے بعد ای سی ایل میں ڈالے گئے ناموں کا جائزہ یا فیصلے پر نظر ثانی کی اپیل دائر کرسکتے ہیں ،وفاقی کابینہ نے ای سی سی کے فیصلوں،ائیر مارشل ارشد محمود کو پی آئی اے کے سی ای او ،شاہ رخ نصرت کو ڈی جی سول ایوی ایشن اور کمشنر اسلام اباد عامر علی احمد کو سی ڈی اے چیئرمین کااضافی چارج ، ریئر ایڈمرل اطہر کو ایم ڈی کراچی شپ یارڈ انجینئرنگ ،صالح محمد کو سیکرٹری ٹریڈ ڈویلمنٹ بمعہ ڈویلپمنٹ کمپنی کراچی کا اضافی چارج ،عائشہ عزیز کو ایم ڈی انوسمنٹ کمپنی تعینات کرنے ،ٹوبیکو بورڈ میں دو ہفتوں کی توسیع کے علاوہ سولر پاورٹیرف جنریشن کی منظوری دیدی ہے،وزیراعظم ہاﺅس میں 44ہزار بجلی کی یونٹس کے استعمال پر وزیر اعظم نے نوٹس لیتے ہوئے آڈٹ کا حکم دیدیا ہے ،وزیراعظم نے ہدایات دیں ہیں کہ اووسیز پاکستانوں کے لئے روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لئے 48گھنٹوں میں نیگیٹوکیٹگری فہرست فراہم اور وزارت پیٹرولیم گیس کے حوالے سے جامع پالیسی لائی جائے۔جمعرات کو وفاقی وزیر اطلاعات ونشریات چوہدری فواد حسین نے وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد وفاقی وزیر شماریات خسرو بختیاراور سیکرٹری شماریات ڈویژن کے ہمراہ میڈیا کو بریفنگ دے رہے تھے ۔وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات چوہدری فواد حسین نے کہا کہ جعلی اکاﺅنٹس کا معاملہ 2015میں شروع ہواجسمیں سندھ حکومت کی اہم شخصیات بشمول وزیراعلی سندھ مراد علی شا ہ،آصف علی زرداری ،فریال تالپور اس سکینڈل میں مرکزی کردار ہیں ،سندھ حکومت کے اربوں روپے بذریعہ مراد علی شاہ ،اومنی گروپ ،دوبئی ،لندن ،پیرس اور دیگر ممالک تک پہنچے ہیں ،جعلی اکاﺅنٹس کی تحقیقاتی رپورٹ 2018میں تحقیقاتی رپورٹ پیش کی گئی جس میں جے آئی ٹی کی سفارش پر 172افراد کے نام کابینہ نے ای سی ایل میں ڈالے تھے ،وزارت داخلہ کی ای سی ایل جائزہ کمیٹی نے کابینہ کے اجلاس کے دوران 20لوگوں کے نام نکالنے کی سفارش کی جسے کابینہ نے مسترد کر دیا ۔وزارت قانون و انصاف نے کابینہ کو بتایا کہ سپریم کورٹ کا تفصیلی فیصلہ تاحال موصول نہیں ہوا ،اجلاس میں فیصلہ ہوا کہ عدالتی فیصلے کا جائزہ لینے کے بعد ای سی ایل میں ڈالے گئے ناموں کا جائز ہ لینے یا عدالتی فیصلے پر نظر ثانی اپیل دائر کرنے کا فیصلہ کیا جائے گا ،کابینہ کی ایک کمیٹی قائم کی گئی جس میں وزیر قانون و انصاف فروغ نسیم ،وزیر مملکت داخلہ شہریار آفریدی، وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر ،سیکرٹری داخلہ شامل ہونگے ،اس کمیٹی کو ٹاسک دیا گیا ہے کہ وہ172ناموں کا جائزہ لیں ،کس کا کیا کردار تھا ، اس بارے جائزہ لینے کے بعد اپنی سفارشات وفاقی کابینہ کے سامنے رکھیں ۔