وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز کا” کشمیر محاصرے میں “کے عنوان سے سیمینار سے خطاب

اسلام آباد ۔ 24 جولائی (اے پی پی) وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز نے کہا ہے کہ دنیاکے سامنے سب سے بڑی جمہوریت کا دعویٰ کرنے والی مودی سرکاری بتائے کہ نہتے کشمیروں پر ظلم، بربریت، جبری گمشدگیاں، خواتین کی صمت دری، خواتین،بچوں اور بزرگوں کو پیلٹ گنوں کے ذریعہ نابینا بنانا کیسی جمہوریت ہے، وزیراعظم عمران خان کی سربراہی میں ہم مسئلہ کشمیر کو تمام بین …

اسلام آباد ۔ 24 جولائی (اے پی پی) وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز نے کہا ہے کہ دنیاکے سامنے سب سے بڑی جمہوریت کا دعویٰ کرنے والی مودی سرکاری بتائے کہ نہتے کشمیروں پر ظلم، بربریت، جبری گمشدگیاں، خواتین کی صمت دری، خواتین،بچوں اور بزرگوں کو پیلٹ گنوں کے ذریعہ نابینا بنانا کیسی جمہوریت ہے، وزیراعظم عمران خان کی سربراہی میں ہم مسئلہ کشمیر کو تمام بین الاقوامی فورمز پر اجاگر کرنے کے لئے تمام کوششیں بروئے کار لائیں گے، پاکستان حق خودارادیت کے حصول تک کشمیریوں کی سیاسی، سفارتی، اخلاقی حمایت جاری رکھے گا۔ وہ جمعہ کو وزارت اطلاعات و نشریات کے زیر اہتمام کشمیر محاصرے میں کے عنوان سے سیمینار سے خطاب کر رہے تھے۔ سیمینار میں وفاقی سیکرٹری اطلاعات و نشریات اکبر حسین درانی نے خطبہ استقبالیہ پیش کیا جبکہ صدر آزاد و جموں کشمیر سردار مسعود خان، سینیٹر ولید خالد، قائداعظم یونیورسٹی کے شعبہ سکول آف پولیٹیکل اینڈ انٹرنیشنل ریلیشن کے ڈاکٹر راجہ قیصر احمد، پروفیسر منور حسین، الجزیہ کے احمد برکت،فرزانہ یعقوب سمیت دیگر مقررین نے بھی خطاب کیا۔وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز نے کہا کہ کشمیری مسلمان گذشتہ 7دہائیوں سے محکومیت کا شکار ہیں، موجودہ ہندوستانی حکومت نے 5 اگست 2019ءکو بھارتی مقبوضہ جموں و کشمیر میں ایک اور جارحیت کرتے ہوئے انسانیت کی تمام حددیں عبورکردیں، گذشتہ 70سالوں بھارت غیر قانونی طور پر مقبوضہ کشمیر پر قابض ہے، بھارت کے مظالم اور بربریت ایک طرف مودی حکومت کے کشمیر میں نسل کشی کی کارروائیاں ایک طرف ہیں۔انہوں نے کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ سابقہ بھارتی حکومتوں نے مقبوضہ کشمیر کو کشمیر کو اٹوٹ انگ قرار دیا لیکن مقبوضہ ریاست کی آئینی حیثیت کوبرقرار رکھا۔ انہوں نے کہا کہ مودی سرکار نے مقبوضہ کشمیر کو خصوصی حیثیت دینے والے بھارتی آئین کے آرٹیکل 370 اور 35 اے کو منسوخ کرکے تمام سابقہ دہلی حکومتوں کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت گذشتہ کئی سالوں سے مقبوضہ کشمیر میں حق خودارادیت کو دبانے میں لگا ہوا ہے لیکن اسے اب تک کامیابی نہیں ہوسکی۔ انہوں نے کہا کہ پاک بھارت برصغیر کی آزادی کے فوراً بعد ہی غیر ملکی دارالحکومتوں میں یہ تاثر پیدا کیا گیا کہ ہندوستان اپنے سابقہ وزیراعظم جواہر لال نہرو کے تقدس کو پامان نہیں کررہا، یہ نہرو ہی تھے جنہوں نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں وعدہ کیا کہ وہ کشمیری عوام کی ذاتی رائے جاننے کے لئے رائے شماری منعقد کی جائے گی، لیکن بدقسمتی سے آج تک ایسا نہیں ہوا، کشمیریوں کو ان کا حق دینے کی بجائے ان کے جسم کو گولیوں سے چھید دیا گیا، جبر، ریاستی مشینری کے غلط استعمال کرتے ہوئے اپنے حق کے لئے آواز بلند کرنے والوں کو اغواءکر کے برسوں کے لئے غائب کر دیا جاتا ہے، جبری گمشدگی پر احتجاج کرنے والی خواتین پر بے رحم بھارتی فوجی اجتماعی عصت دری کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اب جبکہ آرٹیکل 370 اور 35 اے کو منسوخ کرنے کو ایک سال گزر گیا ہے، آزادی کے لئے جدوجہد کرنے والے نہتے کشمریوں کو بھارتی ظالموں اور بے رحم قوتوں کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مودی سرکار کی ایماءپر بھارتی فوج مقبوضہ کشمیر میں محاصرے، لاک ڈاو¿ن اور مواصلات کی مکمل بندش اور پرامن کشمیری نوجوانوں اور بچوں کو پیلٹ گنوں کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ مقبوضہ کشمیر میں جبری کمشدگیوں کا عمل شدت اختیار کر گیا ہے، بھارتی فوج کو آرمڈ فورسز اسپیشل پاور ایکٹ (ا ے ایف ایس پی اے) اور پبلک سیفٹی ایکٹ (پی ایس اے) کے تحت لامحدود اختیارات دیدیئے گئے ہیں۔ دنیا کے کسی بھی ملک میں سرچ وارنٹ کے اختیارات عدالتوں کو حاصل ہیں لیکن مقبوضہ کشمیر میں تعینات فوجیوں کو ایسے کسی سرچ وارنٹ کی ضرورت نہیں وہ جب چاہیں جس کے گھر چاہیے داخل ہو کر مشکوک افراد کی تلاشی کے بہانے وہاں رہنے والوں کی تذلیل کر تے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کالے قوانین کی آڑ میں جبری گمشدہ ہونے والے افراد کی کثیر تعداد واپس گھروں میں نہیں پہنچ سکی، ہزاروں بیوائیں ہوچکیں ہیں اورکچھ آدھی بیوہ اور کچھ آدھے یتیم بچے ہیں۔ وفاقی وزیر شبلی فراز نے کہا کہ وادی کشمیر میں اجتماعی قبروں کی دریافت نے بھارتی مظالم دنیا کے سامنے بے نقاب کر دیا گیا ہے، یہ سب جمہوری طور پر منتخب حکومت کی سرپرستی میں ہو رہا ہے جو غرور اور گھمنڈ کے ساتھ ساتھ جمہوریت کا دعوی کرتے ہوئے ہندوستان کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کیا جمہوریت کا یہ ہندوستانی ورژن کشمیری مسلمانوپر حملہ کرنے اور غلامی کے بارے میں ہے؟ ہوسکتا ہے کہ عالمی برادری اس سوال کا جواب نہ دے سکے لیکن میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ وزیراعظم عمران خان کی سربراہی میں، ہم نے مسئلہ کشمیر کو تمام بین الاقوامی سطح پر اجاگر کرنے کے لئے تمام کوششیں بروئے کار لائیں گے،پاکستان حق خودارادیت کے حصول تک کشمیریوں کی سیاسی،سفارتی،اخلاقی حمایت جاری رکھے گا۔ وفاقی وزیر غذائی تحفظ و تحقیق سیّد فخر امام نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر تقسیم برصغیر کا نامکمل ایجنڈے ہے، امریکہ میں ایسا سیا فارم غیر قانونی قتل ہوتا ہے تو دنیا بھر میں احتجاج ہوتا ہے لیکن مقبوضہ کشمیر میں روز بھارتی فوج کے ہاتھوں نہتے کشمیری قتل ہوتے ہیں تو اس پر عالمی برادری کیوں خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق سے متعلق رپورٹ میں بھارتی مظالم کا پردہ چاک کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جدوجہد آزادی کشمیر انصاف پر مبنی ہے، وزیراعظم عمران خان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں بھارتی کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر مسئلہ کشمیر جرات سے پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نے حیدر آباد، جونا گڑھ کی ریاستوں پر غا صبانہ قبضہ کر رکھا ہے۔وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے قومی سلامتی امور ڈاکٹر معید یوسف نے کہا کہ دنیا بھر کے عالمی ذرائع ابلاغ نے بھارت کی حکومت کو فاشٹ قرار دیدیا ہے،موجودہ حکومت کی موثر سفارتکاری سے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال دنیابھر میں اجاگر ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ تاریخ اٹھا کر دیکھیں تو نازی ہلٹر اور مودی حکومت کی یکساں پالیسی ہے، بھارت عالمی معاہدوں کے تحت مقبوضہ کشمیر میں وباءسے نمٹنے کے لئے علاج فراہم کرنے کا پابند ہے۔انہوں نے کہا کہ آج یہ صورتحال ہے کہ بھارت کا چھوٹا سا ہمسایہ ملک نیپال بھارت کے خلاف اٹھ کھڑا ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی حکومت اور فوج کی بے شرمی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ پاکستان نے جذبہ خیر سگالی کے طور پر جس پائلٹ کو بھارت کے حوالے کیا تھا بھارت اسے بھی ہیرو بنا کر پیش کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی حکومت اور فوج کی اس ظلم اور بربریت کے بعد کشمیر کا بچہ بچہ بھارت اور اسکی فوج سے شدید ترین نفرت کرتے ہیں لیکن یہ افسوس کی بات ہے کہ عالمی برادری نے بھارتی ظلم اور بربریت پر آنکھیں بند کی ہوئی ہیں۔

مزید خبریں