اسلام آباد ۔ 31 اگست (اے پی پی) وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات چوہدری فواد اور سینیٹر اعظم سواتی نے کہا ہے کہ الیکشن 2018ءصاف، شفاف اور غیر جانبدار تھا، الیکشن کی رات 2 بجے تک الیکشن کمیشن کو 51 فیصد نتائج موصول ہوئے تھے، یکدم آر ٹی ایس بند ہونے سے نتائج کی منتقلی متاثر ہوئی ہے، فرانزک ماہرین کی خدمات لے کر یہ معلوم کیا جا سکتا ہے …
وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات چوہدری فواد اور سینیٹر اعظم سواتی کی پریس کانفرنس

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 31 اگست (اے پی پی) وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات چوہدری فواد اور سینیٹر اعظم سواتی نے کہا ہے کہ الیکشن 2018ءصاف، شفاف اور غیر جانبدار تھا، الیکشن کی رات 2 بجے تک الیکشن کمیشن کو 51 فیصد نتائج موصول ہوئے تھے، یکدم آر ٹی ایس بند ہونے سے نتائج کی منتقلی متاثر ہوئی ہے، فرانزک ماہرین کی خدمات لے کر یہ معلوم کیا جا سکتا ہے کہ آر ٹی ایس کیوں، کس وقت اور کس طرح اچانک بند ہوا ہے، 200 سے 300 پریذائیڈنگ افسران کے موبائل کا فرانزک آڈٹ کیا جائے، فارم 45 کی تصاویر اور الیکشن کمیشن کی ویب سائٹ پر اپ لوڈ ہونے والے نتائج کے ساتھ موازنہ کیا جائے تو دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا، آر ٹی ایس پر الیکشن کمیشن کا کوئی کنٹرول نہیں تھا، نادرا ہی آر ٹی ایس سمیت تینوں سرورز کو چلا رہی تھی، نادرا کے چیئرمین سمیت ٹیکنیکل ٹیم کو غیر جانبدارانہ تحقیقات کے لئے عارضی طور پر عہدوں سے ہٹایا جائے تاکہ صاف شفاف تحقیقات یقینی بنائی جا سکیں، الیکشن کمیشن سے پہلے شہباز شریف کو کیسے معلوم ہو گیا کہ آر ٹی ایس بیٹھ گیا ہے۔ جمعہ کو وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات چوہدری فواد حسین نے سینیٹر اعظم سواتی کے ہمراہ میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ عام انتخابات کے نتائج کے بعد ہر طرف سے آر ٹی ایس پر اعتراض اٹھائے جانے کا عمل شروع ہوا، وزیراعظم عمران خان نے پہلی ہی بریفنگ میں یہ واضح کیا تھا کہ دھاندلی کے ثبوت سامنے لائے جائیں تو حکومت اس پر تحقیقات کرے گی، حکومت اس حوالے سے تحقیقات کو آگے بڑھانے کے لئے تیار ہے، حکومت یہ چاہتی ہے کہ الیکشن نتائج پر کوئی انگلی نہ اٹھا سکے، اس کے لئے عمران خان نے پوری ایک لڑائی لڑی ہے، اسی لئے ایک غیر جانبدار ایمپائر کو یہ ٹاسک سونپا گیا کہ وہ اس معاملے کی تحقیقات کرے۔