وفاقی وزیر چوہدری فواد حسین نے کہا کہ یہ امر باعث اطمینان ہے کہ معاشی پالیسوں کے ثمرات آنے شروع ہوگئے ہیں ،دسمبر 2018سے اب تک پرائیویٹ سیکٹر نے بینکوں سے504ارب روپے کے قرض حاصل کیے ہیں، پچھلے سال 304ارب کے قرض حاصل کیے گئے تھے ،اس سال کا اضافہ گذشتہ 13سالوں میں سب سے زیادہ ہیں ،ایکسپورٹ میں اضافہ معاشی پالیسی کا اہم جزو ہے ،ایک ماہ میںبرآمدت میں 4.5فیصد اضافہ اور درآمدات میں 8.5فیصد کمی ہوئی ہے اسی طرح تجارتی خسارہ میں بھی 19فیصد کمی ہوئی ہے جو کہ 540ملین ڈالر ہے ۔وفاقی وزیر چوہدری فواد حسین نے کہا کہ کابینہ کے اجلاس کے دوران وزیراعظم نے وزارت قانون کو ہدایت دی کہ 48گھنٹو ں میں اووسز پاکستانیز کو نوکریوں کے مواقع فراہم کرنے کے لئے نیگیٹوکیٹگری کی فہرست فراہم کی جائے،موجودہ حکومت دوہری شہریت کے حامل باصلاحیت لوگوں کے لئے وسیع مواقع فراہم کرنا چاہتی ہے۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے وزارت پیٹرولیم کو ہدایت دی کہ وہ گیس کے حوالے سے جامع پالیسی سامنے لائیں ،اس وقت ملکی مجمو عی آبادی کا 28فیصد سوئی گیس (سسٹم گیس) ،63فیصد ایل پی جی گیس استعمال کر تے ہیں ،اس وقت ملک کی اکثریت گیس سے محروم ہے اسکی مختلف وجوہات ہیں ،گیس کے آئن سٹائن شاہد خاقان عباسی نے جب وزارت پیٹرولیم سنبھالی تو اس وقت گیس کی دونوں کمپنیاں منافع میں تھی ،2018میں جب حکومت چھوڑی تو دونوں کمپنیاں 157ارب کی مقروض تھیں اور 150ارب کی گیس چوری تھی ،وزیراعظم نے اس معاملے پر جامع حکمت عملی لانے کی ہدایت دی ہے ۔انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت سندھ میں ڈویلپمنٹ کا کام کرنا چاہتی ہے کیونکہ وہاں کے عوام نے بھی پی ٹی آئی کو مینڈیٹ دیا ہے لیکن اس پرانے سسٹم کو فنڈز نہیں دے سکتے ، اس کے لئے کراچی ڈویلپمنٹ کمپنی کو فعال کیا جارہا ہے ،یو اے ای کی جانب سے فلٹر پلانٹ کی منظوری کے بعد کراچی کے شہریوں کو پینے کا صاف پانی میسر ہوگا ۔انہوں نے کہا کہ وفاقی کابینہ نے فیصلہ کیا کہ پی آئی اے ،سی ڈی اے علاوہ ڈویلپمنٹ اتھارٹیز کے سربراہی پرائیویٹ سیکٹر کو دی جائے گی تا کہ ماہر لوگ آگے آئیں اور پیشہ وارانہ کام کو سنبھالیں ۔ایک سوال کے جواب میں وفاقی وزیر چوہدری فواد نے کہا کہ جے آئی ٹی کی سفارش پر ڈالے گئے نام ای سی ایل میں برقرار رہیں گے، سپریم کورٹ کے تفصیلی فیصلے کے بعد اس معاملے پرغور کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی حکومت کی معاشی ٹیم ملک میں بے روزگاری، توانائی بحران کے خاتمے ،ترقی کے اہداف کے لئے دن رات کام کر ہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ پی آئی اے میں بہتری ہورہی ہے ،جلد اصلاحاتی پیکیج سے میڈیا اور قوم کو آگاہ کرینگے ۔